• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکیس اور بائیس نومبر2020 کو ہونے والا اہم ترین واقعہ یہ تھا کہ سعودی عرب نےG-20ممالک کی ورچوئل میزبانی کی۔G20گروپ پچھلے بیس سال سے کام کر رہا ہے اور اس نے اکیسویں صدی میں دنیا کی عظیم ترین معیشتوں کو مل بیٹھنے، گفت و شنید کرنے اور اہم فیصلے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔اس طرح یہ ایک بین الاقوامی فورم ہے جس میں انیس ممالک کی حکومتیں اور مرکزی بینکوں کے گورنر مل بیٹھتے ہیں۔انیس ممالک کے علاوہ بیسواں رکن یورپین یونین ہے۔

حالیہ اجلاس کی اہم بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کسی عرب ملک نے اس اجلاس کی میزبانی ہے گو کہ وہ بھی ورچوئل ہی رہی یعنی اسکرین کے ذریعے۔ اس اجلاس کے سامنے دو سب سے بڑے مسئلے تھے کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی مسائل ۔ دو روزہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کورونا وائرس کی دوا یا ویکسین کی تیاری کے لئے عالمی کوششیں تیز تر کر دی جائیں۔ 

پھر یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ ویکسین اور دوا تیار ہونے کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دنیا کے تمام افراد کو اس کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ تقریباً تمام سربراہان نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ویکسین کی تیاری اس وقت سب سے بڑھ کر عالمی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ G-20کے ممالک نے اجلاس سے پہلے ہی بیس ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کورونا کی وبا سے مقابلے کے لئے مختص کر رکھی تھی کیونکہ اب اسکے متاثرین کی تعداد دنیا بھر میں تقریباً چھ کروڑ اور اموات بھی تقریباً پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی ہیں۔

ویکسین کے علاوہ گیارہ کھرب ڈالر سے زیادہ رقوم عالمی معیشت کو بچانے پر صرف کی جا رہی ہے۔ G-20کے ممالک نے غریب ممالک سے قرضوں کی وصولی میں بھی تاخیر کی منظوری دے رکھی ہے، جنہیں اگلے برس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔اب اگلے مارچ یا اپریل میں جب G-20 ممالک کے وزرائے مالیات عالمی فنڈ اور عالمی بینک کی تجاویز پر غور کریں گے تو حتمی فیصلے کئے جائیں گے جس میں ممکن ہے قرضوں کی وصولی کو مزید موخر کیا جا سکے۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو ہر ممکن مدد دے گا اور ویکسین کو تجارت بنانے کے بجائے مفاد عامہ کے طور پر فراہم کرے گا۔روس کے صدر پوٹن نے دعویٰ کیا کہ ان کا ملک اسپونتک پانچ نام کی ایک ویکسین تیار کر چکا ہے جو جلد دنیا بھر کے لئے دستیاب ہو گی۔یورپی یونین نے ان دعوئوں سے قطع نظر اس بات پر زور دیا کہ اب بھی چار سے پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ویکسین کو ابھی مزید تجربات کی ضرورت ہے جس کیلئے رقوم درکار ہیں تاکہ ویکسین اگر کامیاب ہو بھی جائے تو اسے تیار کرنا، محفوظ طریقے سے عوام تک پہنچانا اور بڑے پیمانے پر استعمال کرنا سب کیلئے رقوم کی ضرورت ہو گی اس لئے صرف ویکسین کی کامیابی کافی نہیں ہے۔جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل جو اس سارے بحران میں ایک عالمی مدبر کے طور پر سامنے آئی ہیں انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے پچاس کروڑ یورو فراہم کئے ہیں اور G-20کے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے حصے میں اضافے کریں۔

اس اجلاس کی ایک اور اہم بھی اور مضحکہ خیز بھی بات یہ تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ جو صدارتی انتخاب ہار چکے ہیں مگر شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ انہوں نے انتہائی غیر سنجیدہ رویئے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف کچھ دیر کیلئے اجلاس سے خطاب کیا اور پھر گولف کھیلنے چلے گے۔صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی G-20کے اجلاسوں میں دیگر سربراہان کے لئے مسائل پیدا کرتے رہے تھے مثلاً پچھلے اجلاس میں ماحولیاتی مسئلے پر انہوں نے خوب رنگ میں بھنگ ڈالا تھا۔ اب چونکہ وہ اتنخاب ہار چکے ہیں اس لئے دیگر سربراہان بھی ان کو اتنا سنجیدہ نہیں لے رہے۔

اب تک G-20کے ممالک نے غریب ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں جو سہولت دی ہے اس کے تحت چھیالیس ممالک کے تقریباً چھ ارب کے قرضے کی وصولی موخر کی گئی ہے مگر اب بھی تیس پینتیس ممالک ایسے ہیں جو مزید سہولت کے خواہاں اور ضرورت مند ہیں اور تقریباً بارہ ارب کے قرضوں کو موخر حاہتے ہیں۔G-20کے ممالک کو امید ہے کہ امریکا میں نئے صدر کی آمد کے بعد ٹرمپ کے دور کی حماقتیں ختم ہو جائیں گی، اس لئے G-20کے اجلاس میں تین باتوں پر خاص طور پر زور دیا گیا۔ ایک تو بین الاقوامی تجارت میں حائل پابندیوں اور رکاوٹوں کو کم کرنے کی بات کی گئی تاکہ عالمگیریت کا جو عمل ٹرمپ نے متاثر کیا تھا وہ دوبارہ صحیح راستے پر آ سکے۔

دوسرے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ٹرمپ نے جو رکاوٹیں کھڑی کیں ان کو ختم کیا جا سکے اور عالمی طور پر ماحولیات کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کو روکنے کیلئے عالمی اتفاق رائے کے عالمی برادری G-20کی قیادت میں آگے قدم بڑھائے۔اور تیسرے یہ کہ عالمی ادارہ صحت WHOکو جو امریکا نے ٹرمپ کی صدارت میں نقصان پہنچایا، اس کی تلافی کی جائے تاکہ دوبارہ WHOاپنے مقاصد کے حصول کے لئے سکون سے کام کر سکے۔جبG-20کا دو روزہ اجلاس ختم ہوا تو ٹھوس شکل میں پیش رفت نسبتاً کم نظر آئی اور اس کی ایک بڑی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں میں بہت واضح فرق تھا جو غالباً ٹرمپ کے بقیہ مدت صدارت کے دوران رہے گا۔

اجلاس میں امریکا نے تقریباً تمام اعلانات اور موضوعات سے لاتعلقی کا رویہ برقرار رکھا،بعض معاملات تو بڑی حد تک متنازع بھی بنا دیئے گئے۔ جب بائیس نومبر کی رات اجلاس کا اختتامی اعلامیہ جاری کیا گیا تو اس میں نہ صرف کورونا وائرس کے بارے میں بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بھی امریکی رویئے سے دیگر ارکان کو مایوسی ہوئی۔پھر بھی دیگر ارکان نے امریکا کی لاتعلقی کا اثر اس طرح زائل کرنے کی کوشش کی کہ اپنے اعلامیے میں اقوام متحدہ کے کردار اور اس کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی خاص طور پر اعلامیے میں عالمی ادارہ صحت کے بارے میں امریکی شکوک وشبہات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ جولائی 2020 میں صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکا کی علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اس کیلئے امداد بند کرنے کا کہا تھا۔ امریکی امداد بند ہونے سے ادارے کی کورونا وائرس سے مقابلے کی صلاحیت اور کوششوں کو زبردست دھچکا پہنچا جس کو دیگر بڑے ممالک نےکم کرنے کی کوشش کی۔ صدر ٹرمپ کو ان حرکتوں سے امریکا کو نہ صرف بین الاقوامی سبکی ہوتی رہی بلکہ امریکا کو دنیا میں بھی مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا اب امکان ہے کہ جو بائیڈن کے آنے سے معاملہ بہتر ہوگا۔اس کے باوجود اجلاس کے حتمی اعلامیےمیں کوئی بڑا اور غیر متوقع اعلان نہیں کیا گیا صرف اپیل کی گئی کہ عالمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح نئی پیش رفت کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک کام اور کیا کہ ’’اوپن اسکائی ٹریٹی‘‘ سے بھی امریکا کو باقاعدہ نکالنے کا اعلان کیا۔یہ معاہدہ تیس برس پہلے کیا گیا تھا جس کے تحت معاہدے میں شامل ممالک ایک دوسرے کو اپنی فضائی حدود بلا روک ٹوک پروازوں کی اجازت دیتے ہیں جن میں ایسے طیاروں کی پروازیں بھی شامل ہوتی ہیں جن میں حساس آلات لگے ہوتے ہیں، جو یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی ملک چوری چھپے فوجی سرگرمیوں یا تیاریوں میں مشغول تو نہیں ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام الزام لگاتے رہے تھے کہ روس اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی کا عمل مئی 2020میں شروع کر دیا تھا اور اب چھ ماہ بعد باقاعدہ طور پر امریکا اس سے خارج ہو گیا ہے۔نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن اس معاہدے میں امریکا کو شامل رکھنے کے حامی رہے ہیں اور زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ جب جنوری 2021میں بائیڈن اقتدار سنبھالیں گے تو غالباً ان کے سب سے اولین اعلانات میں ایک اعلان یہ بھی ہو گا کہ وہ عالمی ادارہ صحت اور اوپن اسکائی معاہدے میں امریکا کو دوبارہ شامل کر دیں گے۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جوبائیڈن کو درپیش ہو گا وہ تخفیف اسلحہ کے بارے میں روس کے ساتھ معاہدہ ہے جو اپنی مدت ختم کر رہا ہے جس میں توسیع سے صدر ٹرمپ صاف انکار کر چکے ہیں مگر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو بچانے کی کوشش کریں گے۔

G-20کے اختتامی اعلامیے میں مزید ایسے موضوعات پر بات کی گئی ہے جو صدر ٹرمپ نے مسائل کی شکل میں کھڑے کئے تھے۔ مثلاً ماحولیاتی استحکام پر بھی بات کی گئی ہے ۔سب سے اہم موضوع ماحولیات ہی رہا جس کو صدر ٹرمپ مسلسل یہ کہہ کر رد کرتے رہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے کوئی مضر اثرات نہیں ہونے والے اور نہ ہی ماحول خراب کرنے میں انسانی کردار کو مانتے ہیں۔ G-20کے اجلاس کی سب سے مایوس کن بات یہی تھی کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے کی مخالفت کی اور الزام لگایا کہ وہ معاہدہ ماحول کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔

پچھلے سال بھی روس کا جاپان میں ہونے والے G-20اجلاس میں بھی صدر ٹرمپ نے امریکا کے ہی قریب ترین اتحادیوں کو نشانہ بنا کر شدید تنقید کی تھی۔اپنی اس تنقید میں ٹرمپ نے خود میزبان ملک جاپان کو بھی نہیں بخشا تھا۔ G-20کے حالیہ اجلاس میں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ رکن ممالک نے غریب ممالک قرضوں کی موخری کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے برس میں G-20اپنے وعدوں پر کس حد تک برقرار رہ سکتے ہیں۔