آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیارے بچو، آپ نے آگ جلتی تو دیکھی ہوگی اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ آگ کیسے جلائی جاتی ہے۔ ماچس کی تیلی کو ڈبیہ کے مسالے پر رگڑا جاتا ہے جس کی حرارت سے تیلی پر لگا مسالہ بھڑک اٹھتا ہے اور آپ کی امی اس سے چولہا جلاتی ہے ۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ماچس کی ایجاد کیسے ہوئی؟ 

1826ءکی بات ہے کہ برطانیہ میں رہنے والا ایک کیمیادان، جان واکر John Walker چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعےحل کررہے تھے۔اسی اثناء میں انہوں نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو اس مادہ میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی۔ بعدازاں اس اتفاقی تجربے کو انہوں نے ماچس سازی کے لیے استعمال کیا ۔