• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب عدالتیں قائم کرنے کے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری


سپریم کورٹ نے ملک میں 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے کیس میں آج کی سماعت پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ طویل عرصے تک ججز کی تعیناتیاں نہ کرنے کی وجہ کیا ہے، برسوں سے عدالتوں میں ججز تعینات نہیں ہیں اور مقدمات زیر التوا ہیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ نیب کے زیر التوا مقدمات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ سیکڑوں کی تعداد میں احتساب عدالتیں ہونی چاہئیں، نیب کی جانب سے باقاعدگی سے مقدمات دائر ہو رہے ہیں لیکن احتساب عدالتیں مکمل طور پر جمود کا شکار ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ سیکرٹری قانون، مجوزہ 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے سے متعلق وفاقی حکومت سے ہدایات لیں، نئی عدالتیں قائم کرنے اور ججز تعینات کرنے سے مقدمات تیزی کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹائے جاسکیں گے۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ نیب کی جانب سے یہ وضاحت نہیں دی گئی کہ 20 ،20  سال پرانے مقدمات کیوں زیر التوا ہیں، عدالت توقع کرتی ہے کہ احتساب عدالتوں کے ججز کی تعیناتیاں ایک ہفتے میں مکمل کرلی جائیں گی، اگر ایک ہفتے میں ججز کی تعیناتیاں نہ کی گئیں تو غفلت برتنے والے حکام کے خلاف کارروائی ہو گی۔

حکم نامہ میں کہا گیا کہ حکومت فوری احتساب عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کرے تاکہ زیر سماعت مقدمات کا 3 ماہ میں فیصلہ ہو سکے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت سےطلب کر لیا گیا ہے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب کی دستخط شدہ رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں۔

حکم نامہ میں کہا گیا کہ اگر احتساب عدالتوں کی تعداد میں اضافہ نہ کیا گیا تو پورا نیب قانون بے وقعت ہو جائے گا، جبکہ قانون کو بے وقعت کرنا بظاہر قانون بنانے والوں کا مقصد نہیں تھا۔

تازہ ترین