• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختون خوا میں اتائیوں کے خلاف مضبوط شکنجہ تیار

عکّاسی : فیاض عزیز

ہمارے معاشرے کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، اُن میں سے ایک اتائیت کا ناسور بھی ہے، جو طویل عرصے سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ہر چھوٹے، بڑے شہر کے گلی محلّوں میں اتائیوں( غیر مستند معالجین)نے سادہ لوح عوام کو پھنسانے کے لیے اپنی شکار گاہیں(نام نہاد کلینکس) کھول رکھی ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ اُنھیں اِس مذموم دھندے سے روکنے والا بھی کوئی نہیں۔یہ کہیں حکیموں کی صُورت موجود ہیں، تو کہیں جعلی ڈسپنسرز کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں اور کسی نے غیر معروف اور غیر قانونی اداروں سے حاصل کردہ ہومیو پیتھک کورسز کی اسنادیں لٹکا رکھی ہیں۔ 

ایسا ہی کچھ ماجرا جعلی روحانی عاملوں اور معالجین کا بھی ہے، جو عوام کو دن دہاڑے لُوٹنے میں مصروف ہیں۔ اِس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اتائیوں کے کاروبار میں تیزی کا بنیادی سبب مُلک میں علاج معالجے کی منہگی سہولتیں ہیں کہ عام افراد کے لیے ڈاکٹرز کی بھاری فیسیز کی ادائی اور منہگے ٹیسٹ کروانے ممکن نہیں ہوتے، تو وہ اتائیوں کا چارہ بن جاتے ہیں، جہاں کم فیس میں اُن کا’’ علاج‘‘ ہو جاتا ہے۔ 

شہری علاقوں میں اتائیوں کا دھندا کچھ مندا رہتا ہے کہ عوام کی مستند ڈاکٹرز تک رسائی قدرے آسان ہے اور پھر سرکاری، رفاہی اداروں کے تحت کام کرنے والے اسپتال بھی موجود ہیں، جہاں سے کم خرچ میں علاج کروایا جاسکتا ہے، مگر دیہات میں تو اتائیوں کا گویا’’ جمعہ بازار‘‘ لگا ہوا ہے۔اس کی بنیادی وجہ مستند ڈاکٹرز کی کمی ہے کہ وہ شہری علاقوں میں کلینکس کھولنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، نیز، دیہات میں سرکاری اسپتال بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں، وہاں عملہ موجود ہوتا ہے، نہ ہی عوام کو دوا ملتی ہے۔بات صرف مالی نقصان کی نہیں کہ اتائی عوام کو بے وقوف بنا کر اُن کی جیب پر ڈاکا ڈالتے ہیں، اصل ظلم تو یہ ہے کہ وہ اُن کی جانوں تک سے کِھلواڑ کرتے ہیں۔ 

غیر معیاری ادویہ اور غلط تشخیص کے سبب بہت سے لوگ اپنے جانیں گنوا بیٹھتے ہیں یا پھر غلط علاج اُنھیں مزید امراض میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اِس وقت مُلک میں 8 لاکھ سے زائد اتائی موجود ہیں۔یہ مریضوں کو اپنے مستقل گاہک بنائے رکھنے کے لیے اسٹرائیڈز کا استعمال کرواتے ہیں، جن سے وقتی طور پر مریض کو افاقہ ہو جاتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ’’ یہ تو بہت قابل ڈاکٹر ہے، جس نے منٹوں میں ہماری بیماری ٹھیک کردی‘‘ اور یوں اتائیوں کی مستقل آمدنی کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔جنرل پریکٹیشنرز کے علاوہ دانتوں کے’’ اتائی ماہرین‘‘ کی بھی کمی نہیں، جو دو، تین سال کسی ڈینٹیسٹ کے پاس کام کر کے اپنا’’ کلینک‘‘ کھول لیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ نان کوالیفائیڈ ڈینٹیسٹ ضروری آلات کا بھی درست استعمال نہیں جانتے۔نتیجتاً معصوم شہریوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔

اگر خیبر پختون خوا کی بات کی جائے، تو حکومت نے صوبے میں مراکزِ صحت کی رجسٹریشن کے لیے2005 ء میں این ڈبلیو ایف پی میڈیکل اینڈ ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز اینڈ ریگولیشن آف ہیلتھ کیئر سروسز آرڈیننس 2002ء کے تحت’’ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ قائم کی تھی، تاہم کئی وجوہ کی بناء پر اتھارٹی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی۔پھر 2015ء میں خیبر پختون خوا ہیلتھ کیئر کمیشن(کے پی ایچ سی سی) ایکٹ نافذ کیا گیا اور اُسی سال اگست میں بورڈ آف کمشنرز تعیّنات کیے گئے۔ یوں اپریل 2016ء میں’’ خیبرپختون خوا ہیلتھ کئیر کمیشن‘‘ فعال ہوگیا، جو اب تک ایک خود مختار بورڈ کے زیرِ انتظام کام کر رہا ہے۔

خیبرپختون خوا میں اتائیوں کے خلاف مضبوط شکنجہ تیار
ڈاکٹر مقصود علی خان

گو کہ یہ ادارہ اتائیوں کے اڈّے سیل اور جرمانے کرتا رہتا ہے، مگر اتائی چند دن کے وقفے کے بعد دوبارہ اپنا کلینک کھول لیتے ہیں۔ صوبائی حکومت اعلانات کے باوجود ابھی تک صوبے میں اسپتالوں اور لیبارٹریز کی فیسیز یک ساں نہیں کر سکی، جس کے سبب نجی لیبارٹریز کی جانب سے مریضوں سے مَن مانی فیسیز وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اس ضمن میں خیبر پختون خوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈاکٹر مقصود علی خان کا کہنا ہے کہ’’ کمیشن کا وژن خیبر پختون خوا کے لوگوں کے لیے اعلیٰ، معیاری اور محفوظ طبّی خدمات کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ کمیشن کا ایک بنیادی مقصد مریضوں کے حقوق کا تحفّظ بھی ہے۔

سرکاری اور نجی شعبوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی کمی، طبّی خدمات کے معیار کے تعیّن، شکایات کے ازالے ، غلط پریکٹس، اتائیت، فیڈرل ریگولیٹری کاؤنسل کے محدود کردار وغیرہ کے حوالے سے اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔یوں سمجھ لیجیے کہ ادارے کا بنیادی مقصد صحت کے میدان میں کوالٹی سروس کی فراہمی اور غیر قانونی سروس فراہم کرنے والوں کی بیخ کنی کرنا ہے۔‘‘

کمیشن کے دائرۂ کار اور اختیارات کے حوالے سے اُنہوں نے بتایا کہ’’ خیبر پختون خوا ہیلتھ کیئر کمیشن کا دائرۂ اختیار سرکاری ونجی اسپتالوں، خود مختار طبّی اداروں، نیم سرکاری اسپتالوں، غیر منافع بخش ٹرسٹ اسپتالوں، تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتالوں، دیہی مراکزِ صحت(آر ایچ سیز)، بنیادی مراکزِ صحت(بی ایچ یوز)، جنرل پریکٹشنرز کلینکس، پولی کلینکس، سنگل اسپیشلٹی کلینکس، کلینیکل لیبارٹریز، ریڈیالوجی، امیجنگ ڈائیگنوسٹک سینٹرز، ڈینٹل کلینکس، نرسنگ ہومز، زچہ بچّہ صحت مراکز، ہومیو پیتھک کلینکس، فزیو تھراپی، آکوپنکچر کلینکس، کاسمیٹکس کلینکس، موبائل ہیلتھ یونٹس اور نشے کے عادی افراد کے علاج مراکز تک پھیلا ہوا ہے۔

کمیشن کے اختیارات میں صوبے بھر میں صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، اسپتالوں اور مراکز کی رجسٹریشن، غلط پریکٹس کی انکوائری ، اتائیت کے خاتمے کے لیے طریقۂ کار وضع کرنا، فیس، جرمانوں اور چارجز کا نفاذ، صحت کی خدمات فراہم کرنے اور لینے والوں کے حقوق اور ذمّے داریوں کے بارے میں شعور و آگاہی اجاگر کرنا، کم از کم خدمات کی فراہمی کے لیے معیارات وضع کرنا ، لائسنس کا اجراء، معطّلی ومنسوخی، تیکنیکی، ایڈوائزری اور ڈسپلنری رولز کا نفاذ، صحت ودیگر شعبوں کے ساتھ روابط، تنظیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اداروں، افراد اور نیٹ ورک سے کوآرڈی نیشن یا حکومت کی جانب سے دیا جانے والا کوئی اور فنکشن شامل ہیں۔‘‘

اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ہیلتھ کئیر کمیشن خاصا فعال نظر آتا ہے اور اس کی جانب سے کی گئی کارروائیاں میڈیا میں بھی رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔ ادارے کی کارکردگی کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مقصود علی خان نے بتایا’’ صوبے بھر میں اتائیت، غیر مستند ڈاکٹرز اور غیر مستند نجی اسپتالوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ کمیشن نے مقرّرہ معیارات پر عمل نہ کرنے پر دسمبر 2019 ء سے نومبر 2020ء تک6754 مراکزِ صحت، اسپتالوں، لیبارٹریز اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے۔ اس سے پہلے ایک سال میں 3613 نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ 

کمیشن نے 12 ہزار، 628 اسپتالوں اور لیبارٹریز وغیرہ کی رجسٹریشن کی ہے۔ادارے کو رجسٹریشن سے دسمبر 2018 ء سے نومبر 2019 ء تک 92.357 ملین، جب کہ دسمبر 2019 ء سے نومبر 2020 ء تک 113.955 ملین روپے حاصل ہوئے۔ 2020ء کے تین مہینوں (ستمبر، اکتوبر اور نومبر) میں 36.3 ملین روپے فیس کی مَد میں وصول کیے گیے۔ کمیشن نے سات انکوائریز شروع کیں، جن میں پانچ مکمل کر لی گئی ہیں۔ ہیئرنگ کمیٹی ہر ہفتے 30 سے 40 کیسز، جب کہ اپیلٹ کمیٹی 10 سے 15 کیسز سنتی ہے۔ عدالتوں میں 71 مقدمے دائر کیے گئے، جن میں سے 41 کا فیصلہ ہوچُکا ہے۔ 36 کا فیصلہ کمیشن کے حق میں اور پانچ کا خلاف آیا۔کمیشن نے دسمبر 2018 ء سے نومبر 2019 ء تک مقرّرہ معیارات اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر 1578 اسپتالوں وغیرہ کو سِیل کیا۔ 

سال 2020 ء کے تین مہینوں (ستمبر، اکتوبر، نومبر) میں 507 مراکز سیل کیے گئے۔‘‘اُن کا مزید کہنا تھا کہ’’ کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیم اب تک 288 سے زاید فیلڈ دورے کرچُکی ہے، جس کے دَوران مراکزِ صحت کی رجسٹریشن، عملے، عوامی ڈیلنگ، ادویہ، صفائی ستھرائی اور مریضوں کا ریکارڈ وغیرہ چیک کیا گیا۔نیز،تمام ایم ٹی آئی اسپتالوں کا پرفارمینس آڈٹ بھی کیا گیا، جس کے لیے شفاانٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی خدمات حاصل کی گئیں۔علاوہ ازیں، عملے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جب کہ عوام میں مختلف امور سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے سیمینارز، واکس اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔

مختلف اداروں کے ساتھ ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دست خط کیے گئے ہیں تاکہ کمیشن کو بہترین ادارہ بنایا جا سکے۔‘‘ چھاپے، جرمانے اور سخت نگرانی کا عمل انتہائی اہم ہے، مگر کیا شعبۂ طب سے وابستہ افراد یا اداروں کو سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ اِس سوال پر ڈاکٹر مقصود علی نے بتایا’’ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے وَن ونڈو رجسٹریشن سروس شروع کی گئی ہے۔ نجی طور پر طبّی سہولتیں فراہم کرنے والے مراکز کی رجسٹریشن اور تجدید کے لیے کیمپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کا بنیادی مقصد ڈاکٹرز، حکیموں اور ہومیو ڈاکٹرز کو اُن کی دہلیز پر رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کرنا ہے۔ 

عوام کمیشن تک اپنی شکایات سٹیزن پورٹل کے ذریعے پہنچا سکتے ہیں، جب کہ دفتر آکر یا خط کے ذریعے بھی شکایات کمیشن تک پہنچائی جا سکتی ہیں، تاہم درخواستوں کے ساتھ ضروری ثبوت منسلک کرنا لازم ہے تاکہ بوگس شکایات پر وقت ضائع نہ ہو۔ کمیشن کی ویب سائٹ بھی جلد فعال ہوجائے گی۔‘‘مقاصد کے حصول کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات کے حوالے سے اُنھوں نے بتایا’’ اکثر مقامات پر چھاپوں کے دَوران لوگ جمع ہوجاتے ہیں، جو کمیشن کو اتائیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنے دیتے۔ پھر یہ کہ کمیشن کے پاس عملے کی بھی کمی ہے۔ پورے صوبے میں اتائیوں کے خلاف کارروائی کے لیے محض 26 انسپکٹرز ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایکٹ کے مطابق زیادہ سے زیادہ جرمانہ دس لاکھ اور چارماہ تک قیدکی سزا ہے اور اِس وقت پندرہ اضلاع میں کمیشن کے دفاتر ہیں۔‘‘

ڈاکٹر مقصود علی خان نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو معیاری طبّی سہولتوں کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نیز، اُنھوں نے یہ خوش خبری بھی سُنائی کہ’’ موجودہ حکومت نے ہیلتھ کئیر کمیشن کے بورڈ میں نہایت ہی قابل، دیانت دار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد شامل کیے ہیں، جس سے عوام کو بہتر اور معیاری صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ 

کمیشن نے تمام طبّی مراکز اور لیبارٹریز کے لیے یک ساں قیمتوں کے تعیّن کے لیے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے، جس پر بورڈ سے منظوری کے بعد کام شروع کردیا جائے گا۔ تین سے چھے ماہ میں پروفیشنل اور کوالیفائیڈ عملے کی بھرتی مکمل ہوجائے گی۔قبائلی اضلاع کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ وہاں بھی اگلے چھے ماہ میں کمیشن کے دفاتر کام شروع کردیں گے۔‘‘