آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشش ثقل کے نظرئیے کا بانی ’’آئزک نیوٹن‘‘

اسماء یعقوب، ملتان

ہمیشہ کی طرح عشاء کی نماز کے بعدسارے بچے ابو کے گرد جمع ہو گئےاور کہا،’’ ابو ! آپ آج بالکل نئی کہانی سنائیں’’، ابو نے کہا، ’’ٹھیک ہے، آج میں بالکل نئی کہانی سناؤںگا‘‘۔

ابو نے کہانی شروع کی۔’’بچو! 4؍جنوری 1643ء انگلستان کےشہر لنکا شائرمیں ایک غریب کسان کے گھر ایک کمزور اور بیمار بچہ پیدا ہوا، پیدائش سے تین مہینےقبل ہی اس کا باپ فوت ہو چکا تھا‘‘’’ اس کے باپ کا نام آئزک نیوٹن تھا‘‘۔’’ جب نیوٹن پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اپنے مرحوم شوہر کی یاد میں نو مولود بچے کا نام بھی آئزک نیوٹن رکھا، جب نیوٹن تین برس کا ہواتو اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی، ’’ نیوٹن کا سوتیلا باپ اس کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا تھا‘‘۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کی ماں نےنیوٹن کو دادا دادی کے گھررہنےبھیج دیا اور خود اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی‘‘۔بیمار ی کے باعث نیوٹن کافی غصیلا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا کوئی دوست نہیں تھا۔ وہ اکیلا بیٹھ کر چاند ستاروں کے بارے میں سوچتا رہتا۔ نیوٹن خرابی صحت کی وجہ سے بارہ برس کی عمر میں اسکول داخل ہوا، پڑھائی میں اس کا دل نہیں لگتا تھا اور ہر وقت اسکول میں کسی نہ کسی سے جھگڑتا رہتا تھا‘‘۔

’’روزروز کے جھگڑوں سے تنگ آکرماسٹر صاحب نے اسے اسکول سے نکال دیا‘‘۔’’ اسی دوران نیوٹن کا سوتیلا باپ بھی مرگیاجس کے بعد وہ اپنی ماں کے پاس آ کر رہنے لگا۔شوہرکی وفات کے بعد نیوٹن کی ماں نے گھر کا خرچہ چلانے کے لئے نیوٹن کوکھیتی باڑی کے کام پر لگا دیا ۔ لیکن اسے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا ، وہ چھپ چھپ کر کتابیں پڑھا کرتا تھا‘‘۔ ’’ایک دن اس کے چچا نے اسے کتابیں پڑھتے دیکھ لیا، انہوں نے اس کی ماں سے کہہ کر ایک بار پھر اسی اسکول میں داخل کروادیا‘‘۔’’نیوٹن اسکول جانے سے پہلے یہ عہد کر چکا تھا کہ وہ پڑھائی میں سخت محنت کرے گا‘‘۔’’ دل لگا کے پڑھنے کی وجہ سے بہت جلد اس کا شمار اسکول کے ذہین طلباء میں ہونے لگا‘‘۔’’ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعداسے کالج میں داخلہ مل گیا۔کالج کی فیس اور کتابیں خریدنےکے لیے اسے پیسوں کا انتظام خود ہی کرنا پڑتاتھا، اس کے لیے اس نے کالج کے امیرطلباء کے ذاتی کام کاج کرنا شروع کر دیئے‘‘۔

’’اپنی محنت کی وجہ سے اس کو اسکالرشپ ملی اور پھر وہ سارا وقت پڑھائی پرصرف کرنے لگا۔ یہیں سے اس کی کامیابیوں کا دور شروع ہوا۔ نیوٹن نے فزکس، ریاضی اور علم نجوم کے بہت سے لاینحل مسائل اپنی ذہانت سے حل کر دیے۔ایک روز وہ سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا تھاکہ اس کے قریب سیب آکرگرا۔ جسے دیکھ کر نیوٹن سوچ میں پڑ گیا کہ اگریہ سیب زمین کی طرف اسی سمت میں گرےاور گرتا چلا جائے تو تقریباً زمین کے مرکز سے ہو کر گزرجائے گا۔ زمین پر سیب گرنے کا سبب نیوٹن نے کشش ثقل بتایا اور یوں ’’کشش ثقل کا نظریہ ایجاد ہوا‘‘۔ اس نے ہر طرح کی حرکت کے الجھے ہوئے مسئلے کو حرکت کے تین قوانین کی مدد سے سمجھنا آسان کر دیا۔ اس کے علاوہ زمین کی طرف گرنے والی چیزوں سے لے کر تمام سیاروں کی گردش کو ایک آسان سے قانون میں سمو دیا۔

اس نے ایسے فارمولے ایجاد کیے جن کی وجہ سے دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کو’’سر آئزک نیوٹن“ کاخطاب دیا گیا۔ اس عظیم سائنسدان کا کہنا ہے کہ” کوئی بھی ایجاد ایک بڑی سوچ کے بغیر ممکن نہیں“، نیوٹن نے ہزاروں ایسی ایجادات کیں جس کی وجہ سے تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ کے لئےامرہو گیا۔ اس نے ریاضی کے علم میں کچھ اضافے بھی کیے اس کے بنائے ہوئے قوانین کو ’’نیوٹن کے قوانین‘‘ کہا جاتا ہے۔’’ لا ء آف موشن ‘‘کےنظریئے کے نام سے کچھ قوانین ایسے ایجاد کیے جن کا استعمال آج بھی سائیکل سے لے کر ہوائی جہاز بنانےمیں کیا جاتا ہے۔

نیوٹن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”قدرتی فلسفہ کے حسابی اصول“ لکھ کر سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ یہ کتاب سائنسی تاریخ کی اہم ترین کتا ب تسلیم کی جاتی ہے۔اس کتاب میں کشش ثقل کے قانون اور ِ حرکت کے قوانین پر بھی بحث کی گئی ہے۔ نیوٹن کے تیسرے قانونِ حرکت”ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے“ نے نہ صرف سائنسی میدان میں انقلاب برپا کیا بلکہ یہ قانون دیگر علوم و فنون میں بھی یکساں اہمیت کا حامل بن گیا‘‘۔

اس کے بعد وہ کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہوا شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچ گیا کہ دنیاکے بڑے بڑے سائنس دانوں کو پیچھے چھوڑ دیا‘‘۔بچو! اس کہانی سےہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر انسان محنت کرے تووہ دنیا تسخیر کرسکتا ہے۔