آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تحریر…سید ناصر حسین شاہ


وزیر اطلاعات سندھ


کشمیر میں بھارتی جارحیت ستر سالوں سے جاری ہے، لیکن گزشتہ سال اگست میں، جب مودی کی دہشت گرد بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اے واپس لے لیا، جو کشمیر کو متنازع علاقہ بناتا ہے، اسے بھارتی علاقہ قرار دیا اور کشمیر میں کرفیو لگا دیا۔ یہ جبر اور وحشیانہ طرز عمل اب بھی جاری ہے جس نے بہت سے گناہوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری موجودہ حکومت ایسے سنجیدہ معاملے پر بیانات سے آگے نہیں جاسکی ہے۔ چند منٹ کی خاموشی ایسے معاملات کا جواب نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھرپور آواز اٹھانا اور اس کی حمایت کیلئے دنیا کو تیار کرنا اس کا جواب ہے جس میں موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میر واعظ مولانا فاروق کو یہ کہنا پڑا کہ آج کشمیر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو بہت یاد کرتے ہیں۔ اگر ہم کشمیر کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے پوری دنیا میں کشمیر کا معاملہ اٹھایا بلکہ قوم کو بھی جوڑ کر رکھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کشمیر مشن جسے شہید محترمہ نے آگے بڑھایا اسے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ذمہ لے لیا۔ جموں اور کشمیر کا معاملہ محض علاقائی تنازع ہی نہیں بلکہ یہ وادی کے لوگوں کی خود ارادیت کیلئے ناقابل منتقل حق سے منسلک ہے۔ خود ارادیت کے حق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق کسی خودمختار ریاست کے تمام ارکان کے پاس خود ارادیت کا حق ہے۔ جموں اور کشمیر خود مختار ریاست کی تمام شقوں اور مطالبات کو پورا کرتا ہے۔ جموں اور کشمیر کی خودمختاری کی تاریخ ہے۔ اس کی اپنی ثقافت اور زبانیں ہیں اور 14 ملین سے زائد اس کی آبادی ہے۔ اگر ہم دیانتداری سے اس پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ پاکستان کشمیریوں کیلئے اپنی آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ وہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کا حل کشمیریوں کے خودمختاری کے حق کے تحت کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت ہمیشہ بین الاقوامی برادری کو دھوکا دیتا ہے اور کشمیر پر مکمل کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک قسم کی دستاویزی حقیقت ہے کہ کشمیر تنازع میں اصل مسئلہ خود ارادیت کا ہے لیکن بھارت اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر بین الاقوامی قانون کے ایجنڈے پر خود ارایت کا حق رکھتا ہے۔ یہ چارٹر واضح طور پر کہتا ہے کہ اقوام متحدہ کا اصول اقوام متحدہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 1984 میں یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس (یو ڈی ایچ آر) کو قبول کیا۔ اس ڈیکلیریشن کا آرٹیکل 2 کہتا ہے کہ فرد کو بغیر کسی تفریق کے تمام حقوق اور آزادیوں کا حق ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 91 کے باوجود بھارت جموں اور کشمیر کے متنازع الحاق کو حتمی سمجھتا ہے اور اکتوبر 1957میں پارلیمان میں ایک قرار داد منظور کی جس میں کشمیر کو اپنا جامع حصہ، جموں اور کشمیر میں بھارت کی حمایتی سیاسی قیادت قرار دیا۔ بعد میں بھارت نے اپنی حیثیت بدل دی اور اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے ناصرف مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کردیا بلکہ بدترین ظلم کی مثالیں بھی قائم کردیں جس نے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی جان لے لی ہے۔ 1960سے 1964تک بھارت نے مصری صدر گمل ناصر، امریکی صدر کینیڈی اور دیگر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش مسترد کردی۔ یہ کشمیر کا ہی معاملہ تھا کہ پاکستان اور بھارت نے دو جنگیں، پاک بھارت 1965 کی جنگ اور 1999 کی کارگل جنگ، لڑیں۔ مارچ 1965 میں بھارتی پارلیمان نے ایک بل منظور کیا جس میں کشمیر کو بھارت کا صوبہ قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ بھارت جموں اور کشمیر میں ایک گورنر کا تقرر کرے گا۔ بھارت کے اپنے نمائندے گپتا، ایس پی اگرا وا ل اور ایس آر بخشی نے سیکورٹی کونسل کو تحریری طور پر بتایا کہ بھارت کشمیر میں اقوام متحدہ کے مجوزہ ریفرنڈم کرانے پر کسی بھی حالات میں اتفاق نہیں کرے گا۔ 1980 میں جموں اور کشمیر میں ہندو فرقہ واریت کے خلاف ایک نئی کشمیری جدوجہد شروع ہوئی۔ 1990 کے آغاز میں ہزاروں کشمیری گلیوں میں نکل پڑے اور جموں اور کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا جو آج کے دن بھی جاری ہے۔ بھارتی افواج نے غیرمسلح کشمیریوں کو شامل کرنے کیلئے بدترین طاقت استعمال کی۔ آئی او ایف کی جانب سے 1990 سے آج تک بہت سی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واضح ثبوت ہیں کہ انہوں نے خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کی آوازوں کو خاموش کرنے کیلئے تمام اقسام کے تشدد اور بربیت کا سہارا لیا۔چونکہ بھارت نے کشمیر کو بقیہ دنیا سے کاٹ کے رکھ دیا ہے اور بین الاقوامی آزاد میڈیا کو اس تک کوئی رسائی نہیں، دنیا کو اس بربریت کا فوری طور پر کوئی احساس نہیں۔ تاریخی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ تقسیم کے بعد کی بھارتی قیادت نے ناصرف جموں اور کشمیر پر سیکورٹی کونسل کی قرار داد کی حیثیت کو تسلیم کیا بلکہ جموں اور کشمیر کے فیصلہ سازی کے عمل میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو بھی تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی پوزیشن کو بھی تسلیم کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر پر ریفرنڈم میں بھارت کی پوزیشن تبدیل ہوگئی۔ تمام وعدوں کے باوجود بھارت نے 1950 سے کشمیریوں کو ہمیشہ جموں اور کشمیر پر فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے اور کسی بھی قسم کی بحث، ثالثی یا ریفرنڈم کو بے محل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ سمجھا ہے اور یو این ایس سی آر کے عملدر آمد کا مطالبہ کیا ہے اور زور دیا ہے کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا ہر حق حاصل ہے۔ پاکستان کی انتھک کوششوں کے باعث 23 نومبر 2016کو اقوام متحدہ نے لوگوں کے حق خود ارادیت کی شناخت کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد کو قبول کرلیا۔ اس قرار داد کے ذریعے پاکستان نے دنیا کی توجہ کشمیر اور کشمیریوں کے غصب حقوق کی جانب مبذول کرائی۔ کشمیر انصاف چاہتا ہے اور دنیا کو اس کی حمایت ضرور کرنی چاہئے کیونکہ وہ محکوم ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید