آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ گھر سو مرتبہ لوٹا گیا۔ دلی کے بارے میں کہیں کہ مرشد آباد کے بارے میں کہ لکھنو یا پھر بیروت کے بارے میں تازی ترین تو لبنان ہے جہاں چند منٹوں میں پورا شہر مٹی کا ڈھیر، لوگ دربدر، کتنے مرے نہیں معلوم، مجھے قیام پاکستان کا زمانہ یاد آجاتا ہے۔ کتنے مرے، لوگ پوچھتے کتنے سکھ تھے، کتنے ہندو، کتنے مسلمان اور منٹو جواب دیتا ہے، وہ سارے انسان تھے۔ یہیں مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوچکی ہے۔ عجب وحشت ناک ماحول ہے۔ ہرچیز راشن پر مل رہی تھی۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی ہم دونوں کے ہاتھ میں دو بوتلیں پکڑاتے ہوئے کہا ’’ہرگز مت کہنا ہم بہن بھائی ہیں۔ ورنہ ایک بوتل مٹی کا تیل ملے گا۔ ایک بوتل تیل سے ایک لالٹین جلتی۔ ہم پانچ بہن بھائی ایک میز کے گرد، اسی لال ٹین کی روشنی میں کتابیں پڑھتے پڑھتے میٹرک تک پہنچے، اسی زمانے میں قائداعظم کی جانب سے اپیل آئی کہ سب مسلمان جو کچھ مقدور ہو مسلم لیگ کے لئے چندہ دیں ہم لوگوں کو پاکٹ منی چار آنے ملتی تھی۔ ہم سب بچے وہ پیسے اکھٹے کرکے اباجی کو دیتے، وہ منی آرڈر کرتے۔ اور قائد اعظم کی جانب سے شکریہ کا جواب بھی آتا تھا ۔ اسی زمانے میں چندہ اکھٹا کرنے کے لئے خواتین نے تحریک چلائی کہ وہ ہر دو وقت ایک مٹھی آٹا نکال دیتیں۔ ہم بچے سارے گھروں سے وہ آٹا اکھٹا کرکے مسلم لیگ کے دفتر دیکر آتے اور وہ بیچ کرچندے میں شامل کر لیتے۔ ہمارے شہر بلند شہر میں مردوں کے جلوس تو نکلتے ہی تھے، عورتیں بھی کالا برقع پہن کر جلوس نکالتیں۔ میں اپنی اماں کی انگلی پکڑکر جلوس میں جاتی جس دن آزادی کا اعلان ہوا، لارڈ مائونٹ بیٹن نے قائداعظم سے کہا کہ دونوں ملک 15اگست کو ہی آزادی کا اعلان کریں۔ قائد اعظم نہیں مانے، آخر کو 14اگست کی رات بارہ بجے آواز ابدی مصطفیٰ علی ہمدانی کی کہ ’’ریڈیو اسٹیشن لاہور ہے۔ آپ سب کو آزادی مبارک ہو‘‘۔اسی زمانے میں دونوں ملکوں کی تقسیم کا نقشہ مرتب کرنے لارڈ کلف دلی آئے ہوئے تھے۔ ان سے بیگم ویلیگٹن کے ذریعہ پنڈٹ ہزو نے التجا کی کہ گورداس پور اور فیروز پور کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا جائے کہ کشمیر جانے کا یہی راستہ تھا۔ قائداعظم نے بہت غصے کا اظہار کیا۔ لارڈ کلف نقشہ بناکر چلے بھی گئے اور کشمیر کا راستہ جن دونوں شہروں سے بنتا تھا۔ وہ ہندوستان کو مل گئے۔

ہمارے ابا سناتے تھے کہ سات اگست کو جب چھوٹا ڈیکوٹا جہاز قائد اعظم کو لیکر دلی سے کراچی پہنچا۔ وہ منظر دیکھنے والا تھا۔ بوڑھے، جوان عورتیں بچے، سب لوگ اس سڑک پرتھے جو ہوائی اڈے کو جاتی تھی۔ قائداعظم، محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جہاز سے باہر آئے تو لوگ خوشی سے رونے بھی لگے، نعرے لگانے لگے۔

شہر کا کیا منظر تھا جو لوگ سرکاری ملازم تھے۔ وہ اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ دلی، لکھنو اور میرٹھ سے کراچی آچکے تھے۔ دفتروں میں نہ میز نہ کرسی۔ کاغذوں کو پن لگانے کے لئے درختوں کے کانٹے توڑ کر فائل بنارہے تھے۔ سب پیدل دفتر آتے تھے۔ ادھر باقی ہرشہر کے لوگ رہڑوں ٹرکوں پہ گرتے پڑتے آرہے تھے۔ ٹرینوں کابھی یہی حال تھا۔ سکھوں کی تلواریں مسلمانوں کے چاقو اور ہندوئوں کے بھالے، مردوں کے پیٹ چیر رہے تھے اور لڑکیاں اغوا کی جارہی تھیں، 40لاکھ مسلمان، ہندو اور سکھ عورتیں اغوا کی گئیں۔ جو بھی بازیاب ہوئیں، ان میں سے آدھی سے کم کو انکے خاندانوں نے قبول کیا اور باقی کوئی سکھ بنی کوئی مسلمان، خاموشی سے جس خاندان میں کھپ سکیں۔ رہ لیں۔ یوں نورجہاں، کملا بن گئی اور ارمیلا جمیلہ، اس طرح سکھ خواتین بھی نام بدل کر کسی نہ کسی خاندان کا حصہ بن گئیں۔

پاکستان کے علاقوں سے غیرمسلم جانے والے تالے لگاکر گئے تھے یہ سوچ کر کہ جلد ہی بلوے ختم ہو جائیں گے اور وہ واپس اپنے گھروں کو آجائینگے۔جگہ جگہ آگ لگ رہی تھی۔ پوری شاہ عالمی جلا دی گئی اور اب اصل لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ دونوں ملکوں میں ایک سا تھا۔ تالہ لگے گھروں کے تالے توڑے گئے۔ سب سازو سامان پر قبضہ کیا گیا۔ جسکے ہاتھ جو گھر ملا، اس پر قابض ہو گئے۔ البتہ شرفا منہ دیکھتے رہ گئے جہاں جگہ ملی سر چھپا کر بیٹھ گئے۔ منٹو کے نام ایک برف خانہ الاٹ ہوا۔ اس نے یہ کہہ کرواپس کردیا کہ میں اسے چلانا کیا جانوں۔ میں تو کہانی لکھنے والا ہوں۔ قائداعظم تو پاکستان بننے کے ڈیڑھ سال بعد ہی چلے گئے۔ پہلے خواجہ ناظم الدین کو وزیراعظم کی کرسی سے اتارا کہ لیاقت علی خاں تو قتل ہو چکے تھے۔ پھر نوکریوں، کرسیوں، زمینوں، کوٹھیوں کی وہ آپا دھاپی پڑی کہ آج تک وہی سلسلے رواں دواں ہیں۔ نوجوان پوچھتے ہیں۔ یہ ملک کس لئے بنایا تھا۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور لوٹ مار کرنے والوں کے لئے۔ پھر مجھے بیروت یادآگیا۔ وہ شہر ایک دفعہ تو اس وقت اجڑا تھا جب فیض وہیں تھے یاسر عرفات صاحب انکو بچاکر کسی اور ملک میں لے گئے تھے۔ اب میں کس سے فریادکروں کہ قدرت کے عذاب سے ڈرو۔ پاکستان کی ترقی، محض پناہ گاہوں سے نہیں ہوگی۔ 71ہزار لوگ نوکریوں سے نکالے جارہے ہیں۔ وہ کہاں جائیں۔