آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مجھے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے پلیٹ فارم سے افغان بارڈر سے ملحقہ شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے کا موقع ملا، کوہِ سفید سے نکلنے والے دریائے کورم کے درمیان واقع یہ پراسرار علاقہ پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے ، یہ پانچ دریاؤں کی سرزمین ہے، یہاں کے مقامی لوگ بہت مہمان نواز، بہادر اور سادہ زندگی بسر کرتے ہیں، پشتو زبان کا شاعر، فلاسفر اور دانشور خان عبدالغنی خان اپنی متاثر کن شاعری کی بناء پر عوام میں بہت مقبول ہے۔ تاریخی طور پر انگریز سامراج نے 1894ء میں افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کرتے وقت وزیرستان کو جنوبی اور شمالی ایجنسیوں میں تقسیم کردیا تھا،شمالی وزیرستان تین ڈویژن، میران شاہ، میرعلی اور رزمک پر مشتمل ہے، برطانوی ہندوستان میں وزیر قبائل پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے انہیں ملک کے دیگر شہریوں کے برعکس شہری حقوق سے محروم رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی، مختلف ٹرائبل ایجنسیوں میں پولیٹیکل ایجنٹ متعین کرکے انہیں لامحدود اختیارات سے نوازا گیا،وزیر قبائل انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد آزادی کی درخشاں تاریخ کے بھی حامل ہیں۔ آزادی کے بعد قائداعظم نے بطور پہلے گورنر جنرل پاکستان وزیرستان کا دورہ کیا، قبائلی عمائدین سے اپنے خطاب میں انہوں نے فاٹاکے عوام کو ملکی دفاع کا ہراول دستہ قرار دیا۔بدقسمتی سے وزیرستان ستر سالہ ملکی تاریخ میںکسی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہ ہوسکا،یہ خوبصورت علاقہ ماضی میں اپنوں کی نظراندازی اور دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سےعلاقہ غیرکی صورت میں دہشت گردوںکا پسندیدہ ٹھکانہ بھی بنارہا، پاکستان کا یہ علاقہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوا،غیرملکی دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے یہاں کے معصوم باشندوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی، فاٹا میں 2001ء سے 2007ء تک طالبان کا بھی زور رہا،ملک بھر میں بیشتر خودکش حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے شمالی وزیرستان سے ملتے رہے،پاک فوج کی طرف سے اس علاقے کو دہشت گردوں کے تسلط سے چھڑانے کیلئے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد سمیت لگ بھگ 14بڑے آپریشن کئےگئے جن کے نتیجے میں ساڑھے 47ہزار کلومیٹر علاقہ کلیر کراکر ریاست کی رِٹ قائم کردی گئی، اس مقصد کے حصول کیلئے ساڑھے چار ہزار سے زائد جانوں کی قربانی بھی دی گئی ۔افغان بارڈر سے ملحقہ فاٹا کاایک طویل سیاسی و سماجی جدوجہد کے نتیجے میں دوسال قبل 31مئی 2018ء کو صوبہ خیبرپختونخواہ کے ساتھ انضمام ہوگیا۔ آج اپنے دورے کے دوران میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میںبلاشبہ وزیرستان میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے، آج وہاں بہترین سڑکیں نظر آرہی ہیں، لگ بھگ چوبیس بلین روپے پر مختص ترقیاتی منصوبوں میں سے 66 فیصد انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی مد میں خرچ کئےگئے ہیں ،تاہم بہت سے اہم معاملات تاحال تصفیہ طلب ہیں، اب بھی دیگر سماجی شعبوں بشمول عدلیہ، لاء ینڈ آرڈر ، ہیلتھ، ایجوکیشن وغیرہ پر خصوصی توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ شمالی وزیرستان کے دوران مجھے جی او سی شاکر کے توسط سے ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان اور ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور سے بھی تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا ، میری مقامی جرگے کے دو ملک صاحبان ملک خان مرجان وزیر اور ملک جان فراز سے بھی ملاقات ہوئی، مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وہاں کے لوگ اور حکومت فاٹا انضمام کے معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ دہشت گردوں کا بنیادی ٹارگٹ سیکورٹی ادارے ہیں اور اس حوالے سے پاک آرمی انسداد دہشت گردی میں مصروف ہے جبکہ دیگر سماجی جرائم کی بیج کنی کے معاملات ڈی سی اور ڈی پی او دیکھ رہے ہیں۔ افغان سرزمین سے ناپسندیدہ عناصر کی آمدورفت کیلئے بارڈر منیجمنٹ سسٹم کا نظام وضع کیا گیا ہے، آسان راستوں پر پہلے باڑ لگائی جا رہی ہے جبکہ دشوار گزار مشکل راستوں پر باڑ لگانا بعد کی ترجیحات میں شامل ہے، میری معلومات کے مطابق 231 کلو میٹر پر محیط شمالی وزیرستان کی افغان بارڈر کے 171کلو میٹر پر باڑ لگا لی گئی ہے جبکہ بقایا پر کام تیزی سے جاری ہے۔بیشتر مقامی لوگوں کے کاروبار اور رشتہ داریاں سرحد کے آر پار ہیں، ان کی خواہش ہے کہ طورخم بارڈر کی طرز پر لوگوں کے آنے جانے کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں شمالی وزیرستان کی معیشت کا انحصار افغانستان بارڈر ، اسمگلنگ، اور دیگر غیر روایتی طریقوںپر تھا،غربت اور روزگارکے مواقع کی عدم دستیابی کی بناء پر یہاں دہشت گردی اور دیگرسماجی جرائم کوپنپنے کا موقع ملا ،فاٹا انضمام کے بعد بزنس کمیونٹی کی توجہ حاصل کرنے کیلئے مختلف کاروباری مراعات متعارف کرانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے میری تجویز ہے کہ بزنس کمیونٹی کو اپنا کاروبار شمالی وزیرستان منتقل کرنے پرٹیکس میں دس سال کی چھوٹ دی جائے اور مقامی لوگوں کیلئے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں، اس حوالے سے وہاں کے عوام کے کچھ جائز گلے شکوے دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ سالوں میں ہماری بہادر افواج نے بے شمار قربانیوں کے بعد علاقے میں امن قائم کردیا ہے، بلاشبہ علاقے کی محب وطن آبادی بھی وزیرستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پر عزم ہے،اب یہ ذمہ داری سیاسی قیادت کی ہے کہ سابق فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے مقامی افراد سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے، آج شمالی وزیرستان کے خوبصورت علاقے کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے بے شمار لوگوں نے اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے، اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور علاقے کی اقتصادی و سماجی خوشحالی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیں،بصورت دیگر غربت، تعلیم کی کمی اور سیاسی شعو ر کی ناپختگی کی وجہ سے وزیرستان پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)