• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرچ انجن گوگل کی وجہ سے بہت سی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ کوئی بھی چیز معلوم کرنی ہو تو بس گوگل پر لکھا اور اپنی مطلوبہ معلومات کے ساتھ ساتھ دیگر اضافی معلومات بھی حاصل کرلیں۔ اب تو ہم بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے گوگل سرچ انجن کی خدمات حاصل کرنے لگے ہیں جبکہ ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے۔ تاہم، طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو کوئی بیماری، پریشانی، علامت یا تکلیف ہے تو وہ اس کے لیے گوگل نہ کرے کیونکہ اس عمل سے اس کی تکلیف کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتی ہے۔

اپنی جبلت کے لحاظ سے ہم ویسے ہی سُست ہیں، کسی بھی بیماری یا علامت کی زیادتی کے بعد ہی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ اس سے قبل ہم خود تشخیصی اور ’’اپنا علاج آپ‘‘ یعنی سیلف میڈیکیشن کی روش اپنائے رکھتے ہیں۔ بعض اوقات گوگل معمولی سے درد کی اتنی وجوہات بتادیتا ہے کہ آپ انہیں جان کر پریشانی اور اکثر ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

گوگل کرنے پر ملتی جلتی علامات والے لوگوں کی پریشان کن کہانیاں بھی سامنے آجاتی ہیں، آپ کو جو درد ہورہا ہوتا ہے وہ یہ سب پڑھنے اور سننے کے بعد مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل کرنے پر علاج کی غرض سے سامنے آنے والی دوائیں ہر شخص کی تکلیف کے حساب سے مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک ماہر ڈاکٹر کی جانب سے دواؤں کی درست طاقت (Potency) اور مقدار کا تعین مریض کے وزن اور اس کو لاحق دیگر امراض کے بعد کیا جاتا ہے۔

ڈپریشن میں کمی کے بجائے اضافہ

فرض کریں آپ اداس ہیں، آپ کو غصہ آرہاہے، آپ کو نیند نہیں آرہی، آپ کے کھانے پینے کے معمولات میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں یا آپ کو زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی ہے۔ ایسے میں جب آپ اس بارے میں گوگل کریںگے تو آپ کو پتہ چلے گاکہ پاکستان کی 20 فیصد آبادی اس طرح کے ڈپریشن میں مبتلا ہے۔

اسی طرح آپ کو چھینکیں آرہی ہیں تو یہ ایک عام سی بات ہے لیکن چھینکیں آنے کے بارے میں اگر آپ گوگل پر ڈھونڈیںگے تو وہ یہ بھی کہے گا کہ اس کی ایک وجہ نمونیہ بھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ایک ہلکے سے سردرد کو گوگل ہائپوپارتھائیروڈیزم (Hypoparathyroidism)، ممپس یا دماغ کا ٹیومر بتا سکتاہے۔ حتیٰ کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہائپوپارتھائیروڈیزم آخر ہے کیا؟ لیکن یہ پڑھنے میں ہی بہت خوفناک لگتا ہے۔

کیا ویب سائٹ قابل اعتبار ہے؟

ویب سائٹس کا معیار اورساکھ مختلف ہو سکتی ہیں۔ آپ کی علامات کا معائنہ کرنے والا بظاہر بہت ہائی ٹیک اور پیشہ ور نظر آسکتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کے بجائے کوئی مشین یا علامات کو جانچنے والا سوفٹ ویئر ہو۔ تو کیا آپ اس سوفٹ ویئر یا ٹرانسلیشن مشین پر اعتماد کریں گےکہ وہ آپ کی علامات کے مطابق آپ کی درست تشخیص کررہاہے؟ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔

تضادات کا مجموعہ

انٹر نیٹ پر پوچھے گئے اکثر سوالات کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف یا برعکس بھی ہوسکتے ہیں۔ دراصل انٹرنیٹ پر ڈھیرسارا مواد موجودہے جو کسی بھی کی ورڈ (Key word)کی مماثلت سے بہت کچھ سامنے لے آتاہے، بھلے سے وہ متعلقہ ہو یا نہیں، صحیح ہو یا پھر غلط۔ حاصل کردہ آراء بھی اتنی متضاد ہوتی ہیں کہ آپ اپنا سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے مبالغہ آرائی کی دنیا سے پرہیز کریں اور کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

غلط تشخیص ممکن ہے

جب تک تشخیص درست نہ ہو، مرض کا علاج نہیں ہوتا۔ ہوسکتاہے کہ آپ نے پوچھے ہوئے سوال یا علامت کا غلط جواب داخل کیا ہو اور اسی کے مطابق نتائج آرہے ہوں۔ انسانی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب انسان کسی تکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے بارے میں سرچ کرتا ہے تو خود کو اس بات پر قائل کرنے لگتا ہے کہ مجھ میں بھی وہی تمام علامات پائی جاتی ہیں اور مجھے فلاں بیماری ہی ہے۔ گوگل پر معلومات حاصل کرنے کے بعد آپ بیماری کو لے کر ذہنی تناؤکا شکار ہوسکتے ہیں، جو آپ کی تکلیف میں کمی کے بجائے اضافہ کرے گا۔

خطرنا ک مشورے ملنا

گوگل سرچ کے نتائج میں سامنے آنے والی کچھ ویب سائٹس آپ کو خطرنک مشوروں سے نواز سکتی ہیں۔ آپ یہ یقین بھی کرسکتےہیں کہ کچھ ٹوٹکوں کے ذریعے بیماریوں کا علاج ممکن ہوجائے گا لیکن ان ویب سائٹس کو ادویات کے بارے میں واضح طور پر کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ ان ویب سائٹس کے پیچھے موجود افراد کے مشورے بدنیتی پر مبنی نہ ہوں اور وہ محض عام حالت کے حوالے سے ہوں لیکن اگر آپ ان مشوروں پر عمل کریں گے تو ممکن ہے کہ خطرناک ثابت ہوں۔

 ڈاکٹر سے رجوع

کوئی بھی ڈاکٹر تعلیم اور تجربہ حاصل کرکے اپنے پیشے میں ماہر بنتا ہے۔ وہی تجربہ کار ڈاکٹر مریض کا معائنہ و تشخیص کرکے اس کے لیے درست علاج تجویز کرے گا ، ناں کہ آپ نے انٹرنیٹ پر چند سوالات کے جوابات لکھے اور علاج ڈھونڈ لیا ۔ 

لب لباب یہ کہ سیلف میڈیکیشن اور گوگل سے علاج معلوم کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجو ع کریں، وہ مختلف معلومات حاصل اور آپ کا معائنہ کرکے علا ج کرے گا اور آپ کا مفروضہ علاج کرنے کے بجائے مناسب ادویات تجویز کرے گا جس سے آپ اپنی بیماری و پریشانی سے نجات حاصل کرلیں گے۔