آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میری خوش قسمتی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس بڑھاپے میں پہلی دفعہ ووٹ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائی۔ تین چار گھنٹے کے اس ناقابلِ فراموش عمل میں قوم کاایسا جوش و جذبہ دیکھنے کوملاکہ مزید زندہ رہنے کی تمنا ہوئی اور زبان سے بے ساختہ پاکستان زندہ باد نکلا۔ خطرات اور من گھڑت خدشات کے باوجود الیکشن نہایت خوش اسلوبی سے منعقد ہوئے جس پر عوام،میڈیا اورالیکشن کمیشن خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ الیکشن کے نتائج اورتجزیے جنہیں آپ گذشتہ کئی روز سے سن رہے ہیں،ان سے مندرجہ ذیل راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے:۔
ا۔منفی سوچ اوربدنیتی دیرپاثابت نہیں ہوتی۔ جھوٹ، بناوٹ اورمبالغہ آرائی حقیقتاً خودفریبی کا دوسرا نام ہے کیونکہ:
سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
ب۔عوام کو بھولا اور بیوقوف سمجھنے والے احمقوں کی جنّت کے باسی ہیں۔پختونوں کی سیدھی سادی اور مخلص سوچ کوکم عقلی سمجھنے والوں کو خود عقل کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
ج۔حلقے میں ترقیاتی کام اپنی جگہ ضروری ہیں مگر عوام اس عمل کے پیچھے کارفرمانیک نیتی ،ایمانداری اور خلوص کو بھی دیکھتے ہیں۔
د۔سیاسی شعبدہ بازی کے نتیجے میں چھوڑے ہوئے شوشے اسی طر ح ہیں جیسے گیس سے بھرے غبارے ہوا میں چھوڑدیے جائیں۔
ہ۔جس عمل کو آپ اپنا نہ

سمجھیں، اس کا حصہ نہ بنیں وہ کبھی بھی آپکی توقع کے مطابق نتائج نہیں دے سکتا۔
و۔جو جماعت فقط اشتہاروں پر ہی اکتفا کرے وہ صرف اشتہاری ہی ہوجائے گی۔
قارئینِ کرام! ہمارے سیاسی قائدین جو اپنے آپ کو شطرنج کا ماہر اور عوام کو فقط مُہرا سمجھتے رہے ان کی عقل شریف میں یہ آچکا ہوگا کہ عوام اب مزید غلامی برداشت نہیں کر سکیں گے کیونکہ مک مکاؤ کاوقت اب مک چکا! ’اَنکل سام کے اَنکل ابراہام لنکن‘ نے کیا خوب کہا،
"YOU CAN FOOL ALL THE PEOPLE SOME OF THE TIME AND SOME OF THE PEOPLE ALL THE TIME BUT YOU CAN NOT FOOL ALL THE PEOPLE
ALL THE TIME."
اس الیکشن کے تمام عمل میں اگر سب سے بڑی خوشی کی بات دیکھی گئی تو وہ تھی عوام کی تاریخی شرکت جس کا سہرا بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف اور میڈیا کے سرجاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف گو کہ اس بار نیا پاکستان تو قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر نہ بنا سکی لیکن کیا یہ بات کو ئی معمولی ہے کہ اس نے پاکستان میں سیاست کوایک مثبت سمت دے کر مضبوط بنیادیں ڈال دی ہیں ۔ ہمارے پیارے صوبے خیبر پختونخواہ کے لوگ جنہیں ہمیشہ چاندایک دن پہلے نظر آجاتاہے وہ اس سیاسی افق پر بھی باقی صوبوں پر سبقت لے گئے ہیں۔ اب جمہوریت کی بقاء کے لیے چند گزارشات آپکی نظر کرتا ہوں:۔
ا۔عوام کے جاگے ہوئے شعور کی چنگاری کو قائم ودائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ب۔مغلیہ دور کی شاہانہ سوچ صدیوں سے دم توڑ چکی مگر افسوس کہ اس کی باقیات ہمارے ہاں اب بھی موجود ہیں جن کو ہمیں دفن کرناہوگاج۔رسہ گیری اور داداگیری کی سوچ اور روش کو دہشت گردی کا درجہ دے کرختم کرنا ہوگا۔د۔جو سیاسی پارٹیاں اب تک اپنے اندر جمہوریت نہ لا سکیں وہ ملک میں کیا خاک جمہوریت لائیں گی؟ہ۔الیکشن کمیشن نے فخروبھائی جیسے بزرگ و باوقار شخص کی سربراہی میں گو کہ شاندار کام سرانجام دیا لیکن پھر بھی اس ادارے میں دوررس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔نگراں حکومت کے چناؤ کے طریق کار کو مک مکاؤ کے فلسفے سے آزاد کرناہوگا۔و۔دھاندلی کے عمل کو روکنے اور قائدین کے دھاندلی کی دھند میں واویلے کو روکنے کے لیے ووٹنگ کے جدید طریقے رائج کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پرچھ گھنٹے میں ایک بھی ووٹ نہیں بھگتااور کئی ایسے تیزوطرارپولنگ سٹیشن بھی تھے جن میں پانچ سیکنڈ میں چھ ووٹر بھگت گئے۔اس برق رفتاری پر الیکشن کمیشن کے اسٹاف کے علاوہ جناّت بھی شرمندہ ہیں۔ز۔جیسے کہ میں گذشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کو سیاستدان کم مگر سَچے،سُچے،مخلص اورنڈر لیڈروں کی زیادہ ضرورت ہے۔ح۔گو کہ میڈیا کا کلیدی کردار قابلِ ستائش ہے پھر بھی میڈیا کے کچھ ایسے گھرانے سننے اور دیکھنے میں آئے جو موسیقی کے کئی گھرانوں کا مخصوص راگ الاپتے رہے۔ہمیں ان سے توقع ہے کہ وہ پاکستان کی راگنی بلا سود نشرکرنے میں مثبت کردار اداکریں گے۔ ط۔سپن ڈاکٹروں کی گُگلیوں سے سیاسی قائدین کو پرہیز کرنا ہوگا۔ایک بات جس کا افسوس ہوا کہ ابھی نتائج غیر حتمی اور غیرسرکاری ہی تھے کہ ہم نے ایک نامی گرامی تجزیہ نگار کو حتمی رائے دیتے ہوئے سناکہ آنے والی حکومت پانچ سال کسی بھی صورت نہیں چلے گی۔ شاید ہم گذشتہ 65 سالوں کے تجربات سے بار بار گذرکر منفی سوچ میں اس قدر پختہ ہو چکے ہیں کہ ہمارے ذہنوں میں مثبت سوچ کی جگہ ہی باقی نہیں رہی۔ میں تو اس سارے منظر نامے کو بہت ہی امید افزاء اور امید نو سے تعبیر کروں گا اور کہوں گا کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی سوچ پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ :ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں