آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نور فاطمہ

کسی گاؤں میں فضلو نامی محنت کش رہتا تھا۔ وہ روز مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلتا تھا، جو کبھی مل جاتی اور کبھی اسے خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا۔ اس کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا۔ دن بھر محنت مشقت کے بعد اسے جو اجرت ملتی ، وہ ا س کے اہل خانہ کا پیٹ پالنے میں ہی صرف ہوجاتی جس کے بعد پھر خالی ہاتھ ہوتا۔اسی طرح وقت گزرتا رہااور اس کے بچے بڑے ہوتے گئے۔ اب ان کی ضرورتیں اس کی قلیل آمدنی سے پوری نہیں ہوتی تھیں ،اس آمدنی کا دارومدار بھی مزدوری ملنے پر تھا۔ 

اسے کئی کئی روز تک بے کار بیٹھنا پڑتا تھا۔ضرورتیں بڑھنے کے بعد اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اب آمدنی کا کو ئی مستقل ذریعہ تلاش کرو ، بچے بڑے ہورہے ہیں، ان کی تعلیم اور دیگرضرورتوں کے لیے بھی پیسے کی ضرورت پڑے گی۔ محنتی تو وہ تھا ہی، بیوی کی بات سن کراس نےایک فیصلہ کیا۔ اگلے ہی روز وہ بازارگیا اور اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی اس سے ایک کلہاڑا خرید کرلایا۔ اس کے گھر کے قریب ہی جنگل تھا، اس نے وہاں سے لکڑیاں کاٹیں اور بازار میں لے جاکر فروخت کردیں ۔ اس سے اچھی خاصی آمدنی ہوئی اوریہ اس کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس نےاور اس کے بیوی ، بچوں نے پیٹ بھرکر کھانا کھایا۔

لکڑیاں کاٹنے کا کام اس کا مستقل روزگارکا ذریعہ بن گیااور اس سےحاصل ہونے والی آمدنی سے گھریلو حالات بہتر ہونے لگے۔ وہ روز کوشش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ لکڑیاں کاٹے تاکہ ان کی فروخت سے زیادہ پیسے آئیں۔لیکن چند ماہ بعد ہی اس کے استعداد کار میں کمی آنے لگی اور اس کے کلہاڑے سے اتنی لکڑیاں نہیں کٹ پاتیں جتنی وہ ابتدائی دنوں میں کاٹتاتھا۔ اس صورتحال سے اس کی روزانہ کی آمدنی بھی متاثر ہونے لگی اور اس کے گھریلو حالات پھرسے بدتر ہونے لگے۔ اس کی بیوی نے اس سے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اب اس سے پہلے کی طرح زیادہ لکڑیاں نہیں کاٹی جاتیں حالانکہ وہ تمام دن محنت کرتا ہے۔ کلہاڑا درخت پر پہلے کی طرح نہیں چلتاجس کی وجہ سے اسے لکڑیاں کاٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ 

اس کی بیوی نے انتہائی سوچ بچار کے بعد اپنے شوہر سے پوچھا، کہ اس نے کلہاڑا خریدنے کے بعد کتنی مرتبہ اس پر دھار لگوائی ہے،؟فضلو نے جواب دیا کہ اسے دھار لگوانے کا خیال ہی نہیں آیا، دوسری بات یہ کہ اگر میںکلہاڑا تیز کرانے جاؤںگا تو لکڑیاں کس وقت کاٹوں گا۔ اس پر بیوی بولی کہ اگر کلہاڑے کو دھار لگوانے میں تھوڑا سا وقت صرف کردوگے تواس کی کارکردگی میں اضافہ ہونے کے بعد کم وقت میں زیادہ لکڑیاں کاٹ لوگے اور تمہیں مشقت بھی کم کرنا پڑے گی۔ فضلو کی سمجھ میں بیوی کی بات آگئی اور اس کے بعد وہ باقاعدگی کے ساتھ کلہاڑے پر دھار لگوانے لگا، جس سے اس کی کارکردگی پہلے جیسی ہوگئی اور اس کے گھریلو حالات پھر سے بہتر ہونے لگے۔

اپنی کہانیاں، نظمیں، لطائف، دلچسپ معلومات، تصویریں اور ڈرائنگ وغیرہ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کریں

انچارج صفحہ ’’بچوں کا جنگ‘‘

روزنامہ جنگ،اخبار منزل، فرسٹ فلور، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

ای میل ایڈریس:

bachonkajang@janggroup.com.pk