• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موقف ہیڈلائنز سے واضح نہیں ہوتا، چیئرمین پی پی کے بیان کو پورا پڑھا جائے، ناصر شاہ



صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر شاہ نے  چیئرمین پی پی پی کے بی بی سی کو انٹرویو پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کے انٹرویو کو پورا پڑھا جائے۔ 

انھوں نے کہا کہ چیئرمین کا موقف ہیڈ لائنز سے واضح نہیں ہوتا۔ پی ڈی ایم  پیپلز پارٹی کی بلائی گئی کثیرالجماعتی کانفرنس کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ پی ڈی ایم ہمارا متفقہ پلیٹ فارم ہے اور ہمارے اتفاق رائے سے آگے بڑھے گا۔ 

سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کیلئے صرف 2018 کے الیکشن میں دھاندلی مسئلہ نہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی کی تمام الیکشنز میں دھاندلی کے مسائل کا سامنا کرتی آرہی ہے۔ ہم نے 1988 اور 2007 کے الیکشن کے نتائج تحفظات کے باوجود قبول کئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کا مسئلہ صرف ایک الیکشن کی انکوائری سے حل نہیں ہوتا۔ ہمیں Truth & Re conciliation Commission کی اشد ضرورت ہے۔ اس کمیشن کے نتیجے میں دھاندلی، مینڈیٹ چرانے اور دیگر مسائل کا خاتمہ ہوسکے گا۔


سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں بھی کچھ نام لے کر کرداروں کا ذکر کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے جو بھی نام لئے اس کے پارٹی کے پاس ثبوت تھے۔ ہمارے حساب سے شق اور ثبوت میں بڑا فرق ہے۔ ہم نے بھی ثبوت کے ساتھ نام اور کردار واضح کئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو تین مرتبہ وزیراعظم رہنے کا تجربہ ہے۔ میاں نواز شریف کوئی بھی بات ثبوت کے بغیر نہیں کہیں گے۔ پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے ساتھ کمیٹڈ ہے اور رہے گی۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں کا اپنا اپنا منشور اور نظریہ ہے۔ ہر جماعت اپنے منشور اور بصیرت کے ساتھ قومی سیاست کرتی ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ منشور الگ ہونے کا یہ مقصد نہیں کہ متفقہ ایجنڈے پر کام نہ ہوسکے۔ پی ڈی ایم کا ایجنڈا ممبر جماعتوں کا متفقہ ایجنڈا ہے اور اسی پر جدوجہد جاری رہے گی۔

قومی خبریں سے مزید