آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مشرقی پاکستان عملاًعلیحدہ ہو چکا تھا بس باضابطہ طور پر اعلان ہونا باقی تھا۔ قائدِعوام ذوالفقار علی بھٹو نے مزارِ قائد آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بابائے قوم کے یوم وفات پر ان کی لحد کے پاس ایک جلسہ عام منعقد کیا اور 11ستمبر1971ء کو ایک تاریخی تقریر کی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا:’’اگر آپ خاموشی سے میری بات سن لیں تو میں آپ کا ممنون ہوں گا کیونکہ ہمارے پاس لائوڈاسپیکرز نہیں ہیں۔ میں یہاں قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی یادداشت تازہ کرنے آیا ہوں۔ میرا یہاں تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر 6 ستمبر کو چند ’معززین ـ‘

یہاں تشریف لائے اور تقاریر کیں۔ اس لئے میں توقع کرتا ہوں کہ حکومت کو میرے تقریر کرنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تعجب کی بات ہے کہ بابائے قوم کے مزار پر تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ سب سے مقدس مقام پر ہمیں اپنے دل کی بات کہنے کی اجازت نہیں مگر میں پورے خلوص کیساتھ ،اپنی روح کی گہرائیوں سے آپ سے بات کروں گا۔ میں ملکی مفاد اور پاکستان کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے بات کروں گا۔ آج یہ سب کہنا اسلئے ضروری ہے کہ میں طویل عرصہ سے مطالبہ کرتا چلا آرہا ہوں کہ لوگوں کی سیاسی آزادی بحال کی جائے۔

اے میرے قائد! آپ نے یہ ملک عوام کیلئے بنایا تھا ان چند لوگوں کیلئے نہیں جن کے ہاتھ میں آج عنانِ اقتدار ہے۔ اے میرے قائد! آج میں آپ کے پاس احتجاج کرنے آیا ہوں ۔ میں یہاں طلبہ، مزدوروں، مزارعین اور دانشوروں کے ایما پر احتجاج کرنے آیا ہوں۔ کیا یہی آپ کا تصور ِپاکستان تھا؟ کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کے لئے آپ نے جدوجہد کی؟ میرے قائد! گزشتہ 23 برس سے لوگ جبر کے سائے میں جی رہے ہیں۔ ہم سے کیا خطا ہوئی ہے؟ ہمارا قصور کیا ہے؟ ہم نے برصغیر کو تقسیم کیا تاکہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ میرے قائد! گواہ رہنا آج ہمیں لب کشائی کی اجازت نہیں۔ خاموشی ہم پر مسلط کر دی گئی ہے۔ بولو میرے قائد بولو!بتاؤ، جبر کی یہ رات کب ختم ہوگی؟ ہم بھول چکے ہیں کہ قانون کی عملداری کیا ہوتی ہے؟

ہمیں قانون کی عملداری کا مطلب ہی نہیں پتا۔ اے میرے قائد! آپ نے چٹاگانگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا’’سول سرونٹس عوام کے خادم بن کر کام کریں۔ آپ نے کہا تھا کہ وہ عوام کے آقا نہیں بلکہ نوکر ہیں۔ فرمایا تھا کہ اُنہیں قومی خزانے سے تنخواہ دی جاتی ہے لہٰذا وہ اپنے حلف کے پابند رہیں اور عوام کی خدمت کریں۔ کہا تھا کہ وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں اور کسی ایک سیاسی جماعت سے گٹھ جوڑ نہ کریں‘‘۔

ذوالفقار علی بھٹو کی یہ طویل تقریر، جس کے چند اقتباسات آپ نے ملاحظہ کئے، فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کے دور میں کی گئی لیکن آمریت کے اِس دور میں کسی نے آئی جی سندھ پر دبائو ڈال کر ایف آئی آر درج کروانے یا بھٹو کو گرفتار کروانے کی کوشش نہیں کی۔

وہ آرڈیننس جس کے تحت مزارِ قائد پر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کے دور میں ہی نافذ ہوا۔ اگرچہ مزارِ قائد پر پہلے بھی تقریر کرنے کی اجازت نہیں تھی مگر سیاسی رہنماؤں کو اور کوئی صورت نظر نہ آتی تو مزارِ قائد پر جاکر آہ وزاری کرلیا کرتے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے پی سی او کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے 14 اکتوبر 1971 کو مزارِ قائد پروٹیکشن اینڈ مین ٹیننس آرڈیننس جاری کردیا، جس کے تحت قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

مزارِ قائد پروٹیکشن آرڈیننس کی شق 6 میں لکھا گیا ہے کہ کوئی شخص مزارِ قائد یا اس کی بیرونی حدود کے 10 فٹ کے علاقہ میں کسی اجلاس، مظاہرے یا اجتماع کا نہ تو انعقاد کرے گا اور نہ ہی اس میں شرکت کرے گا۔ آرڈیننس کی شق7 کہتی ہے کہ کوئی شخص اسلحہ لیکر مزارِ قائد میں داخل نہیں ہوگا۔

شق 8 کے مطابق کوئی شخص اِس قسم کے طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا جو مزارِ قائد کے تقدس یا حرمت کیلئے توہین آمیز ہو یا اُس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ شق 9 میں توڑ پھوڑ کی ممانعت ہے جبکہ شق 10 میں کہا گیا ہے کہ محولا بالا شقوں کی خلاف ورزی پر 3 سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

گویا جب ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا تو حاکمِ وقت ملک بچانے کی تدبیر کرنے کے بجائے اُس آرڈیننس کے ذریعے یہ اہتمام کرنے میں مصروف تھا کہ کوئی من چلا مزارِ قائد پر جا کر مادرِ ملت زندہ باد، آمریت مردہ باد کا نعرہ نہ لگا دے۔

طرفہ تماشا یہ ہوا کہ 11 ستمبر کی شہرہ آفاق تقریر اور اس آرڈیننس کے نفاذ کے چند ماہ بعد ہی ملک دولخت ہوگیا اور قائد عوام سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیئے گئے۔ 1973 کا آئین منظور ہوگیا۔ 1975میں ویلی ڈیشن آف لا ایکٹ منظور کیا گیا تاکہ ڈکٹیٹر کے جاری کئے گئے وہ آرڈیننس جو ناگزیر ہیں ان کی پارلیمنٹ سے توثیق کے بعد انہیں آئین کا حصہ بنا دیا جائے۔

29 جون 1976 کو پارلیمنٹ سے مزار قائد پروٹیکشن اینڈ مین ٹیننس آرڈیننس کا ترمیمی بل منظور ہوا۔ ترمیمی بل کے تحت بعض تکنیکی نوعیت کی معمولی تبدیلیاں تو کی گئیں لیکن ڈکٹیٹر کی عائد کردہ پابندیاں برقرار رہنے دی گئیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اظہار رائے پر عائد ان پابندیوں کو ختم کر دیتے کیونکہ ستائے اور تنگ آئے ہوئے لوگ بابائے قوم کے مزار پر جا کر آہ وزاری نہ کریں تو کدھر جائیں۔ مگر نجانے کیوں اقتدار میں آنے کے بعد لوگوں کی مت ماری جاتی ہے۔

تازہ ترین