• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے گھر میں لگے شاندار قسم کے ہوم تھیٹر کو انجوائے کرنے سے بہترین چیز تو کچھ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ آپ ٹریفک جام کی جھنجھٹ، سینما کے باہر لائن اور شور شرابے سے بچ کر اپنے گھر میں نہ صرف بہترین فلموں سے ہی لطف نہیں اٹھاتے بلکہ اپنے فیورٹ ٹی وی شوزاور لائیو اسپورٹس سے بھی تفریح حاصل کرتے ہیں، اور گھر میں پاپ کارن بنا لینا بھی چنداں مشکل نہیں ۔

اگر آپ نے گھرمیں سینما لانے کا ارادہ کرہی لیا ہے تو یہی موقع ہے کہ آپ اپنا ہوم تھیٹر ڈیزائن کریں لیکن اس کیلئے آپ کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضروت ہےبلکہ آپ کو دستیاب ٹی وی کی اقسام اور ان کے فیچرز اور سائونڈ سسٹم کو مارکیٹ میں کھوجنا اور منتخب کرنا ہوگا اور بہترین ڈیکور کا بھی فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ جب بھی آپ ہوم تھیٹر انجوائے کریں ہر بارنئے تجربے سے روشنا س ہوں۔ یہ بات کسی حد تک سچ ہے کہ ہوم تھیٹر سبھی لگالیتے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ اگر آپ اپنے گھر کی تعمیر کرچکے ہیں یا موجود ہ گھر میں ہوم تھیٹر لگانا چاہتے ہیں تو آپ کیلئے کچھ مشورے حاضر ہیں۔

چھت کی اونچائی

روایتی طور پر تھیٹر کیلئے اونچی چھت آئیڈیل رہتی ہے تاکہ آپ گیم آف تھرونز کی خالیسی کو اس کے ڈریگن پر پرواز کرتے اچھی طرح دیکھ سکیں ، لیکن کوئی بات نہیں، آپ کے پاس دستیاب کمرہ یا بیسمنٹ جتنی اونچائی والی چھت ہے اس کمرے میں ایک بڑا سا LEDٹی و ی اسکرین یا پروجیکٹر پر رکھ دیں۔

اب آپ جبکہ کمرے کا انتخاب کر چکے ہیں تو آپ کو فہرست میں درج ان چیزوں کو ارینج کرنا ہوگا جو آپ کے سامنے آپ کی فیوریٹ سیریز یا ڈرامے سامنے لا سکیں۔ اس فہرست میں ایل ای ڈی یا ایل سی ڈی ٹی وی، سرائونڈ سائونڈ ، بلو رے ڈی وی ڈی پلیئر ، انٹرنیٹ کنکشن (تاکہ آپ اپنے پسندیدہ پروگراموں کو اسٹریم کرسکیں)، ایک ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر ، کیبل اور دیگر اشیا کا انتظام کرنا ہوگا۔

اگر آپ کو عمدہ سرائونڈ سائونڈ سسٹم اورایک ہائی کوالٹی آڈیو /ویڈیو ریسیور (AVR)کی ضرورت ہے تو آ پ کو اس سلسلے میں عرق ریزی سے مختلف برانڈز کا موازنہ کرکے بہترین چیز خریدنی ہوگی تاکہ آپ کے پیسے ضائع نہ ہوں۔ مثلاََ آپ کو صرف ٹی وی میں موجود سائونڈ ہی نہیں سننا بلکہ لائننگ اسپیکرز کا انتظام کرنا ہو گا جو آپ کے کارپٹ کے نیچے بھی ہوں اور آپ کے پیچھے بھی تاکہ حقیقی سینما کا ماحول بن سکے۔بصورت دیگر آپ کو اپنے بجٹ کے مطابق ووفرز تو خریدنے ہی ہوںگے جو ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔

کمرے کا سائز

سب سے پہلے تو آپ اس کمرے کا فیصلہ کریں گے جہاں ہوم تھیٹر لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے گھروں میںزیادہ تر ٹی وی لِونگ روم میں دیکھا جاتا ہے ، لیکن ان کمروں میں کھڑکیاں ہوتی ہیں جن سے نہ صرف دھوپ در آتی ہےبلکہ شور بھی اندر داخل ہوتاہے اور آپ کے تجربہ کچھ خاص خوشگوار نہیں ہوتا اور آپ کی ہارر فلم اتنی دہشت ناک نہیں رہتی ،جس قدر ہونی چاہئے۔ 

اس تفریح کیلئے بیسٹمنٹ سب سے عمدہ انتخاب ہے لیکن اس کا سائز بھی آئیڈیل ہونا چاہئے ۔ اس میں کھڑکیاں نہ ہوں اور دیواریں ایسی ہوں کہ آپ کے ڈولبی سائونڈ سرائونڈ سسٹم سے آپ کے پڑوسیوں کی سماعتیں متاثر نہ ہوں۔ 

سب سے آئیڈیل کمرہ یا بیسمنٹ تو وہی ہوسکتی ہے جہاں کئی افراد کے بیٹھنے کی کافی جگہ، ایک دروازہ ہو اور اس میں کوئی کھڑکی اور روشن دان نہ ہو۔

ساؤنڈ پروف ماحول

جب تک کمرے میں آواز نہیں گونجے گی آپ کو اپنے فیورٹ شویا مووی کو دیکھنے میں مزہ نہیں آئے گالیکن اس کی وجہ سے پڑوس سے شکایت آ سکتی ہے۔ اس کیلئے آپ کو وال ٹو وال کارپیٹ بچھانا ہوگا اور دیواروں پر ایکوسٹک پینلز لگانے ہوں گے تاکہ آواز باہر نہ جائے یعنی نہ صر ف کسی کامیڈی فلم کی سائونڈ بلکہ آپ کے قہقہوں کی آوازیںبھی پڑوسیوں کو پریشان نہ کریں۔

اسکرین سے فاصلہ

جب تک آپ اسکرین سے آئیڈیل فاصلے پر نہیں بیٹھیں گے آ پ کو مزہ نہیں آئے گا یہی وجہ ہے کہ سینما میں گیلری کے ٹکٹ قدرے مہنگے ہوتے ہیں۔ اگرآپ کا پلازمہ بہت قریب ہے تو آ پ کو اسکرین کے پکسل بھی نظر آئیں گے ۔ اگر دور ہے تو تصویر واضح نظر نہیں آئے گی۔ اس کا اصول ہے کہ آپ اسکرین کے سائز سے ڈیڑھ سے دوگنا دور بیٹھیں۔ 

یعنی اگر آپ نے 48 انچ ایل ای ڈی ایچ ڈی اسکرین لگا رکھی ہے تو آپ کواس سے 8 فیٹ یا 96 انچ دور بیٹھنا ہے تاکہ آپ کو بہترین اسکرین دیکھنے کو ملے۔ مزید یہ کہ ٹی وی کی اسکرین آپ کے آئی لیول پر ہونی چاہئے ، اگر اونچی ہوگی تو آپ کی گردن میں اکڑن پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیئے اونچائی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

دیواروں کا رنگ

آپ دیواروں پر سرخ یا زرد بھی کرسکتے ہیں جس سے آپ کا ہوم تھیٹر دلکش نظر آئے گالیکن یہ کلر چمکدار نہ ہوں کینوکہ اس سے اسکرین سے آنے والی روشنی منعکس ہوگی اور آپ کے مووی کے تجربے کو متاثر کرے گی،اس لیئے دیواروں کے رنگ دبے ہوئے ہوں تو بہتر ہوگا۔