آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امن و امان کے حوالہ سے ضلع بدین میں امن کی فاختہ اڑ چکی ہے۔ بُھوک بدحالی،بے روزگاری کی تازہ لہر نے علاقے کے عوام کا جینا محال بنا رکھا ہے۔ منشیات کی آزادانہ فروخت اور عام استعمال نے نوجوان نسل کو بے راہ روی کا گرویدہ بنا دیا ہے۔ گھر بیٹھے، بنا محنت و انویسٹ کے راتوں رات امیر بننے کے رجحان میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ایسی ہی حالت زار سے دوچار ضلع بدین کے قدیمی و کلیدی شہر ٹنڈو غلام علی ہے، جہاں ایک ہی ہفتہ میں مختلف واقعات میں ہونے والی 4 اموات کی تحقیقات کا عمل ہنوز مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

پہلے واقعے میں ٹنڈو غلام علی تا ماتلی روڈ کے توسیعی کام پر تعینات لیبر میں شامل ایکیسیویٹر مشین کے ڈرائیور اور میرپور خاص کی بلوچ آباد کے مکین 25 سالہ نوجوان امیر علی ولد علی محمد جھولن کی لیبر کالونی کے گیٹ سے نعش ملنے کی اطلاع مقامی پولیس اہلکاروں سے ملی، جو رات کی گشت کی ڈیوٹی علائقہ کے ٹی موڑ پر معمور تھے۔ذرائع کے مطابق لیبر کیمپ انچارج لیاقت نامی شخص و دیگر محنت کشوں نے امیرعلی جھولن کی باڈی کو فوری طور مقامی سرکاری ہسپتال پہنچایا، جہاں رات کی ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹر نے امیر علی جھولن کے فوت ہو جانے کی تصدیق کرلی، جس کے بعد متوفی امیر علی کی نعش مقامی ہسپتال میں رکھی رہی۔

امیر علی جھولن کی فوتگی کی میرپور خاص میں عزیزوں کو اطلاع پر ورثاٗ میں شامل درجنوں جھولن برادری کے افراد لیبر کیمپ سمیت سرکاری ہسپتال پہنچ گئے۔ اور امیر علی کی پراسرار موت پر شدید احتجاج کیا اور ورثا میں شامل الہ بخش، میر محمد جھولن نے جنگ کو بتایا کہ الزام لگایا گیا کہ ان کے عزیز امیر علی جھولن کو جسے تنخواہ کی تازہ رقم ملی تھی، اینٹھنے کے لیے لیبر کیمپ کے باورچی حاجی ملاح او واقعہ کے فوری بعد ر لیبر کیممپ سے مفرور ڈرائیور آصف پر شبہ ہے۔ اس نے قتل کیا ہو۔ انہوں نے پولیس کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس ہمارے نوجوان کی پراسرار موت کی چھان بین میں مخلص نہیں، جب ہی واقعے کی رپورٹ کو سبوتاژ کرنے میں مصروف رہی ۔ 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن دو پولیس اہلکاروں نے رات کو لیبر کیمپ میں، امیر علی جھولن کی نعش کی لیبر کیمپ کے باہر موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ اگر تحقیقات کا رُخ وہیں سے شروع کیا جائے، تو مثبت حقائق تک پہنچ نے میں آسانی متوقع ہے۔ دوسری جانب پولیس نے امیر علی جھولن کی فوتگی کے بعد ٹنڈو محمد خان کی مکین خاتون مسمات رانی بروہی سمیت باورچی حاجی ملاح کو اپنی حراست میں لیا ہوا تھا ۔ جب کہ علاقے میں افواہیں عام تھیں کہ متوفی امیر علی جھولن کو پولیس اہلکاروں نے دوڑا دوڑا کر مارا ہے، متوفی امیر علی جھولن کی نعش تمام دن سرکاری ہسپتال میں رہی۔ اور شدت گرمی کے باعث نعش کو برف سے ڈھانپا گیا بعدازاں مری برادری کی اہم شخصیت شیراز حمزہ مری نے ٹنڈو غلام علی پہنچ کر ورثاٗ سے ملاقات اور پولیس سمیت ڈاکٹرز سے بھی حقائق معلوم کیے۔ 

بعد ازاں ڈی ایس پی ماتلی خالد حسین رستمانی نے ٹنڈو غلام علی پہنچ کر واقعے کی چھان بین کی اور امیر علی جھولن کے ورثاٗ سے لیبر کیمپ میں ملاقات کرکے انصاف کی فراہمی کی یقین دھانی پر ورثاٗ نے ہسپتال سے شام کے وقت متوفی امیر علی جھولن کی نعش لے کر آبائی گاوٗں میرپور خاص روانہ ہو گئے۔ جسکی تاحال مقامی تھانے پر کسی رپورٹ کے اندراج کی اطلاع تک موصول نہیں ہو پائی ہے ۔ 

ورثاٗ کا کہنا ہے کہ اب پوسٹمارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد حقیقی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے۔گا۔ دوسرے واقعے میں گاوٗں نورل احمدانی میں ایک شادی شدہ خاتون مسمات حمیرہ زوجہ محمد اسلم احمدانی نے فیملی کے تعنے تنکوں سے دلبرداشتہ ہوکر مبینہ طور خود پر پستول کے فائر کرکے خودکشی کرلی۔ مقامی پولیس کے ذمہ دار آفیسر نے خودکشی کرنے والی خاتوں مسمات حمیرہ کے والد محمد مبین احمدانی کو محض اس بات پر حراست میں لے لیا، جس نے پولیس کو صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی نعش کا پوسٹمارٹم نہیں کروانا چاہتے اور نہ ہی کوئی پولیس کارروائی کا ارادہ رکھتےہیں۔ 

پولیس نے موقع پر سے خُودکشی کرنے والی خاتون مسمات حمیرہ کے سسر محمد قاسم احمدانی ( جو اس کا رشتہ میں چچا بھی ہے ) کو بھی حراست میں لے لیا اور انکے گھر کے تمام افراد سے ایک ایک کرکے معلومات لی۔ مسمات حمیرہ کے پولیس حراست میں والد محمد مبین احمدانی کو بعد ازاں پولیس نے اثر رسوخ پر چھوڑ دیا جبکہ سسر محمد قاسم کو مسمات حمیرہ کی نماز جنازہ میں شرکت سے نہ صرف روک دیا، بلکہ نماز جنازہ کے وقت اسےپولیس نے روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے تھانے سے مبینہ غائب بھی کروادیا ۔ 

پولیس نے خودکشی میں استعمال کیا جانے والا پستول بھی خاتون کے گھر سے برآمد کرلیا جو کہ اس کے سسر محمد قاسم احمدانی کے نام سے رجسٹرڈ تھا ۔ تیسرے واقعے میں نواحی گاوٗں شاہ محمد آرائیں میں کولہی برادری کے گھروں میں زبردستی داخل ہوکر عورتوں کی چھیڑ خانی پر آرائیں برادری اور کولہی برادری کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجہ میں لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لگنے کے باعث آرائیں برادری کا عظمت ٓ آرائیں، جب کہ کولھی برادری کے شیوو، بھاوو اور اوکو کولہی زخمی ہو گئے تھے، جن میں سے عظمت آرائین کو شدید زخمی حالت کے باعث حیدر آباد منتقل کردیا گیا تھا ،جب کہ ٹنڈو غلام علی پولیس نے عظمت ٓرائین کو زخمی کرنے کے الزام میں زخمی اوکو اور بھاوو کولہی کو لاکپ کردیا تھا اور زخمی شیوو کولہی دوسری صبح مقامی سرکاری ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ھوئے ہلاک ہو گیا تھا، جس پر کولہی برادری کے درجنوں افراد مقامی ہسپتال پہنچ گئے تھے اور ہلاک شدہ شیوو کولہی کے بیٹے راموں، بیواہ شریمتی دھنی اور عزیز عالم چند اور شریمتی آمی اورشریمتی گومی کی قیادت میں کولہی برادری کی خواتین اور مرد و بچوں نے نعش کے سامنے سرکاری ہسپتال کے احاطے میں احتجاج بھی کیا ۔ 

اس احتجاج کے دوران اقلیتی سینیٹر کرشنا کماری نے بھی غم زدہ خاندان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے قانونی اور اخلاقی مدد کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد ہلاک شدہ شیوو کولہی کی نعش کا پوسٹمارٹم کرواکر نعش ورثاٗ کے حوالی کی گئی۔ پولیس سے جب بھی کسی واقعے پر موٗقف لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو ذمہ دار پولیس آفیسر ٹرخانے کی پالیسی اپناتا ہے اورپولیس کے منفی رویے پر سینیئر صحافیوں میں رنج و غم پایا جاتا ہے۔ جنہوں نے بطور احتجاج تھانے سے سرکاری خبروں کی معلومات سے گریز کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید