امریکا اور چین کے مابین سرمایہ کاری کا بہاؤ سیاسی جغرافیائی تناؤ سے متصادم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور چین کے مابین سرمایہ کاری کا بہاؤ سیاسی جغرافیائی تناؤ سے متصادم

گلوبل چائنا ایڈیٹر: جیمز کینج

چین کا مختصر ویڈیوز کا ایک معروف پلیٹ فارم کوائشو جغرافیائی دنیا سے دور کی ایک الگ دنیا لگتا ہے۔اس میں مختلف آئٹمز دکھائے جاتے ہیں جیسا کہ دادی اماں اپنے چھوٹی نسل کے کتے چیہواہ کے ساتھ جوڈ گاتی ہیں، تارکین وطن لیبر تعمیراتی مقامات پر ناچتے ہیں اورکاشت کار خنزیر کے گوشت سے پکوان بناتے نظر آتے ہیں۔

تاہم ہانگ کانگ میں کمپنی کی رواں ہفتے ابتدائی پیشکش نے، جو کورونا وبائی مرض پھوٹنے کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی پیشکش بننے والی ہے، چین کے ساتھ امریکا کی تذویراتی دشمنی کے حوالے سے بنیادی حقائق کو آشکار کیا ہے کہ بات جب پیسہ کمانے کی آتی ہے تو روکنے سے زیادہ بہت کچھ اپنی جانب کھینچتا ہے۔

فنانشل سروسز کمپنی فیڈیلٹی اور انوسیٹمنٹ مینجمنٹ کمپنی بلیک راک سمیت امریکی ادارہ جاتی سرمایہ کار کوائشو کے آئی پی او کے نمایاں سرمایہ کاروں میں شامل ہیں، جس میں 63 ارب ڈالر تک اضافے کی توقع ہے۔ان کی دلچسپی متعدد علامات میں سے ایک ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین سے مکمل طور پر الگ ہونے پر زور اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہا۔

سیفر کیپیٹل پارٹنرز کےسرمایہ کاری کے مشیر نکولس ہورسٹ نے کہا کہ معاشی طور ایک دوسرے سے مکمل طور پر علیحدگی کی بجائے اب امریکا اور چین کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کے تعلقات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور ان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

نکولس ہوسرٹ نے مزید کہا کہ چین میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی ٹھوس کوششوں کے باجود گزشتہ کئی برس میں امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے چینی سیکیورٹیز کی ملکیت آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔

ریسرچ کمپنی روڈیم گروپ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ امریکا اور چین کے مابین سرمایہ کاری کے تعلقات سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہیں۔روڈیم گروپ کے اندازوں کے مطابق امریکی سرمایہ کاروں نے 2020 کے اواخر میں چینی کمپنیوں کے ذریعے جاری کردہ ایکویٹی میں 11 ٹریلین ڈالر یا ستمبر 2020 تک امریکی حکام کی جانب سے ضبط کیے گئے 211 ارب ڈالر سے پانچ گنا زیادہ رکھے۔

روڈیم کے اندازوں اور امریکی سرکاری اعدادوشمار کے درمیان زیادہ تر فرق اس حقیقت سے اخذ ہوتا ہے کہ امریکی شرح تبادلہ پر حصص جاری کرنے والی متعدد چینی کمپنیاں جزیرے کیمین جیسی غیرملکی ٹیکس پناہ گاہوں میں قائم ہیں۔یہ عمل اتنا مروجہ ہے کہ کیمینز نے بیرون ملک مقامات میں برطانیہ، جاپان، کینیڈا و دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کے لئے سرفہرست مقام حاصل کرلیا ہے۔

روڈیم کے شرکات دار تھیلو ہانیمین نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے امریکا اور چین کے درمیان مالی بہاؤ کو خطرہ لاحق کردیا ہے لین وہ زیادہ سے زیادہ مالی انضمام کی مارکیٹ طلب کو واضح طور پر روک نہیں سکے۔

2020 میں امریکی سرمایہ کاروں کی چینی ایکویٹیز کی طلب بالخصوص مستحکم رہی۔

گزشتہ سال امریکی شرح تبادلے پر چینی کمپنیوں نے ابتدائی اور ثانوی پیشکشوں میں 19 ارب ڈالر بنائے، نیویارک میں آن لائن مارکیٹ پلیس کمپنی علی بابا کے دیوہیکل25 ارب ڈالر کے آئی پی اوز ک بدولت صرف 2014 میں گرہن لگا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد اقدامات کیے جن کا چینی ایکویٹیز میں امریکی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر خاطرخواہ اثر پڑ سکتا ہے۔اس نے درجنوں چینی کپنیوں کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جو سرمایہ کاری پر پابندی عائد کرتی ہے یا انہیں ٹیکنالوجی برآمد کرنا مشکل بناتی ہے۔مزید برآں، 2020 کے اواخر میں امریکی قانون سازوں نے ہولڈنگ فارن کمپنیز اکاؤنٹبل ایکٹ منظور کیا،جو ان چینی کمپنیوں کو فہرست سے خارج کرنے پر مجبور کرے گا جو سخت آڈٹ کی تعمیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا جو پینٹاگون کے بلیک لسٹ گروپس پر موجود ایسی چینی کمپنیوں جو مبینہ طور پر چینی فوج سے وابستہ ہوسکتی ہیں، میں امریکیوں کو سرمایہ کاری سے روکتا ہے ۔ان میں امریکا میں سرکاری سطح پر درج ٹیلی کام گروپس چائنا یونی کام، چائنا ٹیلی کام اور چائنا موبائل شامل ہیں۔

تاہم، جو بائیڈن نے 27 مئی تک اس حکم نامے کے اطلاق کو مؤخر کردیا ہے، جیسا کہ ان کی نئی انتظامیہ ان کے پیشرو کی جانب سے لیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے شروع کررہی ہے۔یہ ابھی بھی غیریقینی ہے کہ جو بائیڈن چین کی جانب کتنے جارحانہ ہوں گے۔

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے رواں ماہ اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ ممالک کی جانب سے چھوٹے حلقوں کی تعمیر یا جان بوجھ کر علیحدگی،سپلائی میں خلل یا پابندیوں کا نفاذ محض دنیا کو تقسیم اور حتیٰ کہ تصادم کی جانب لے جائے گا۔

تھنک ٹینک چیتھام ہاؤس کی سینئر ریسرچ فیلو یو جی نے کہا کہ بیجنگ واقعی باہمی توافق کی کمزوری یا باہمی توافق کی کمزوری کے تاثر کے بارے میں فکرمند ہے کیونکہ چین اور امریکا دونوں نے اپنی اپنی پالیسیوں کی وکالت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کی جانب سےحال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ سرمایہ کاری کا جامع معاہدہ ایشیائی ممالک کے ساتھ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے تجارتی معاہدے پر دستخط بنیادی طور پر اس بات کی علامت ہیں کہ چین اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہے۔

گزشتہ سال اس کی کارکردگی کے ذریعے چین کیلئے ایف آئی ڈی کی اہمیت اجاگر ہوئی جب اس نے 163 ارب ڈالر کے بہاؤ کو اپنی جانب راغب کیا اور وباء سے متاثرہ امریکا کی جانب سے آنے والے 134 ارب ڈالر خفیہ رکھ کر پہلی بار غیرملکی سرمائے کے بہاؤ کا سب سے بڑا وصول کنندہ بن گیا۔

اس طرح کے اعدادوشمار ان حقائق کو نمایاں کرتے ہیں کہ چین کی مغرب اور بالخصوص امریکا کی جانب بیان بازی زیادہ ناقدانہ ہوگئی ہے، تاہم یہ اعدادوشمار اس کے برعکس سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سرمایہ داروں کا منافع کا پیچھا کرنا ناگزیر نظر آتاہے،کم از کم ابھی عالمی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی احتیاط کے ساتھ یہ اختلاف کرتا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید