آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وَن یونٹ بنگلہ مڈل کلاس خاندانوں کی ترجیح

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹے یا محدود رقبے پر تعمیر شدہ ایک یا ڈیڑھ منزلہ گھر ہوتا ہے جس میں فرنٹ پورچ کے لیے بھی تھوڑی سی جگہ ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں وَن یونٹ بنگلو کی یہ تعریف کسی حد تک دُرست مانی جاسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وَن یونٹ بنگلو کا تصور اور سوچ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کے ڈیزائن اور مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وَن یونٹ بنگلہ مناسب قیمت پر مل جانے والا یا تعمیر ہونے والا ایک ایسا گھر ہوتا ہے جو سادگی اور کاریگری کا بہترین امتزاج مانا جاتا ہے۔ 

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے، جس کی وجہ سے وَن یونٹ بنگلے ہمارے یہاں بہت مقبول ہیں۔ ’’امریکن بنگلو میگزین‘‘ کے مطابق، اس طرح (وَن یونٹ بنگلہ) کے گھر اوسط آمدنی رکھنے والے گھرانوں کو مناسب قیمت میں اپنی چھت فراہم کرتے ہیں، جو اچھی ساخت کے ساتھ اسٹائلش اندازِ تعمیر لیے ہوتے ہیں۔

وَن یونٹ بنگلو کے خدوخال

وَن یونٹ بنگلے ایک یا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ منزلہ ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ منزلہ سے مراد یہ ہے کہ بنگلے کی دوسری منزل پر مجموعی رقبہ کے زیادہ سے زیادہ آدھے حصے پر تعمیر کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے ڈیزائن کا تعلق ہے تو اس کا استعمال انگریز کے برصغیر میں آنے سے قبل بھی موجود تھا۔ ’’بنگلہ‘‘ کا استعمال کسی چھوٹی سی عارضی قیام گاہ کے لیے کیا جاتا تھا۔ 19ویں صدی میں ڈیزائن کی مختلف جدتوں سے گزرتا ہوا ’’بنگلہ‘‘ امریکا میںاس حد تک معروف ہوچکا تھا کہ بعد میں لوگ اسے ’’امریکی خواب‘‘ سے تشبیہہ دینے لگے۔ بنگلے کے ڈیزائن میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت آتی گئی۔ آج ایک بنگلہ عمومی طور پر بیڈ روم، لیونگ روم، ڈائننگ ایریا، کچن، ٹیرس اور فرنٹ پورچ پر مشتمل ہوتا ہے۔ 

کئی بنگلوں میں برآمدہ بھی بنایا جاتا ہے، جو گھر کے بیرونی حصے میں موجود لیونگ ایریا کو روشن، کشادہ اور وضع دار بناتا ہے۔ ایک شاندار لاؤنج، ٹی وی دیکھنے کے ساتھ سستانے کی بہترین جگہ ہوسکتی ہے، جہاں آپ سکون سے اپنے پسندیدہ ناول اور موسیقی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اگر جگہ ہو تو بنگلے کے باہر منی سوئمنگ پو ل کا بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے، لینڈ اسکیپ ڈیزائنرز ایسی جگہوں پر خاص توجہ دیتے ہیں، جو بنگلے کے بیرونی حصے کو سنوار دیں۔ 

مزید برآں، حَسِین رنگوں کی آمیزش، جدید روشنیوں اور دلکش لوازمات سے سجایا گیا دالان آپ کے مہمانوں کو حیرت میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اگر جگہ اجازت دے تو آپ گھر کے عقبی حصے (بیک یارڈ) کو انٹرٹینمنٹ اسپیس میں بدل سکتے ہیں، جہاں آؤٹ ڈور کچن (بار بی کیو ) اور اوپن اسپیس ڈائننگ کے انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

جہاں تک بنگلے کے ڈھانچے کی تعمیر کا تعلق ہے تو کالم یعنی ستونوں کے ذریعے کی گئی تعمیر انتہائی دیرپا اور مضبوط ثابت ہوتی ہےاور اس میں نت نئے آئیڈیاز کام کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رنگوں کا بہترین استعمال اسے حیران کن انداز بخش سکتا ہے۔ آجکل گہرے شوخ رنگوں کا امتزاج گھروں کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے جیسے کہ بیڈ روم میں بیڈ کےسرہانے والی دیوار پر شوخ پیلا یا گہرا عنابی رنگ بہت جچتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بیڈ روم کی دیگر دیواروں پر آپ کو کنٹراسٹ والے رنگوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

اوپن فلور پلان

وَن یونٹ بنگلو کے انٹیریئر میں رقبے کا استعمال انتہائی مؤثر انداز میں کیا جاتا ہےکیونکہ اس میں کمروں کے لیے جگہ محدود ہوتی ہے۔ ان میں بلٹ اِن الماریوں اور خانوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ محدود رقبے کے باعث وَن یونٹ بنگلے دو یا محدود افراد پر مشتمل کنبوں کے لیے آئیڈیل سمجھتے جاتے ہیں۔ 

امریکا میں محدود رقبے پر مشتمل بنگلے 19ویں صدی تک انتہائی مقبول تھے تاہم بعد میں پرتعیش لائف اسٹائل اور بڑے رقبے پر شاندار محلات کی تعمیر نے چھوٹے بنگلوں کی اہمیت کو ختم کردیا۔ تاہم ریئل اسٹیٹ کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دنیا بھر میں بشمول پاکستان، ایک بار پھر وَن یونٹ بنگلوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ کم لاگت اور کم ماہانہ اخراجات کے ساتھ رہنے کا ایک مؤثر انتخاب ہیں۔

زبردست قیمت فروخت

وَن یونٹ بنگلوں سے متعلق ایک اچھی بات یہ ہے کہ یہ زبردست قیمت فروخت (ری سیل ویلیو) کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک عرصے تک اس میں رہنے کے بعد اگر آپ کا دل کسی اور گھر میں منتقل ہونے کے لیے للچائے تو آپ کو اپنے بنگلے کو بیچنے کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اب چھوٹے، کم لاگت اور کم مینٹیننس والے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ 

بڑی عمر کے افراد بھی گراؤنڈ فلو رپر بنے چھوٹے بنگلوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس طرح انھیں سیڑھیاں چڑھنے سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ مزید برآں، چھوٹے بچوں والے گھرانے بھی گراؤنڈ فلور والے گھروں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس طرح انھیں بچوں کے سیڑھیوں سے گِرنے اور زخمی ہوجانے کی فکر نہیں ہوتی۔