آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میّت بیرونِ مسجد رکھ کر مسجد میں نمازِجنازہ میں شریک ہونا (گزشتہ سے پیوستہ)

تفہیم المسائل

اس کی شرح میں علامہ ابنِ عابدین شامی ؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب میت مسجد سے باہر ہو تو(پھر)مسجد میں نمازِ جنازہ (ادا کرنا)مکروہ نہیں ہے اورعلامہ علاء الدین حصکفیؒ کے قول (بِنَاء ً عَلٰی أَنَّ الْمَسْجِدَ۔۔الخ)کو اگر ہم اس پر محمول کریں کہ مسجد آلودہ نہ ہو ، تو اس صورت میں نمازِ جنازہ مکروہ نہیں ہوگی،جبکہ تنہا میت یا اس کے ساتھ کچھ لوگ مسجد سے باہر ہوں، ’’شرح المنیہ ‘‘میں یہی کہا گیا ہے اور ’’المبسوط‘‘ اور ’’محیط‘‘ کا میلان بھی اسی طرف ہے اور اسی پر عمل ہے اور یہی مختار ہے ،(رد المحتار:ج: 2، صـ:225)‘‘۔

اگر مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ نہ ہو تو گنجان آبادی والے علاقوں میں بایں طور پر کہ میت اور کچھ نمازی مسجد سے باہر ہوں ، نمازِ جنازہ مسجد میں ادا کی جاسکتی ہے اوراس صورت میں کراہت مرتفع ہوجائے گی ، لیکن جہاں مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ دستیاب ہو تونمازِ جنازہ مسجد میں نہ پڑھی جائے ،تاکہ حدیث پر بھی عمل ہواورفقہ حنفی کے صحیح ترین، راجح ترین اور مختار قول پر بھی عمل ہوجائے، غرض مسجد سے باہر جنازے کے لیے جگہ دستیاب ہونے کی صورت میں مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھانا درست نہیں ہے۔

اقراء سے مزید