آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی تقریباً 70فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک اپنی خوراک اور دیگر زرعی اجناس کے حوالے سے خودکفیل ہے۔ نہ صرف اپنی خوارک کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ یہاں کی زرعی اجناس دیگر ممالک کو بھی برآمد کی جاتی ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک کو گندم اور آٹے کے بحران کا سامنا ہے۔ کبھی گندم اور آٹا مکمل طور پر مارکیٹ سے غائب ہو جاتے ہیں تو کبھی اِن کی قیمت میں من چاہا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے آٹے کی قیمت کے حوالے سے ایک چشم کشا رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں میں سے پنجاب میں آٹا سب سے سستا اور کراچی میں سب سے مہنگا ہے ۔کراچی میں آٹے کا 20کلو کا تھیلا 1400روپے، پشاور میں 1280روپے، کوئٹہ میں 1160اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں 860سے 900روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے تک ہے۔ کراچی میں 20کلو کا تھیلا لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور سے 540روپے مہنگا ہے۔پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے لیکن ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ سے گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے کارٹلز مستفید ہوتےہیں جبکہ ناجائز منافع خوری کی وجہ سےعوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ آٹے کی روٹی ہماری غذا کا بنیادی جزو ہے لیکن ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام روٹی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے بالخصوص سندھ حکومت کو ناجائز منافع خوری کیخلاف فوری کریک ڈائون کرنا چاہئے تاکہ عوام کو سستا آٹا میسر آ سکے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998