آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمیراوربوسنیا کےمسلمان

تحریر :محمد رجاسب مغل ۔۔۔بریڈفورڈ


بریڈفورڈ دنیا کا واحد شہر ہے جہاں انسانی حقوق اور ظلم و جبر کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جاتی ہے، کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو یا بوسنیا کے شہدا ہوں سرکاری طور پر ان کی یاد میں پرچم لہرایا جاتا ہے، بریڈفورڈ ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے جس نے بوسنیائی شہداء کے لیے ٹائون ہال کے پیس گارڈن میں یادگاری پتھر نصب کیا، ہر سال جولائی میں بریڈفورڈ سٹی ہال میں بوسنیا کے حوالے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، وہ سالہا سال سے مختلف تہذیبوں کے درمیان بڑھنے والی نفرتیں جن کا انجام انسانیت کا قتل عام ہوتی ہیں، اس کے خلاف متحد ہونے کا عزم کیا جا تا ہے،13 جولائی کے دن کو دنیا کی تاریخ میں بد ترین دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ سری نگر جیل کے باہر22 کشمیریوں کو محض اس لیے شہید کیا گیا کیوں کہ وہ اپنی اذان کو جاری رکھنا چاہتے تھے، اسی طرح 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کرتے ہوئے بوسنیا کے شہر سریبرینیتسا پر قبضہ کر لیا اور اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی عدالت نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔یہ واقع عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پرطماچہ اور اقوام متحدہ کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے بوسنیا کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے سریبرینیتسا میں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں ،بوسنیا کا یہ شہر سونے، چاندی اور دیگر کانوں سے مالا مال ہے عثمانی خلافت 1453 میں جب پورے روم کو خاک چٹاتے ہوئے ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہے جس میں ہر فرد احساس، رواداری اور مساوات کے اندر رہ کر ترقی کرتا ہے لیکن یہ مساواتی حقوق، جمہوری انسانی حقوق سے مختلف ہوتے ہیں، اور یہی بات مغربیوں اور تمام غیر مسلموں کو کھٹکتی ہے جس کی بنا پر وہ آپس میں لاکھ اختلافات کے باوجود اسلام کے خلاف اکٹھا ہوجاتے ہیں۔ بار بار شکست کھانے کے باوجود مغربی عیسائیوں نے موقع کی تلاش جاری رکھی اور بالٓاخر 1875 میں بوسنیا ہرزیگوینا پر قبضہ کرلیا۔ عثمانی خلافت تو چلی گئی لیکن اپنے پیچھے بوسنیا کے سلواکی مسلمان چھوڑ گئی جس کی وجہ سے یورپ کے بیچ میں انہیں بار بار اسلام کا نام لینا پڑتا تھا۔ پہلے پہل تو بوسنیا کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت دینے اور استصواب رائے سے آزاد ریاست کا چکمہ دیا گیا لیکن پھر نہایت پھرتی سے بڑی طاقتوں کی سفارتکاری کی کوششوں سے صرف تین سال بعد یعنی 1878 میں ہی ان کی آزادی کےلیے کیا گیا ڈیکلریشن پکڑ کر پھاڑ دیا گیا اور انہیں سربیا مونٹی نیگرو میں ضم کردیا گیا۔ یہ بھی پہلے ہی طے کرلیا گیا کہ بوسنیا ہرزیگوینا بعد میں آسٹریا کے ماتحت ایک کالونی کی طرز پر قائم رہے گا، کیونکہ آسٹریا اور ہنگری کی فوجوں نے ہی بوسنیا ہرزیگوینا پر قبضہ کرنے میں سربیا کا ہاتھ بٹایا تھا۔آسٹریا اور ہنگری نے کالے قوانین کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے عیسائیوں کی آباد کاری شروع کر دی تھوڑے ہی عرصے میں اس علاقے میں عیسائی آبادی تین فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد ہو گئی ۔ مسلم آبادی نے اس کے خلاف بہت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ فوجیوں کو پتھر مارے، ہاتھوں کی زنجیر بنائی، حریت رہنمائوں نے بھوک ہڑتالیں کیں لیکن نتیجہ صفر رہا بوسنیا کو حق خودارادیت نہیں ملا بوسنیا کے کروشین عیسائی نسل پرستوں نے اپنے ہم مذہب اور ہم خیال نو آبادی کو خوش آمدید کہا۔ اس سب کے باوجود بوسنیا کے مسلمانوں اور باقی نسل پرست اور قوم پرست عیسائیوں میں دو قومی نظریہ باقی رہا اور وہ کبھی ایک قوم نہ بن سکے۔ حالانکہ عیسائیوں کے دونوں فرقے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں مسلمانوں کے خلاف یک جان دو قالب ہوگئے تھے، چاہے نسلاً وہ سرب تھے یا کروٹ۔آسٹریا نے مزید کوشش کرتے ہوئے برلن میں عیسائی قوم پرستوں کی ایک کانفرنس بلائی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی اور سفارتی طور پر مسلمانوں کو الگ رکھا جائے تاکہ یہ کوئی الائنس نہ بناسکیں اور ان کو دبانے میں ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اس کے ساتھ عیسائی بشپس کو علاقے میں تعینات کیا گیا اور اسی طرح سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی طور پر انہیں تبدیل کرنے کی کوششیں بھی شروع کردی گئیں۔ 144سال کے دوران بوسنیا میں کئی نسلیں آئی اور گئیں، معاملات کو سیاسی اور سفارتی طور پر حل کرنے کی متعدد کوششیں ہوتی رہیں، کئی سیاسی، کمیونسٹ اور جمہوری رہنما آئے اور گئے لیکن مسئلہ جوں کا توں رہا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایک بار پھر یورپ میں بوسنیا کی بازگشت سنائی دی۔ سب مغربی اور بڑی طاقتیں پھر اکٹھی ہو گئیں نتیجہ 1991 سے 1995 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں کے اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتی اور اجتماعی نسل کشی کی وہ مثال قائم کی گئی جس سے روح کانپ اٹھتی ہے ۔اسی طرح تحریک کشمیر کو بھی دیکھا جائے تو یہ تحریک بھی پاکستان کے قیام کے قبل سے جاری اور ساری ہے جس کا ثبوت 13 جولائی 1931 ہے اس دن کو عوامی تحریک جو پہلے سے اٹھی ہوئی تھی اپنے استحصال کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے یہی وہ دن تھا کہ جب سری نگر کی سنٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ فوج نے بدترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 22 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا .اس افسوناک واقعہ کی شروعات 21 جون 1931 سے ہوئی جب خطبہءعید کی بندش اور توہین قرآن کے خلاف احتجاج کے دوران عبدالقدیر نامی نوجوان کو بغاوت کا مقدمہ بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، 13 جولائی1931 کو مقدمے کی سماعت کے دوران ہزاروں کشمیری سری نگر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہوئے نعرے بلند ہو رہے ہیں کشمیر کی وادی میں ایک تہلکہ مچا ہوا ہے سرینگر کے بازار بند ہیں کہ وقت ظہر آن پہنچتا ہے ۔ادھر ایک نوجوان اٹھتا ہے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوتی ہے، ادھر سامراج کی بندوق سے گولی نکل کر اس ریاست کے باشندے کی سانسوں کے رشتے کو توڑ دیتی ہے پھر دوسرا اٹھتا ہے جس لفظ پر جانے والے نے دم توڑا ہوتا ہے اسی جگہ، اسی ہجے سے شروع کرتا ہےلیکن سامراج کی جانب سے وہی منظر دہرایا جاتا ہے مگر کشمیریوں کو تم مار تو سکتے ہو مگر خوفزدہ نہیں کر سکتے کی عملی صورت دیکھنے کے لئے تیسرا نڈر کشمیری اٹھتا ہے انہی الفاظ پر لب ہلانا شروع کرتا ہے جن پر اس سے پہلے والے نے دم توڑ ڈالا تھا، سامراج کے بوٹوں والوں کو طیش آتا ہے گولی سینے کے آر پار ہو جاتی ہے آواز حلق میں رہ جاتی ہے کہ بوٹوں والے فق رہ جاتے ہیں کہ مجمع سے ایک اور صدا بلند ہوتی ہے ایسے ہی الفاظ ایسی ہی روانگی، وہی جوش، وہی ہمت، پھر بندوق چلنا شروع ہوتی ہے اور وہی منظر اپنے آپ کو کم و بیش 22 مرتبہ دہراتا ہے اور یوں 22 کشمیری اپنی ابدی زندگی کو کوچ کر جاتے ہیں کشمیر کے واقعات اور بوسنیا کی تاریخ کا موازنہ کیا جائے تو یہ ملتی جلتی تحریکیں ہیں دونوں ہی نے حق خودارادیت کے لیے جانوں کے نذرانے دئیے کشمیر پر بھارت کا کردار سرب افواج جیسا ہی ہے دونوں ہی اقوام متحدہ کے رحم وکرم رہے ،صدیوں سے جاری تنازعات کےپس منظر میں دیکھا جائے تو گذشتہ کئی صدیوں سے امن کی صورتِ حال خاصی خراب رہی چاہے ،وہ مشرقِ وسطیٰ ہویا افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا ہو یا پھر مشرقی یورپ ، جنگوں اورتنازعات کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں۔ اگر صرف بھوک ہڑتالوں، سیاسی و سفارتی محاذ فتح کرنے اور نظربندیاں جھیلنے سے آزادی ملنی ہوتی تو شاید دنیا کی حالت زار ایسے نہ ہوتی اور دنیا کے مسلمان بوسنیا، روہنگیا، عراق، فلسطین، یمن، شام اور کشمیر میں سسک نہ رہے ہوتے۔ وہ اب تک آزاد ہوچکے ہوتےاصل فیصلہ فریق کو خود کرنا ہے کہ اسے اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی مدد چاہیے یا وہ اپنی مدد آپ کریں گے؟ کشمیر بن جائیں یا پھر بوسنیا بنادیے جائیں گے۔

یورپ سے سے مزید