آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لندن کے عوام کورونا رولز کی خلاف ورزی کرنے والے حکومتی سیاست دانوں کو نظرانداز کردیں، صادق خان

لندن (پی اے) لندن کے میئر صادق خان نے لندن کے عوام سے کہا ہے وہ آئندہ لاک ڈائون میں یادگار قربانیوں کا مطالبہ کرنے والے حکومتی سیاستدانوں کو نظرانداز کر دیں، جنہوں نے کورونا وائرس رولز کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور وہ کریں جو اس شہر، ان کے اپنے اور پیاروں کیلئے درست ہو۔ برطانوی دارالحکومت کو ہفتے سے ٹیئر 2 پابندیوں کا سامنا کرنا پڑےگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ علیحدہ گھرانوں کی ان ڈور بشمول پبس اور ریسٹورنٹس میں ملاقاتوں پر پابندی ہوگی۔ یہ نئی اضافی پابندیاں جن علاقوں میں نافذ ہوں گی، ان میں لندن، ایسیکس اور یارکشائر کے علاقے شامل ہیں۔یہ بھی انکشاف کیا گیا ہےکہ پارلیمنٹ کی ایک رکن مارگریٹ فیریئر کو مثبت کورونا وائرس ٹیسٹ کے بعد لندن اور گلاسگو کے درمیان سفر کرنے کے بعد پولیس کی جانب سے مزید کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ جب مس فیریئر اور وزیراعظم بورس جانسن کے چیف ایڈوائزر ڈومینک کمنگز حکومتی رولز کی پابندی نہیں کرتے تو یہ صورت حال

لندن والوں سے زیادہ قربانیاں دینے کے مطالبے کو متاثر کر سکتی ہے تو مسٹر خان نے لندن والوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کام کریں جو شہر کیلئے درست ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے تجربے سے جانتا ہوں میں لندن کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بلکہ پولنگ کرانے والی انڈی پینڈنٹ پولنگ کمپنیز سے کہہ رہا ہوں کہ وزیراعظم کے چیف ایڈوائزر نے جو رویہ اپنایا ہے، اس سے لوگ یہ سوال کر رہےہیں کہ میں ان رولز کی تعمیل کیوں کروں، جب وہ نہیں کر رہے۔ صادق خان نے کہا کہ میرا لندن کے عوام کو یہ مشورہ ہے حکومت کے وزرا یا حکومتی مشیر اور ارکان پارلیمنٹ جو کچھ کررہے ہیں، وہ اسے نظر انداز کریں اور وہ ایسی چیزیں کریں جو ہمارے شہر اور ہمارے پیاروں اور خود ہمارے لیے درست ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ پابندیاں اس لیے ہیں کیونکہ کوئی اور اچھا آپشن نہیں ہے اور یہ وائرس کے پھیلائو میں کمی کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی، جس کا امید افزا مطلب یہ ہے کہ آپ اور آپ کے پیارے کورونا وائرس کے لاحق ہونے سے بچ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں این ایچ ایس کی ضرورت نہیں رہے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ این ایچ ایس ان مریضوں کا علاج جاری رکھ سکتا ہے، جو نان کوویڈ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جو کوویڈ کا شکار ہیں۔ مسٹر خان نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ ٹیئر 2 پابندیوں کا مطلب یہ ہے لندن ایکسل سینٹر میں این ایچ ایس نائٹینگل ہسپتال کو سٹینڈبائی رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی جیسا کہ ہیرو گیٹ مانچسٹر میں کیا گیا جبکہ بلفاسٹ میں کورونا وائرس اوورسپل ہسپتال پھر کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج این ایچ ایس لندن ٹیم سے بات کی ہے کیونکہ این ایچ ایس کے شاندار کام کی وجہ سے ہمارے پاس فی الحال جنرل ایڈمیشنز کے لحاط سے انٹینسیو کیئر یونٹس کے معاملے میں بھی این ایچ ایس میں کافی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کر رہے ہیں کہ ہفتے کو پہلی بار کوروناوائرس کی ان اضافی پابندیوں کا اطلاق ہونے کی وجہ سے نائٹینگل کو کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ لندن والے نئے قوانین پر عمل کریں گے۔ جمعرات کو انہوں نے لیبر لیڈر سر کیئر سٹارمر کے ملک گیر سرکٹ بریکر لاک ڈاؤن کے مطالبات کی حمایت کی تاکہ حکومت کو ٹیسٹ، ٹریس اینڈ آئسولیشن سسٹم کو ترتیب دینے کیلئے وقت مل سکے۔ انہوں نے پی اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ میں صاف گوئی کے ساتھ کہتا ہوں کہ حکومت چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ٹیسٹ ٹریس اینڈ آئسولیشن سسٹم ترتیب دینے سے ہمیں ایک ملک کی حیثیت سے ناکام ہو چکی ہے۔ انہیں جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، تائیوان اور کسی دوسری جگہ کے ساتھیوں سے بات کر کے وہ حل ترتیب دینا چاہیے جو کام وہ کر چکے ہیں اور ہمیں ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کریں۔ انہوں نے وزیراعظم بورس جانسن کو بھی خط لکھا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیئر 2 لاک ڈاؤن کے ذریعے دارالحکومت میں بزنسز کو فرلو سکیم میں توسیع کرتے ہوئے سپورٹ کریں اور ان سیکٹرز کی فنانشل سپورٹ کیلئے ہدایت کریں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں اور موجودہ بزنس ریٹس ہالیڈےکو مارچ 2021 تک توسیع دی جائے تاکہ بزنسز اس کے آگے کی پلان کر سکیں۔