آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ دسمبر 1991ء کا واقعہ ہے۔ اُن دنوں حیدر آباد شدید سردی کی لپیٹ میں تھا۔ میں ہر روز شام کو اپنی ملازمت سے واپس آکر بچّوں کو سیر و تفریح کے لیے باہر گھمانے لےجاتا تھا۔ اُس روز بھی حسبِ معمول اپنے چار سالہ بیٹے کو انگلی پکڑائے اور پندرہ ماہ کی گول مٹول سی بیٹی کو گود میں اٹھائے گھر سے باہر نکل آیا۔ کالی موری چوک پر پہنچے، تو بیٹا پکوڑے کھانے کی ضد کرنے لگا۔ چناں چہ اُسے پیسے دے کر قریب ہی سوئیٹ میٹ بھیج دیا۔ بیٹا بھاگتا ہوا دکان پہنچ گیا، میں نے دُور ہی سے شاپ کے مالک کو پکوڑے نکالنے کو کہا۔ دکان کے سامنے ایک نالہ تقریباً 4فٹ چوڑا اور 5فٹ گہر ا کُھلا ہوا تھا، جس کے ذریعے شہر کا سیوریج کا پانی علاقے کی سب سے بڑی نہر ’’پھلیلی‘‘ میں جاتا تھا۔ نالے کے اوپر ایک لکڑی کا تختہ رکھا ہوا تھا، جس کے ذریعے لوگ اسے عبور کرتے تھے۔ میرا دھیان بیٹے کی طرف تھا، جو پکوڑے لے رہا تھا۔

اس کے پاس جلدی پہنچنے کے چکّر میں مَیں نے جوں ہی پائوں تختے پر رکھا، تو بے خیالی میں پائوں کنارے پر پڑنے کی وجہ سے توازن برقرار نہیں رکھ پایااور پھسلتا ہوا بیٹی سمیت نالے میں جاگرا، مجھے کچھ ہوش نہ تھا کہ میری بیٹی میری گود میں ہے، بمشکل میں نے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر سنبھل نہ سکا اور دوبارہ اسی طرح لڑکھڑاتا ہوا نالے میں گرگیا۔ اُسی وقت مجھے احساس ہوا کہ بیٹی میری گود میں ہے، تو جیسےمیرے ہوش اُڑگئے۔ ایک لمحے کے لیے یہ خیال بھی آیا کہ بیٹی شایدنالےمیں گرگئی، مگر وہ بدستور میری گود میں تھی۔ 

دراصل ہوا یہ کہ جب میرا پائوں پھسلا اور میں نالے میں گرا، تو بیٹی سر سے لے کر دھڑ تک پانی کے اندرچلی گئی، دوسری دفعہ بھی یہی ہوا، مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے میری گرفت ڈھیلی نہ ہوئی۔ یوں محسوس ہوا، جیسے کسی نادیدہ قوت نے میری بیٹی کو میری گود سے اس طرح چپکا دیا کہ دو بار گرنے کے باوجود وہ مجھ سے جدا نہیں ہوئی۔ اُدھر بیٹا یہ منظر دیکھ کر زور زور سے رونے اورچیخنے چلّانے لگا تھاکہ ’’ہائے، میری بہن پانی میں گرگئی، مجھے پکوڑے نہیں کھانے۔اللہ میاں میری بہن کو بچالو۔‘‘ بیٹی پوری طرح غلاظت میں لتھڑ چکی تھی اور شدید سردی کے باعث کپکپاہٹ سے بھی اس کا بہت بُرا حال تھا۔لیکن اللہ پاک نے کرم کیا اور ہم دونوں باپ بیٹی بحفاظت باہر نکلنے میں کام یاب ہوگئے۔

آج بھی جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا ہے، تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ میری گرفت ڈھیلی پڑجاتی تو میری پیاری بیٹی پانی کے تیز بہائو کے باعث پھلیلی نہر میں جا گرتی، جس کے بعد اس کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ مگر اللہ رحمان ورحیم نے میری مدد کی اور بیٹی محفوظ رہی۔ شاید اور اس کے بھائی کی بے اختیار، بے قرار ہوکے کی جانے والی دعا،رب تعالیٰ نےقبول فرمائی اور اللہ نے دوسری زندگی عطا کی۔ (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے،جو کسی کردار کی انفرادیت،پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اُٹھایئے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں،صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر،’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔