آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپین ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر، بیلجیئم دوسرے نمبر

کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران یورپ کے 16 ممالک میں سے بیلجیئم دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ 

یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول ECDC کے مطابق بیلجیئم جوکہ گذشتہ ہفتے کے دوران عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے 5 ویں نمبر پر تھا وہ اب 364 مریض فی ایک لاکھ آبادی کے ساتھ فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ 

اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو بیلجیئم کی مجموعی آبادی 11 ملین 6 لاکھ کے قریب ہے، اسے ایک لاکھ پر تقسیم کیا جائے تو جواب (116 ×364=42224 ) آتا ہے، یہ پازیٹیو کیسسز کی ایک خوفزدہ کر دینے والی تعداد ہے۔ 

اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے یورپین دارالحکومت برسلز سب سے زیادہ متاثر شمار کیا جا رہا ہے جہاں 9000 ٹیسٹ روزانہ کے نتائج کی بنیاد پر ہر 5 ویں شخص میں کورونا کی علامات مل رہی ہیں، اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ برسلز شہر کی مجموعی آبادی کا 20 فیصد کورونا پازیٹیو ہے۔

بیلجیئم کے دوسرے حصوں میں یہ شرح 10 فیصد سے کچھ زائد ہے ۔ 

دارالحکومت میں مسلم اکثریتی علاقہ مولن بیک سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں ہر ایک لاکھ میں سے 1000 کورونا پازیٹیو مریض ہیں۔ 

ماہرین اس پھیلاؤ کی اہم وجہ ماسک کے استعمال میں کمی اور معانقے کو قرار دے رہے ہیں، اس وقت برسلز کی 5 میونسپلٹیز بڑی طرح متاثر ہیں۔

نئے وزیر صحت فرانک وانڈن بروک نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو شائید نیا لاک ڈائون لگانا پڑے۔ 

یورپ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے یورپین سینئر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرولECDC نے جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق ترتیب کے لحاظ سے 1 سے16 تک ممالک میں چیک ریپبلک، بیلجیئم، نیدرلینڈز، سپین، فرانس، برطانیہ، آئس لینڈ، سلواکیہ، لکسمبرگ، رومانیہ، مالٹا، سلوینیہ، آئر لینڈ، آسٹریا، ہنگری اور پرتگال شامل ہیں ۔ 

یہ وہ تمام ممالک ہیں جس میں ہر ایک لاکھ آبادی پر پازیٹیو کیسسز کی تعداد 120 سے زائد چل رہی ہے۔ 

اس تیز رفتار پھیلاؤ کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ اسپتالوں کو کم ایمرجنسی کے عام مریضوں کی بجائے کورونا کے خصوصی مریضوں پر زیادہ توجہ کرنا پڑ رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید