آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے تعمیراتی شاہکار

بحر الکاہل کے ساحلوں پر دریائے برسبین کے کنارے جنوب مشرقی کوئنزلینڈ میں آسٹریلیا کا تیسرا بڑا شہر ’برسبین‘ واقع ہے، جس کی آبادی 24لاکھ سے زائد ہے۔ اس شہر کا نام دریائے برسبین کے نام پر رکھا گیا ، جو کہ نیوساؤتھ ویلز کے سابق گورنر سر تھامس برسبین کے نام سے موسوم ہے۔ 1859ء میں کوئنزلینڈ کو علیحدہ نو آبادیاتی ریاست قرار دیے جانے پر برسبین کو اس کا دار الحکومت بنایا گیا۔ دوسری جنگ عظیم تک یہ شہر انتہائی سست رفتاری سے ترقی کر رہا تھا لیکن جنگ میں اس کے اہم کردار کے باعث اسے کافی ترقی ملی۔

شہر کا میڑوپولیٹن علاقہ دو حصوں ’نارتھ سائیڈ‘ اور ’ساؤتھ سائیڈ‘ پر مشتمل ہے جن کے درمیان دریائے برسبین موجود ہے۔ ایک جانب سے دوسری جانب زمینی راستے کے ذریعے جانے کے لیے 15پُل تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس شہر نے اپنے فنکارانہ اور ثقافتی تعارف کے بہترین اظہار کے لیےپیسہ، وقت اور توانائی سب ہی بے دریغ خرچ کیاہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت شہر میں موجودآسمان کو چھوتی عمارتیں ہیں جنہیں برسبین کا لینڈ مارک مانا جاتا ہے۔ برسبین کے فنی اور تعمیراتی ورثے کی وجہ سے اسے دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں۔ برسبین کے چند تعمیراتی شاہکاروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

برسبین سٹی ہال

برسبین سٹی ہال 1967ء تک شہر کی سب سے بلند عمارت تھی، جسے آج بھی مشہور لینڈمارک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ عمارت کنگ جارج اسکوائر سے متصل علاقے میں تعمیر کی گئی ہے۔ سٹی ہال کی تعمیر1920ء سے1930ء کے دوران مکمل ہوئی۔ اس میں لارڈ میئر اور ان کے نائب کے دفاتر قائم کیے گئےتھے۔ اسے بعد میں خوبصورت میوزیم بنادیا گیا اور 2003ء میں انتظامیہ کے دفاتر ختم کرکے وہاں گیلریز بنادی گئیں۔ 

یہ عمارت بہت سی ثقافتی، معاشرتی اور شہری تقریبات کا مسکن رہی۔ مختلف پروگرامزکے انعقاد کی وجہ سے اس جگہ کو پیپل پیلس (People palace) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سٹی ہال کی تیسری منزل پر کلاک ٹاور بنایا گیا ہے، جہاں آنے والے افراد 360ڈگری کے زاویے پر نظاروں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ آخری مرتبہ اس عمارت کی تزئین نو 2013ء میں 215ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے کی گئی تھی۔ سیاحوں کی بڑی تعداد شہر کے مرکز میں واقع اس عمارت کا رخ کرتی ہے ،جہاں داخلہ بالکل مفت ہے۔

سینٹ جان کیتھڈرل

برسبین شہر کے مرکز میں اور فورٹیٹیوڈ ویلی کے قریب واقع سینٹ جان کیتھڈرل کوئنز لینڈ کا میٹروپولیٹن کیتھڈرل ہے۔ یہ برسبین کے شہریوں کے لیے ایک اہم عبادت گاہ ہے، جہاں سالانہ 20ہزار سے زائد زائرین زیارت کرنے جاتے ہیں۔ اس گرجا گھر میں فن و موسیقی کی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ 

یہ جنوبی نصف کرہ میں واحد عمارت بچی ہے جس کی محرابی چھت پتھر کی ہے۔ 1901ء میں اس گرجا گھر کی بنیاد رکھی گئی، جسے گوتھک ریوائیول طرز پر ڈیزائن کیا گیا۔ عمارت اور ستونوں کی بنیادوں میں گرینائٹ اور سنگ سیاہ (Basalt) جبکہ کھڑکیوں کی آرائش، دروازوں اور نقش و نگار والی محرابوں کے لیے سنگِ ریگ (Sandstone) کا استعمال کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس

یہ کوئنز لینڈ صوبے کی قانون سازاسمبلی کی عمارت ہے، جس کی تعمیرکا آغاز 1865ء میں ہوا اور دو سال کے عرصے میں اسے مکمل کرلیا گیا۔ چارلس ٹفن اس پارلیمنٹ ہاؤس کے آرکیٹیکٹ جبکہ سر جارج باون معمار تھے۔ 1969ء میں اس عمارت کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت اس سے ملحقہ جگہ پر دو کروڑ ڈالر کی لاگت سے 1979ء میں ایک انیکسی بنائی گئی۔ 1982ء میں کوئنزلینڈ پارلیمنٹ ہاؤس کی تزئین نو کی گئی ۔

برسبین اسکائی ٹاور

یہ برسبین کی بلند ترین اور آسڑیلیا کی چوتھی بلند عمارت ہے۔ مارگریٹ اسٹریٹ پر واقع اس عمارت کی اونچائی 270.5 میٹر (887فٹ) ہے۔ 90منزلہ اس عمارت کا تعمیراتی کام 2012ء میں شروع ہوا جبکہ 2019ء میں اسے مکمل کرلیا گیا۔ اس میں 1138شاندار اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں جبکہ دیگر سہولیات زندگی کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔

ٹریژری بلڈنگ

شہری انتظامیہ کی سابقہ عمارت ’ٹریژری بلڈنگ‘ کا نام ورثہ قرار دی گئی عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اطالوی نشاۃ ثانیہ کی طرز پر بنی اس عمارت کا افتتاح 8اپریل 1930ء کو کیا گیا تھا۔ سینٹرل ٹاور سے مشابہہ محرابیں شمال مشرق، شمال مغرب اور جنوب مغرب کی بلندیوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک محراب یونانی طرز پر بنائی گئی ہے۔ محرابوں کی اندرونی دیواروں کو چھوڑ کر عمارت کا بیرونی حصہ چوکور تراشے ہوئے سنگِ ریگ سے بنایا گیا ہے۔

گابا اسٹیڈیم

برسبین کرکٹ گراؤنڈ جسے عام طور پر گابا کہا جاتا ہے، شہر میں کھیلوں کا اہم میدان ہے۔ آسٹریلیا کے اس معروف اسٹیڈیم میںکرکٹ اور بیس بال میچز کا انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ اس اسٹیڈیم میں ایتھلیٹک سرگرمیوں، رگبی، سائیکلنگ اور موسیقی کی محفلوں کاانعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ اسٹیڈیم کی تعمیر 1895ء میں ہوئی، جس میں 42ہزار نشستیں بنائی گئیں۔ 

اسٹیڈیم کا بیضوی ڈیزائن تماشائیوں کو بغیر رکاوٹ کھیل کے تمام نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پرمشہور اس گراؤنڈ کو برسبین کے آئیکون کی حیثیت حاصل ہے۔