آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہزار گنجی کے ہوتے کسی دوسری منڈی کو بننے نہیں دینگے‘حاجی رفو گل

اکوئٹہ(پ ر)آل بلوچستان نیشنل فروٹ اینڈ ویجیٹیبل کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن ہزارگنجی کے صدر حاجی رفو گل بڑیچ، جنرل سیکرٹری حاجی شیرعلی بنگلزئی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالحکیم کاکڑ،سینئر ارکان حاجی جمیل احمدکاکڑ،راز محمد آغا، حاجی ظہور احمدکاکڑ، حاجی احمدبلوچ، حاجی عبدالظاہربڑیچ، حاجی محمد عامر بنگلزئی، عبدالرزاق لہڑی، حاجی نیک محمد بڑیچ، حاجی دادمحمد بڑیچ، حاجی محمدخان بڑیچ، حاجی ہدایت اللہ بنگلزئی، کشمیر خان بڑیچ، حاجی عبدالستار، حاجی آزادخان قمبرانی، حاجی عبدالقیوم کاکڑ، ڈاکٹرلال محمد بڑیچ، جمال الدین، مصطفیٰ خان اچکزئی، حاجی اختربلوچ، سردار سرورخان بڑیچ، حاجی نذرمحمدمحمدحسنی ودیگرنے صوبائی وزیر زراعت کے 15جولائی کے بیان پر تعجب کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بیان میں موصوف نےدیگر قبائل کی زمین پرمنڈی بنانے کاجوذکرکیاوہ قابل تشویش ہے۔34ایکڑزمین مختلف قبائل کی ذاتی ہے،موجودہ منڈی 50سالہ منصوبہ ہے۔محکمہ زراعت حکومت بلوچستان اورمارکیٹ کمیٹی کا50سالہ تحرير نامہ ایسوسی ایشن کےپاس موجود ہے۔موجودہ منڈی 22سال گزرنے کےباوجودتمام بنیادی سہولیات سے محروم ہےاور فیز2ابھی تک مکمل غیرآباد ہے ۔ منڈی کا 60فیصد حصہ اب تک غیر آباد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ صوبائی وزیراور ایک قوم پرست

پارٹی کے ایم پی اے نے زمینی حقائق کو جانے بغیر منڈی کے بارے میں اسمبلی کے فورم پر سوالات کے جوابات دیئے جوحقائق کے برعکس ہیںبلکہ وہ دونوں آج تک منڈی کے مسائل کےجاننے کیلئے نہیں آئے ۔حالانکہ ہزارگنجی منڈی ٹرک وبس اڈا مسائلستان بن چکے ہیں۔مین کراچی روڈ گزشتہ دس بارہ سال سےٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور روڈ کا نام ونشان تک نہیں ۔وہ دوسری منڈی بنانے کی بجائے کراچی روڈ کو بنانے اورموجودہ منڈی میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔آخر میں انہوں نےکہا کہ ایسوسی ایشن کسی دوسری منڈی کو بننے نہیں دے گی ۔

کوئٹہ سے مزید