• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم لاکھوں روپیہ گھر کی تعمیر اور اس کی آرائش پر خرچ کردیتے ہیں لیکن پاور سسٹم کی تنصیب پر خاص دھیان نہیں دیتے اور روایتی طریقے اپناتے ہوئے انڈر گرائونڈ وائرنگ کروالیتے ہیں، جبکہ پاورسسٹم کی تنصیب کے نئے اور متبادل طریقے بھی دستیاب ہیں ، جس میں سب سے زیادہ خیال معیاری کیبلز کے استعمال میں رکھا جاتاہے جس سے بجلی کی یقینی بچت ہوتی ہے۔ جتنی خالص اور بہترین کوالٹی کی تار استعمال ہو گی اتنی ہی بجلی کی ترسیل یا کنڈکٹیویٹی بہتر ہو گی۔ معیاری کیبل کے استعمال کی وجہ سے دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے گھر کی برقی مصنوعات زیادہ عرصہ چلتی ہیں۔

گھر کی تعمیر کے وقت الیکٹرک وائرنگ کیلئے تینوں آپشنزجیسے کہ پاور اسٹیشن سے آنے والی بجلی ، یوپی ایس یا جنریٹر کی الگ ائرنگ کروانی چاہئےاور ان کے استعمال کے آپشن یا ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم پر منتقل کرنے کا عمل آسان ہوناچاہئے، اتنا آسان کہ آپ کے گھر کا ہوشیا ربچہ یا خواتین بھی اسے آپ کی غیر موجودگی میں انجام دے سکیں۔ 

اس سلسلے میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا آپ کے ہر کمرے اور باورچی خانے کو علیحدہ سرکٹ بریکر ملا ہوا ہے؟ یا پورا گھر ایک ہی بریکر اور ایک ہی مین سوئچ پہ چل رہا ہے؟ یاد رکھیے کہ اس مد میں معمولی سا خرچ آپ کو کسی مہلک حادثے سے بچا سکتا ہے اور ذرا سی لاپرواہی بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے بجلی کے آلات کا جائزہ لیجیے، زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات مثلا موٹر، ائر کنڈیشنر، ریفریجریٹر وغیرہ اگر علیحدہ سے ارتھ ہوں تو بہتر ہے۔ ان آلات کو پوری وولٹیج ملتی رہے۔

معیاری انڈرگراؤنڈ وائرنگ کیا ہوتی ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہےکہ گھر کی تعمیر کے دوران جو بھی تاریں، ساکٹس، سرکٹس استعمال کیے جارہے ہوں وہ میعاری ہوں ۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ تانبے سے بہتر بجلی کاکوئ موصل نہیں اور اگر آپ نے خالص تانبے کی تاروں کا استعمال کیاہے توپھر سالہا سال آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

آپ گھر کیلئے نئی وائرنگ نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو کچھ باتیں یاد رکھیں۔

1۔کنڈکٹرکی موجودہ درجہ بندی لوڈ کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہئے۔

2۔ایک سرکٹ بریکر یا ایک لنک کے اندراج کے نقطہ پر سپلائی ہر کنڈکٹر پر ایک فیوز کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے۔

3۔مرکزی بورڈ کا محل وقوع اس طرح ہونا چاہئےکہ آگ لگنے یا ہنگامی حالات کی صورت میں فراہمی منقطع کی جاسکے۔

4۔ مین سوئچ بورڈ غیر مجاز افراد کی طرف سے چھیڑچھاڑ کے خلاف حفاظت کے طور پر تالا لگا کےرکھنا چاہئے ۔

5۔ گیس یااسٹوو یا سنک کے اوپر یا واشنگ کمروں میں کسی بھی واشنگ یونٹ کے 2.5M کے اندر اندر سرکٹ نہیں کرنا چاہئے۔

6۔ ایک ایک مرحلے 240V کی فراہمی سے منسلک چھوٹے تنصیبات کے لئے، لکڑی کے تختے ،اہم بورڈز یا ذیلی بورڈز کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

7۔ ہر سرکٹ یا اپریٹس علیحدہ سوئچ کے ساتھ فراہم کی جانی چاہئے۔

8۔ تمام سوئچ آپریٹ کرنے کے لئے قابل رسائی ہونا چاہئے۔

9۔ سرکٹ کی وجہ سے مستقبل میں بوجھ میں 20 فیصد کے متوقع اضافہ کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہئے۔

10۔ کسی بھی عمارت میں، روشنی کی وائرنگ اور بجلی کی وائرنگ علیحدہ رکھا جانا چاہئے۔

11۔ سرکٹ میں تمام ڈسٹری بورڈز نہ زیادہ فرش کی سطح سے اوپر 2M زائد کی بلندی پر نصب کیا جائے چاہئے۔

بجلی کی وائرنگ کے معیار

وائرنگ سرکٹس کو بڑھانے کے قوانین، گھر میں تعمیر اور اس کے ساتھ ساتھ اپارٹمنٹ میں اکثر وائرنگ کی مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔یقینا، ایسا کرنے کے لئے پیشہ ورانہ الیکٹریشن کی خدمات حاصل کرنا سب سے بہتر ہے، لیکن کچھ گھر مالک ان کے اپنے تمام کام کرتے ہیں، اور اس کے لئے وہ اپنے حساب سے وائرنگ کا کام انجام دیتےہیں۔ 

دراصل یہ کام بھی دوسرے کاموں کی طرح منصوبہ بندی کے ساتھ شروع ہوتا ہےاور اصولوں پر مبنی ہے۔ جس کاسب سے پہلا اصول ہے اپنی حفاظت اور پھر سہولت۔ذرا سی بھی غفلت ناقابل قبول ہے، کیونکہ بجلی کے ساتھ ذرا سی بے لاپرواہی خطرناک ہو سکتی ہے۔

متبادل انتظام

کسی زمانے میں جنریٹر کی بڑی مانگ تھی، اس کے بعد یوپی ایس نے گھر وں میں جگہ بنانی شروع کی اور گیس سے چلنے والے سسٹم بھی گیس میں کمی یا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتے ، تاہم آپ پھر بھی ان کو اپنے پاور سسٹم کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ 

آج کل سولر پینلز بھی دستیاب ہیں جن سے لوڈ شیڈنگ کے وقت گھر کا ایک کمرہ روشن رکھنے کیلئے چھوٹا اور زیادہ استعمال کیلئے بڑا سولر سسٹم نصب کیا جاسکتاہے اور آلات کے زیادہ استعمال کیلئے اس سسٹم کو وسیع کرنا پڑے گا۔ سولر سسٹم کے استعمال میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں سولر انرجی سے چلنے والے اپلائنسز جیسے کہ پنکھے، روم کولرز اور بلب بھی دستیاب ہیں۔

بجلی اسٹو ر کرنے والے یوپی ایس یا گیس سے چلنے والے جنریٹرز بھی جب کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد جواب دے جاتے ہیں تو اس کاحل اب سولر یوپی ایس سسٹمز کی صورت میں دستیاب ہے ، یعنی متبادل توانائی کے آپشنز موجود ہیں ،بس انہیں کام میں لانے کی ضرورت ہے۔ 

سولر یوپی ایس دراصل ایک انورٹر ہے جس میں اب سولر چارج کنٹرول موجود ہوتاہے ، یہ سولر ہائبرڈ کنورٹر بھی کہلاتاہے۔پاکستان میں سورج دن میں کئی گھنٹے چمکتاہے، جس کی انرجی فائدہ اٹھا کر اپنے پاور سسٹم کو تقویت دی جاسکتی ہے۔