آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہناز حمید، راول پنڈی

’’کھانا پکانا ایک فن ہے‘‘،یہ صرف میرا ماننا نہیں، بلکہ ہر اچھا کھانا کھانے اور پکانے والے کا یہی کہنا ہے۔ اگر کھانے کا ذائقہ لذیذ، دیکھنے میں خُوش نما ہو اورصحت و صفائی کے اصول بھی مدِّنظر رکھتے ہوئے بنایا جائے، تو اس کے صحت ہی پرنہیں، مزاج پر بھی مثبت و خوش گوار اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔کھانے کو صحت بخش، ذائقے دار اور زود ہضم بنانے کے لیے کئی باتوں اور اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جیسے کھاناپکانے سے قبل پیاز، ٹماٹر، ہری مرچیں وغیرہ کاٹ لیں اورجو مسالاجات استعمال کرنے ہیں، وہ بھی الگ کرکے رکھ لیں۔فریز کیا ہوا گوشت پکانے کے لیے کچھ گھنٹے قبل فریزر سے نکال کر چھلنی میں رکھ دیں، تاکہ اس کا پانی اچھی طرح نُچڑ جائے اور پکنے پر خستگی اور لذّت پیدا ہو۔ 

دالیں ہمیشہ (جس میں لوبیا، کالے، سفید چانے بھی شامل ہیں) دیسی اور درمیانے سائز کی خریدیں، جن کے پکنے اور گلنے میں بے شک وقت لگتا ہے، مگر یہ ذائقے اور افادیت میں کئی گنا بہتر ہوتی ہیں۔ گرم تاثیر والی دالیں جیسے مسور، ماش اور ارہر وغیرہ جب پک جائیں، تو چولھا بند کرنے سے قبل( قریباً سات آٹھ منٹ پہلے)ایک کھانے کا چمچ دودھ شامل کردیں، تو گرمی و خشکی کے توڑ کے ساتھ ان کا ذائقہ بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ چنے کی دال میں پیاز، جب کہ دیگر دالوں میں لہسن کا بگھار لگائیں اورسرو کرنے سے قبل سبز دھنیا اور گرم مسالا پاؤڈر ضرور چِھڑکیں،یہ ٹوٹکا بھی دالوں کا ذائقہ دوبالا کردیتا ہے۔

سبزیاں خریدتے ہوئے ان کی تازگی، رنگت کے ساتھ حجم نظرانداز مت کریں۔ سبزی ہمیشہ دیسی بیج والی خریدیں۔ بہت بڑے سائز کی نہ صرف اندر سے پکی ہوئی ہوتی ہے، بلکہ ذائقے اور افادیت میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ جیسے بڑے سائز کے کدّو، کریلے، ٹنڈے، لوکی، توری اور بھنڈی وغیرہ۔ذیل میں چند سبزیوں کے خواص اور پکانے کی تراکیب درج کی جارہی ہیں، جو نہ صرف یہ کہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں، بلکہ پکانے میں آسان اور ذائقے میں لذیذ بھی ہوں گی۔

جس طرح پھلوں کا بادشاہ آم ہے، اسی طرح سبزیوں کا شہنشاہ ’’کریلا‘‘ ہے کہ یہ بے شمار طبّی فوائد کا حامل ہے۔ مثلاً کریلے کا استعمال نظامِ ہضم کی اصلاح کے ساتھ خون کی صفائی کرتا اور کمی دُور کرتا ہے، تو جِلد کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ کریلے کے بیج پیٹ کے کیڑوں اور جراثیم کا قلع قمع کرتے ہیں، جب کہ اس کا رس ذیا بطیس کے مریضوں کے لیے بےحد مفید ہے۔ چوں کہ کریلے کی تاثیر گرم ہوتی ہے، لہٰذا بُلند فشارِ خون کے مریض اس کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ 

ویسے تو کریلے، دال، گوشت، قیمے کے ساتھ بھی پکائے جاتے ہیں، مگر ان کی بُھجیا بہت لذیذ بنتی ہے۔ کریلے کی بُھجیا بنانے کے لیے جو اجزاء درکار ہیں، وہ اس طرح ہیں۔ کریلے آدھا کلو، پیاز (باریک لچّھے کاٹ لیں)دو عدد،ٹماٹر(چوکور کاٹ لیں) دو عدد، لہسن ،ادرک کا پیسٹ دو چائے کے چمچ، ہری مرچیں (کاٹ لیں)چار عدد، سُرخ مرچ پاؤڈر دو چائے کے چمچ، ہلدی پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ، سفید زیرہ پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ، نمک حسبِ منشاء، گرم مسالا پاؤڈر ایک چائے کا چمچ، ہرا دھنیا (پتّے الگ کرکے باریک کتر لیں)آدھی گڈی اور تیل حسبِ ضرورت۔ پہلے چُھری کی مدد سے کریلوں کا چھلکا کھرچ لیں۔ پھر رنگز یا چوکور چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ان پر ایک کھانے کا چمچ نمک چِھڑک کر گھنٹے بھر کے لیے رکھ دیں، تاکہ ان کا کڑوا پَن ختم ہوجائے۔ 

بعد ازاں، پانی سے دھو کراچھی طرح نچوڑ لیں۔پھر پتیلی میں تیل گرم کریں اور کریلے فرائی کرکے ایک طرف رکھ دیں۔ اب اِسی تیل میں پیاز سُنہری کرکے لہسن، ادرک کا پیسٹ ڈال کر بُھون لیں۔ پھر اس میں فرائی کریلے، ٹماٹر، ہری مرچیں اور تمام مسالاجات(گرم مسالا پاؤڈر کے علاوہ)ڈال کر اچھی طرح بھون لیں اور ہلکا سا پانی کا چھینٹا دے کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ جب تیل نظر آنےلگے، تو ہرا دھینا اور گرم مسالا پاؤڈر چِھڑک کر دو منٹ کے لیے دَم دے کر چولھا بند کردیں۔

ایک اور سبزی چونگیں، جو صوبۂ پنجاب اور سرحد کے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ ذائقے میں کریلوں کی طرح کڑوی کسیلی مگر طبّی اعتبار سے بےحد فائدہ مند ہے۔ اِسے بھی کریلے کی بُھجیا کی طرح بنایا جاتا ہے۔چاہیں تو اس میں گوشت یا قیمہ بھی مِکس کرسکتے ہیں۔ لوکی تاثیر میں ٹھنڈی اور معتدل، گوناگوں خواص کی حامل سبزی ہے۔ یہ مزاج میں خوش گواری پیدا کرتی ہے۔ بُلند فشارِ خون پر قابو پانے میں معاون ہے، تو دائمی الرجی دُور کرتی ہے۔ لوکی کا سالن بنائیں یا بُھجیا، رائتہ یا حلوا اس کے خواص میں کوئی کمی نہیں آتی۔

تاہم، خریدتے ہوئے اس کی ڈنڈی ضرور چکھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو،پکی پکائی ہانڈی پھینکنی پڑجائے۔ ٹِنڈے بھی معتدل اور سرد مزاج کی حامل سبزی ہے،جو کئی طریقوں سے (مثلاً ٹِنڈے گوشت، دال ٹِنڈے، ٹِنڈوں کی بُھجیا وغیرہ)بنائی جاتی ہے، جب کہ فرائی مسالا بَھرے ٹِنڈے تو بےحد لذیذ بنتے ہیں۔ انہیں بنانے کے لیے جو اجزاءدرکار ہیں، وہ اس طرح ہیں۔

ٹِنڈے(دیسی ہوں) آدھا کلو، پیاز (باریک کاٹ لیں) ایک عدد، ٹماٹر ایک عدد، ہری مرچیں(دو کاٹ لیں) چار عدد، لہسن، ادرک کا پیسٹ ایک چائے کا چمچ، ثابت سفید زیرہ (بُھون کر کُوٹ لیں)ایک کھانے کا چمچ، ثابت دھنیا (بُھون کر کُوٹ لیں) ایک کھانے کا چائے کا چمچ،سُرخ مرچ پاؤڈر دو چائے کے چمچ، ہلدی پاؤڈر ایک چائے کا چمچ، نمک حسبِ ذائقہ، لیموں کا رس حسبِ ضرورت اور تیل۔ ثابت ٹِنڈے کھرچ کر صاف کرلیں۔ پھر ایک پیالے میں لیموں کا رس، سفید زیرہ، دھنیا(بھنا اور کُٹا ہوا)، سُرخ مرچ پاؤڈر ایک چائے کا چمچ اور ہلدی پاؤڈرآدھا چائے کاچمچ اچھی طرح مِکس کرکے پیسٹ بنا لیں۔اب ٹِنڈوں میں چُھری کی نوک سے چاروں طرف کٹ لگا کر(چُھری ہی کی نوک پر مسالا لگا کر)بَھرلیں۔

اس کے بعد پتیلی میں ایک کپ تیل کڑکڑا کر ہلکی آنچ پر فرائی کرکے رکھ دیں۔ اِسی تیل میں پیاز براؤن کرکے لہسن، ادرک کا پیسٹ ڈال کر فرائی کریں۔ پھر باقی مسالے (اگر ٹِنڈوں والا مسالا بچ گیا ہو، تو وہ بھی)شامل کرکے گاڑھی گریوی بنالیں۔ آخر میں احتیاط سے ٹِنڈے شامل کردیں اور دو ثابت ہری مرچیں ڈال کر دَم دے دیں۔