آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے شہری مراکز کی آبادیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس بڑھتی شہرکاری (اَربنائزیشن) کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹاؤن پلانرز، شہروں کو اُفقی طور پر پھیلانے کے بجائے عمودی رُخ میں ترقی دینے پر کام کررہے ہیں۔ نتیجتاً، شہری مراکز میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ بڑھتی آبادی کو شہر میں سمونے کے لیے بظاہر تو یہ ایک اچھی سوچ ہے، تاہم گنجان آبادی والے علاقوں میں لوگوں اور ایسی فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ 

تاریخ گواہ ہے کہ غلط منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی عمارتیں، زلزلے کی صورت میں شہری مراکز میں بڑے مالی اور جانی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں، زلزلوں کو برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے۔ ذیل میں ایسی ہی چند عمارتوں کی تفصیل پیش کی جارہی ہے۔

تائپے 101

تائیوان کے دارالحکومت تائپے کی فلک بوس عمارت تائپے 101کی تعمیر 2004ء میں مکمل کی گئی تھی۔ 1,667میٹر بلندی کے ساتھ اُس وقت یہ دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔ ہرچند کہ، اب اسے دنیا کی بلند ترین عمارت کا درجہ حاصل نہیں رہا، تاہم اس میں زلزلے اور موسمی تغیر سے محفوظ رہنے کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی آج بھی اتنی ہی مؤثر اور اعلیٰ ہے۔ تائپے101میں، زلزلے کے جھٹکوں سے محفوظ رہنے کے لیے ’’اِنٹرنل ڈَیمپر‘‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زلزلے کی صورت میں عمارت کے ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

استنبول ایئر پورٹ

1999ء میں ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں 7.4شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں 17,000لوگ زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ 20لاکھ مربع فٹ پر تعمیر کردہ اس وسیع و عریض اور خوبصورت کمپلیکس میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے، سطح زمین پر 300سیسمِک آئسولیٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے انفرادی بیئرنگ، زلزلے سے پیدا ہونے والی حرکت کے ساتھ چلتے ہیں، جس کے نتیجے میں ساری عمارت ایک یونٹ کے طور پر حرکت میں آتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث، زلزلے سے پیدا ہونے والی حرکت کی رفتار میں 80فیصد کمی آجاتی ہے۔

شنگھائی ٹاور

چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی کے 2,000فٹ بلند شنگھائی ٹاور کو اس وقت زمین پر موجود دنیا کی دوسری سب سے اونچی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بدقسمتی سے، شنگھائی زلزلے کی زد میں ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، اور یہاں کی زمین بھی نسبتاً نرم مٹی پر مشتمل ہے۔ اس عمارت کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے لیے انجینئرز نے ساڑھے 21لاکھ مکعب فٹ ’’ری اِنفورسڈ کنکریٹ‘‘ کا استعمال کیا، جوزمین کے اندر 300فٹ تک جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پینڈولم پاور ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ پینڈولم کا وزن 1,000ٹن ہے، جس کے سامنے تائپے 101کا پینڈولم بھی شرما جاتا ہے۔

ٹرانس امریکا پیرامیڈ

یہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکوکی بلند ترین عمارت ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں یہ 6.7کی شدت والے زلزلے تک کو برداشت کرجائے گی۔ اس عمارت کی بنیاد میں استعمال ہونے والاکنکریٹ 52فٹ گہرا ہے اور یہ زلزلے کی صورت میں زمین کے ساتھ حرکت میں آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 1989ء میں سان فرانسسکو میں 6.9شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس زلزلے کے دوران یہ عمارت ایک منٹ تک مسلسل حرکت میں رہی، عمارت کی بالائی منزل اپنی جگہ سے ایک فٹ تک باہر جاتے دیکھی گئی، تاہم عمارت کا ڈھانچہ مکمل طور پر محفوظ رہا۔