آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہائیڈ پارک:اسپیکرز کارنر مظاہرہ میں میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ

ہائیڈ پارک:اسپیکرز کارنر مظاہرہ میں میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ


لندن (مرتضیٰ علی شاہ) مختلف میڈیا آئوٹ لیٹس اور صحافی یونینز سے تعلق رکھنے والے پاکستانی صحافیوں نے گزشتہ روز جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن کی غیر قانونی حراست اور چینل 24 پر پابندی عائد کئے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ہائیڈ پارک میں آئیکونک سپیکرز کارنر پر منعقدہ مظاہرہ میں متعدد پاکستانی صحافی، ایک برطانوی کونسلر اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ رائل بورو آٖف کینسنگٹن اینڈ چیلسیا کے اعزازی آلڈرمین مشتاق لاشاری نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سپیکرز کارنر میں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس ملک نے کبھی بھی صحافت پر غیر ضروری پابندیاں قبول نہیں کی ہیں۔ میں یہاں میر شکیل الرحمٰن کی غیر قانونی حراست کے خلاف احتجاج کے لئے آیا ہوں جنہیں بے بنیاد اور بلا وارنٹ گرفتار کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ قتل کے ایک مشتبہ کو بھی ضمانت مل جاتی ہے مگر میر شکیل الرحمٰن کو اس کیس میں ضمانت نہیں دی گئی۔ لاشاری نے مزید کہا کہ پاکستان اور جنگ گروپ ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں، اگر ایک پر حملہ کیا گیا تو دوسرے کی موجودگی کو غیر محفوظ ہونے کا سامنا ہو گا۔ اس موقع پر صحافیوں نے پاکستان میں آزاد پریس کے لئے نعرے بازی کی اور اجتماعی طور پر پاکستانی صحافیوں اور نیوز آئوٹ لیٹس پر غیر ضروری پابندیوں کو مسترد کر دیا۔ مظاہرین نے میر شکیل الرحمٰن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں ایک سال پرانے پراپرٹی کیس میں 200سے زائد دنوں سے قومی احتساب بیورو کی غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ نیب اس کیس میں کوئی غلط کام ثابت نہیں کر سکا اس کے باوجود میر شکیل الرحمٰن کو ضمانت پر رہائی نہیں مل سکی۔ برطانیہ میں پاکستان پریس کلب کے صدر شوکت ڈار نے کہا کہ6-7ماہ ہوچکے ہیں، میر شکیل الرحمٰن کو غیر قانونی قید میں رکھا گیا ہے۔ اگر پاکستان کی پولیس اپنے انسپکٹر جنرل کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تو ہم صحافی بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس وقت پاکستان کے تمام صحافی احتجاج کر رہے ہیں اور میر شکیل الرحمٰن کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر موجود ایک اور سینئر صحافی نے کہا کہ ہمارا تعلق ایک جمہوریہ سے ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہمارے ساتھی بھی جمہوریت سے مستفید ہوں۔ اجتماع سے جن صحافیوں نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن ایک میڈیا انٹرپریونر سے پہلے ایک صحافی ہیں جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ چلانے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی تقریباً 8 ماہ سے قید موجودہ حکومت اور میڈیا کے لئے اس کی پالیسیوں پر فرد جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں ہزاروں صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے۔ قبل ازیں سائوتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ نے وہائٹ ہائوس، سیکریٹری آف سٹیٹ، سینیٹ کے ارکان اور فارن ریلیشن کمیٹی کے ہائوس ارکان کو لکھے گئے خط میں جنگ و جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی غیر قانونی قید کی مذمت کی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ، یورپین یونین اور جرمن حکومت کسی جرم میں کوئی چارج عائد کئے بغیر میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو پریس کی آزادی پر حملہ قرار دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سال 180 ممالک کے گلوبل پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان142 ویں پوزیشن سے گر کر 145 ویں پوزیشن پر آچکا ہے۔

اہم خبریں سے مزید