پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور یو اے ای نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے۔
مسلم ملکوں نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر غزہ میں پابندیاں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اپیل کردی۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کھولنے پر زور دیا۔
8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بارشوں اور طوفان نے غزہ کی انسانی صورتِ حال سنگین بنا دی ہے، موسم کی شدت نے غزہ پٹی کی نازک حالت بے نقاب کردی ہے۔ سرد موسم میں زیر آب آئے خیموں اور غذائی قلت نے انسانی زندگی کو خطرات بڑھا دیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں ناکافی انسانی رسائی، زندگی بچانے والی بنیادی اشیا کی شدید قلت ہے، مسلم ممالک کے وزراء نےکہا شدید موسم نے نازک حالت کو بے نقاب کردیا ہے، تقریباً 19 لاکھ افراد غیر مناسب پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں، سرد موسم میں کھلے مقامات پر رہائش اور غذائی قلت نے خطرات بڑھا دیے ہیں، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے یو این اداروں اوربین الاقوامی تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا اور کہا اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ امدادی کام کرنے دے، انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کیلئے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اسرائیل پر غزہ میں پابندیاں ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالے اور اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔