آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ساجدہ ظہیر

ایک لکڑہارا روزانہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا تھا۔ جنگل چرند ، پرند اور درندوں سے بھرا ہوا تھا، جن پرشیر کی حکم رانی تھی۔ لکڑہارے کے پاس تیز دھار کلہاڑی تھی جس سے وہ درختوں کے موٹے تنے کاٹ کر انہیں چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں کرتا تھا۔ کلہاڑی ایک طرف اس کے لیے روزگار کا ذریعہ تھی تو دوسری طرف ہتھیار کا کام بھی دیتی تھی اور اس کی موجودگی میں لکڑہارے کو جنگلی جانوروں کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ گیدڑ، لومڑی، بھیڑیا، شیر ، چیتا ، ہرن ، نیل گائے سمیت دیگر جانور اسےدور سےلکڑیاں کاٹتے دیکھتے لیکن کلہاڑی کی موجودگی کے باعث انہیں اس کے قریب آنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ درختوں پر موجود پرندے بھی اسے کام کرتے دیکھا کرتے اور خوف زدہ رہتے کہ کہیں لکڑہارا لکڑی کاٹتے ہوئے ان کا گھونسلہ نہ گرا دے ۔ 

شیر جو روزانہ لکڑہارے کو کام کرتا دیکھتا تھا، ایک روز اس کے قریب آیالیکن اس نے اتنا فاصلہ رکھا کہ لکڑہارے کی کلہاڑی کی زد سےدور رہے۔ اس نے لکڑہارے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں جنگل کا بادشاہ ہوں، تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں اور میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی بھی جنگلی جانور نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘۔ ’’مجھے قریب آنے کی اجازت دو، تاکہ میں تمہارےپاس بیٹھ کر تم سے باتیں کرسکوں‘‘۔ لکڑہارے نے شیرسے پوچھا، ’’ تم میرے قریب آکر مجھے نقصان تو نہیں پہنچاؤگے؟‘‘ شیر نےکہا کہ ’’میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ،’’ یہ جنگل کے بادشاہ کا وعدہ ہے۔

اگر تم مجھ سے کبھی کوئی خطرہ محسوس کرو تو اپنا تیز دھار والا کلہاڑا استعمال کرسکتے ہو‘‘۔ شیر کی یقین دہانی کے بعد لکڑہارے نے اسے اپنے قریب آنے کی اجازت دے دی۔اس طرح شیر اور لکڑ ہارے کی پکی دوستی ہوگئی۔ اب یوں ہوتا کہ لکڑہارا جب جنگل میں لکڑیاں کاٹنے آتا تو شیر اس کا انتظار کررہا ہوتا، وہ اسے دیکھ کر اس کےپاس آکر بیٹھ جاتا ، پھر دونوں خوب باتیں کرتے۔ جس دن وہ نہیں آتا یا اسے آنے میں دیر ہوجاتی تو شیر افسردہ ہوکر جنگل میں ٹہلتا رہتا۔اس دوران لکڑہارا اپنا کام بھی کرتا جاتا جب کہ شیر کٹی ہوئی لکڑیوں کو گٹھر کی صورت میں بنا کر ایک طرف رکھتا جاتا۔ 

تمام جانور ان دونوں کو گفتگو کرتے ہوئے بہت حیرت سے دیکھا کرتےتھے۔ لکڑہارا بھی بغیر کسی خوف کے شیر کے پاس بیٹھا رہتا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شیر اسے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ایک روز ایک آدمی کا جنگل سے گزر ہوا۔ اس نے ان دونوں کو قریب بیٹھے باتیں کرتے دیکھ لیا، وہ بہت حیران ہوا۔ شیر کے جانے کے بعد اس نے لکڑہارے سے کہا کہ ’’مجھے تمہاری عقل پر حیرت ہورہی ہے کہ تم شیر کے پاس بیٹھے رہتے ہو اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟‘‘

لکڑہارے نے جواب دیا کہ’’فکر نہ کر، شیر میرا دوست ہے اور مجھے اس پر اعتماد ہے اس کا وعدہ ایک بادشاہ کا وعدہ ہے، وہ مجھےکبھی نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘۔

اس آدمی نے کہا کہ ’’مان لیا وہ تمہارا دوست ہے ،لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ وہ ایک درندہ ہے اور تم کسی درندے پر کیسے اعتبار کرسکتے ہو؟‘‘۔ اس کو جب کہیں اور سے خوراک نہ ملے گی تو وہ تمہارا شکار کرکے تمہیں اپنی خوراک بنا سکتا ہے‘‘۔ اس شخص نے لکڑہارے کے دل میں اس طرح سے شیر کا خوف بٹھایا کہ وہ اس کی بات ماننے پر مجبور ہوگیا اور کہا کہ’’ بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے ، وہ ایک خوں خوار درندہ ہے۔ چلو میں آئندہ سے احتیاط کروں گا‘‘۔

اتفاق سےاسی وقت شیر لکڑہارے سے ملنے آرہا تھا لیکن اسے نہ تو اس آدمی نے دیکھا اور نہ لکڑہارے نے ۔ لکڑہارے کی یہ بات شیر نے سن لی۔ اسے بہت دکھ ہوا اور وہ اس سے ملےبغیر واپس چلا گیا۔ دوسرے روزوہ لکڑہارے کی محبت سے مجبور ہوکر اس کے پاس آگیا۔ کچھ دیر وہ گم سم بیٹھا رہا اس کے بعد اس سے کہا کہ ’’تم میری کمر پراپنی کلہاڑی سے وار کرو‘‘۔

لکڑہارا شیر کی بات سن کر حیران ہوگیا اور کہا،’’ پاگل تو نہیں ہوگئے میں تم پر کیوں وار کروں‘‘۔ لیکن شیر ضد کرتا رہا کہ نہیں مجھ پر ایک وار کرو۔

مجبوراََ لکڑہارے نے اس کی کمر پر کلہاڑی سے وار کر دیا۔ شیر کو کافی گہرا زخم آیا لیکن وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔

اس واقعے کے بعد بھی شیر اسی طرح لکڑہارے سے ملتا رہا اور اس کا زخم بھی آہستہ آہستہ بھرتا رہا۔ جب زخم بالکل بھر گیا اور نشان بھی ختم ہوگیا تو اس نے لکڑہارے سے کہا ’’ دیکھو تم نے اپنے کلہاڑے سے مجھے جو زخم لگایا تھا وہ بالکل بھر گیا ہے اس کا نشان بھی باقی نہیں رہا لیکن تم نے اس دن مجھے درندہ کہہ کر اور میری دوستی پر شک کر کے اپنی زبان سے جو زخم لگایا تھا وہ آج بھی تازہ ہے‘‘۔

لکڑہارا شیر کی یہ بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی کے بہکائے میں آکر ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی دوست کی دل آزاری ہو۔