چائنا فنڈ میں غیرمعمولی حد تک رقم کی آمد سے اثاثوں کی قدر میں تیزی سے اضافے کا خدشہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چائنا فنڈ میں غیرمعمولی حد تک رقم کی آمد سے اثاثوں کی قدر میں تیزی سے اضافے کا خدشہ

کرس فلڈ

2020 میں چین کے میوچل فنڈ انڈسٹری کے اثاثے 48 فیصد ریکارڈ اضافے کے ساتھ 31 ٹریلین رینمنبی ہوگئے، تاہم نئے فنڈز کی زبردست مانگ سے یہ خدشہ لاحق ہے کہ غیرمستحکم سرمایہ کاروں کی آمد سے اسٹاک مارکیٹ ببلز( قدر سے زیادہ قیمت لگانا) کی حوصلہ افزائی کا امکان ہے۔

سرمایہ کاری کے منتظمین کے لئے ترقی کا ایک بہت بڑا موقع فراہم کرکے اس دہائی میں امریکا کے بعد چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی ایسٹ منیجنمٹ مارکیٹ تیار کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔

انوسیٹمنٹ بینکنگ کمپنی یو بی ایس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 تک مین لینڈ میوچل فنڈ کے اثاثوں کی مالیت 16 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکا اور یورپ میں نئے فنڈ کا آغاز اکثر ان سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے جو تین سالہ کارکردگی کا ریکارڈ دستیاب اور 1 ارب ڈالر کے مشترکہ اثاثوں کے قیام تک کاروباری عہد سے انکار کرتے ہیں ۔تاہم، چین میں سچائی اس کے برعکس ہے جہاں ایسٹ مینیجرز نئی مصنوعات کی طلب کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔

چین کی میوچل فنڈ انڈسٹری میں 21 ٹریلین ڈالر سے 31ٹریلین ڈالر تک اضافےکا میزان نکالنے والی شنگھائی میں قائم زیڈ بین کنسلٹنسی کے مطابق گزشتہ سال چین میں متعارف کرائے گئے نئے میوچل فنڈز نے 389 ارب ڈالرکے خالص اندرونی بہاؤ کو راغب کیا، جو 2019 میں آغاز کے وقت سے 90 فیصد زیادہ ہیں۔

متوازن فنڈز کے لئے طلب خاص طور پر مستحکم تھی جو اسٹاک اور بانڈ دونوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں نئے فندز کے قیام کے لئے مختص رقم 250 ارب ڈالرز تک جاپہنچی، جو کہ 2019 میں محض 36 ارب ڈالرز تھی۔زیڈ بین کنسلٹنسی کے مطابق نئے قائم کیے گئے فعال ایکویٹی فنڈز 57 ارب ڈالر سے بڑھ کر 36 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

چینی ایسٹ مینجمنٹ کی جانب سے گزشتہ برس قائم کیے گئے نئے فنڈز کے زریعے مجموعی طور پر خالص آمدنی کا 80فیصد(مالیاتی مارکیٹ فنڈز کو نکال کر) جمع کیے۔

کنسلٹنسی فرم زیڈ بین کے بانی پیٹر الیگزینڈر نے کہا کہ غیرمعمولی طور پر فعال فنڈ غیرملکی سرمایہ کاری صنعت کا نقش ہے۔

موبائل فون پر تجارت اضطرابی اندرونی بہاؤاور نکالنے کی تحریک میں مدد دے رہی ہے جیسا کہ سرمایہ کار اکثر نئے فنڈ کے قیام پر ابتدائی فوائد پر تیزی سے منافع لیتے ہیں اور پھر کسی دوسری مصنوعہ کے آغاز میں داخل ہوجاتے ہیں۔

زیڈ بین کا تخمینہ ہے کہ نئے فعال ایکویٹی فنڈز کے ذریعے جمع کی گئی رقم کا 20 سے 30 فیصد چھ ماہ کے عرصے میں واپس نکلوالیا جاتا ہے۔

نئے فنڈ کے قیام سے قبل ہی ایسٹ مینیجرز بڑے پیمانے پر مقررہ حد سے ذیادہ پیشکش دیکھنے کے ساتھ2021 کے ابتدائی ہفتوں میں نئے فنڈز کے لئے سرمایہ کاروں کی طلب جاری ہے۔

مئی مصنوعہ ای فنڈ کمپیٹیٹو ایڈوانٹیج انٹرپرائز بلنسڈ فنڈکیلئے ایک ہی دن میں 36 ارب ڈالر کے آرڈرز ملنے کے بعد ای فنڈ مینجمنٹ نے چینی مینیجر کے لئے فنڈ ریزنگ کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اسے 23 ارب ڈالرز پر بند کیا گیا۔

مسٹر الیگزینڈر نے کہا کہ شرح کی سطح علیحدہ واقعہ نہیں تھا کیونکہ جنوری میں ایک ہی دن میں مزید 15 فنڈز بھی فروخت ہوچکے ہیں۔

رواں ماہ شروع کیے گئے نئے فعال ایکویٹی فنڈز 19 جنوری تک 57.8 ارب ڈالرز مالیت کی پیشگی وسول کرچکے ہیں تاہم منیجرز کےی جانب سےقائم اصل سرمایہ 27.8رب ڈالرزتک محدود تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مزید مینیجرز سبسکرپشن پر سخت حد عائد کررہے ہیں اور خوردہ سرمایہ کاروں میں ہیجان کو قابوپانے کے لئے بڑے ٹکٹ آرڈڑز کو مسترد کررہے ہیں۔

آیا اس طرح کے اقدامات کارآمد ہوں گے یہ ابھی غیرواضح ہے کیوں کہ ریگیولیٹری تبدیلیاں مخالف سمت میں جارہی ہیں۔

شنگھائی میں یو بی ایس کے ایک تجزیہ کار ، کیلن چو نے کہا کہ بینکوں اور ویلتھ منیجرز کے ذریعہ فروخت کردہ ویلتھ مینجمنٹ پروڈکٹس کے بارے میں سخت قوانین نے مزید خوردہ سرمایہ کاروں کو اپنی بچت کو باہمی فنڈز میں لگانے کی ترغیب دی ہے۔

کیلن چو نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ طویل المدتی مزید ملکی مالی اثاثے میوچل فنڈز میں منتقل ہوجائیں گے۔

لندن میں قائم کراس بارڈر کیپیٹل کے ایک اندازے کے مطابق 2020 میں صرف چین نے عالمی سطح پر لیکویڈیٹی میں درج 22.7 ٹریلین ڈالرز اضافے کا تقریباََ ایک تہائی حصہ فراہم کیا چونکہ مرکزی بینکوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے مالیاتی منڈیوں کو عدم استحاکم سے بچانے کے لئے مالیاتی نل کھول دیے تھے۔

کراس بارڈر کے بانی مائیکل ہول نے کہا کہ لیکویڈیٹی کی بلند شرح ایکویٹی کی قیمتوں میں مستقبل میں اضافے کے ساتھ منسلک ہیں۔ وہ کلائنٹ کو "خرید" کے طور پر چین اے حصص کی سفارش کررہا ہے۔

چین کے مرکزی بینک کے ایک سینئر مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مالیاتی پالیسی کو سخت نہیں کیا گیا تو ایسٹ ببلز کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ شنگھائی اسٹاک مارکیٹ،جس کی مارچ 2020 کے اواخر سے اس کی کم شرح تھی، کے جامع انڈیکس میں 34 فیسد اضافے کے بعد پیپلز بینک آف چائنا کی مالیاتی پالیسی کمیٹی کے ایک رکن جو کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں بھی کام کرچکے ہیں، ماجون نے تبصرہ کیا ۔

ٹیکنالوجی پر مبنی چی نیکسٹ انڈیکس نے خوردہ سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرکے اسی دورانیے میں 49 فیصد اضافہ کیا ہے۔

پینتھیون میکرو اکنامک سائنس کنسلٹنسی میں چیف ایشیاء اکنامسٹ فرییا ہمیش نے کہا کہ پیپلز بینک آف چائنا واضح طور پر ایسٹ ببلز کے بارے میں فکرمند ہے،ان معلومات پر ما جون اس کے بارے میں کھل کر بات کررہے ہیں۔ چائینز اسٹاک میں بحالی تشویشناک ہے اور اگر ویکسین کے اجراء میں مشکلات سامنے ااتی ہیں تو ایکویٹی مارکیٹ غیرمحفوظ نظر آتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید