آپ آف لائن ہیں
ہفتہ26؍شعبان المعظم 1442ھ 10؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر:ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
پاکستان میں حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد سینیٹ کی مرکزی نشست پر پی ڈی ایم کے امیدوار کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ کا موقع فراہم کیا اوپن بیلٹ پر ووٹ کاسٹ ہوتے تو خریدو فروخت کا عمل روکا جا سکتا تھا بلکہ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا بھی اعلان کر کے اپوزیشن کو چیلنج دیا ہے ،الیکشن کمیشن کی طرف سے حکومت کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آئین کو تبدیل نہیں کر سکتے نہ قانون کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ہم پر کیچڑنہ اچھالا جائے بلکہ ہمیں آزاد اور خود مختار طریقے سے کام کرنے دیا جائے ایسا شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اورپھر اقتدار میں ہونے کے باوجود سینیٹ الیکشن کی مرکزی سیٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑ گیا،اپوزیشن کیلئے انتخابی نتائج حکومت کی تین سالہ کارکردگی کا ثمر ہے اور اگروزیر اعظم اور ان کی ٹیم اسی محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ لگی رہی تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی کیونکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف صرف خیبر پختونخوا میں سابق فاٹا سے کامیابی حاصل کر سکی ہے باقی چاروں صوبوں سے شکست ہوئی ہے اور سینیٹ الیکشن میں بھی مرکزی سیٹ پی ڈی ایم کی جھولی میں جا گری،مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ارکان بک گئے اوراب وہ انہی بکے ہوئے ارکان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں حکومت کو مات دے دی ہے، اب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں بھی کامیابی حاصل کرے گی، مسلم لیگ کا کلچر تبدیل ہو گیا، ہاتھ باندھ کر سب باتیں نہیں سنیں گے الیکشن کمیشن نے جو رائے دی وہ آئین کے تحت دی آئین میں ترمیم کا نہ ہی الیکشن کمیشن اور نہ ہی سپریم کورٹ کو اختیار ہے سپریم کورٹ نے وہی پوزیشن تسلیم کی جو الیکشن کمیشن نے لی بلوچستان اور کے پی کے میں اربوں پتی لوگوں کو ٹکٹس دئیے گئے وہاں حکومتی ارکان جیتیں تو الیکشن بالکل ٹھیک ہے، اسلام آباد میں ایک نشست ہار جائیں تو الیکشن ٹھیک نہیں، اب اداروں کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ اداروں کی تضحیک کرنے والے کون لوگ ہیں۔ صدر نے سمری میں لکھا ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھو چکے اسے پبلک کیا جائے اب وزیر اعظم بکے ہوئے لوگوں سے اعتماد کا ووٹ لیں گے ‘سینیٹ کی مرکزی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طو ر پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے پارلیمنٹ میں کیا حکمت عملی اپناتے ہیں سینیٹ کی نشست ہارنے کے بعد اب وزیراعظم کا لائحہ عمل کیا ہوگا یہ ایک بڑا سوال ہے ، وزیر اعظم ایوان سے ووٹ لیں گے مگر سینیٹ کی طرح اعتماد کا ووٹ خفیہ رائے شماری سے نہیں ہوتا وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے 172ارکین اسمبلی کی حمایت درکا ر ہوگی اگر مطلوبہ تعداد سے کم ووٹ رہے تو پھر صورتحال کیا ہو یقینا یہ حکومت کی طرف سے بھی پریشان کن ہے اور اپوزیشن بھی اس حوالے سے کچھ نہ کچھ فیصلے لے چکی ہوگی وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے اتحادیوں چوہدری برادران سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے سمیت ایوان سے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی مسلم لیگ ق یقینا اعتماد کے ووٹ کیلئے ایک اہم کردار اد اکر سکتی ہے چوہدری پرویز الٰہی بطور اتحادی وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکے ہیں آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں بھونچال کا آنا خارج از امکان نہیں ہے مگر آج اعتماد کے ووٹ کے فیصلے پر عمرا ن خان کا سیاسی مستقبل بھی ٹکا ہوا ہے سینیٹ الیکشن میں حکومتی اتحاد کو شکست دینے کے بعد پی ڈی ایم اور حکومت کے درمیان آئندہ سیاسی معرکہ پنجاب اسمبلی میں ہوگا جہاں وزیراعلی عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے گھمسان کارن پڑےگا اور مسلم لیگ ق جس جانب جا کھڑی ہو گی وہ جیت جائیگاپنجاب اسمبلی میں دونوں فریقین کی عددی اکثریت میں اتنا معمولی فرق ہے کہ عدم اعتماد کے معاملے پر اپ سیٹ کے امکان کو یکسر مسترد کرنا ممکن نہیں پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 181 ہے جب کہ اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پاس 10 نشستیں ہیں، مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 165 ہے اور پیپلز پارٹی کے پاس 7 نشستیں ہیں 2021ء میں بہت کچھ تبدیل ہونے کا امکان ہے آج وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو حکومت کیخلاف اپوزیشن کے دبائو میں کمی آ سکتی ہے ۔
یورپ سے سے مزید