آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف برسلز میں مظاہرہ، فوری رہائی کا مطالبہ

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی 7 ماہ سے گرفتاری کے خلاف آج یورپین دارالحکومت برسلز میں مظاہرہ کیا گیا۔

یورپین کمیشن، یورپین کونسل اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے دفاتر کے مرکز میں ہونے والے اس مظاہرے میں صحافیوں، دانشوروں اور یہاں مقیم پاکستانی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ بین الاقوامی سماجی اور صحافتی تنظیموں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر، انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس مظاہرے کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مظاہرین نے میر شکیل الرحمٰن کی تصاویر اور ان کی رہائی کے حق میں مختلف بینر اٹھا رکھے تھے، جبکہ وہ میر شکیل الرحمٰن کو رہا کرو، ظلم کے ضابطے، ہم نہیں مانتے اور صحافتی پابندیاں نامنظور جیسے نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین میں شامل فلسطینی صحافی ڈاکٹر احمد فراسینی، پیپلز پارٹی بیلجیئم کے رہنماؤں حاجی وسیم اختر، ملک محمد اجمل، ملک اخلاق احمد، مسلم لیگ ن بیلجیئم کے رہنماؤں غیاث الدین بھٹی، شیخ الیاس اور شیخ ماجد جبکہ جے کے ایل ایف یورپ زون کے رہنما اشفاق قمر نے بھی خطاب کیا اور اپنی تقاریر میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں دی گئی تحریر و تقریر کی آزادی اور اظہار رائے کے نتیجے میں آئین ہی میں صحافیوں کو دی گئی تحفظ کی ضمانت کے اطلاق کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے کہا کہ صحافت کسی بھی سماج میں جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہے۔ جہاں صحافت آزاد نہ ہو اور اس پر کچھ بتانے اور کچھ چھپانے کی قدغن موجود ہو تو وہاں انسانی آزادی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ پریس کی آزادی کے بغیر عوام کی ترقی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ مقررین نے موجودہ حکومت کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی اور میر شکیل کو ضمیر کا قیدی قرار دیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ پاکستان کو ایک اقلیتی گروہ کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔ ڈاکٹر احمد فراسینی نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں صحافت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسے دبانے اور اس کی آواز قتل کرنے کے ہتھیار مختلف ہیں لیکن اس کا مقتول ایک ہی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث اس مظاہرے کو محدود رکھا گیا تھا۔ جہاں شرکائے مظاہرہ کورونا ایس او پیز کے تحت شریک ہوئے۔ مظاہرے سے جیو یورپ اور جنگ کے سینئیر صحافی خالد حمید نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ قومی محاذ آزادی یورپ کے کنوینر راؤ مستجاب احمد، خالد جوشی، ذوالفقار علی، مسعود میر، مرزا شبیر جرال، میاں غفور، چوہدری عمران ثاقب اور عظیم ڈار خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

قومی خبریں سے مزید