آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے قبل اس نے ایک وائس میسج اپنے ہم خیال دوستوں کے واٹس ایپ گروپ میں بھیجا تھا اس وقت اسے اور نہ ہی اس کے ہم خیال دوستوں کو یہ اندازہ تھا کہ محمد انور رضا کا دوستوں کے نام یہ آخری پیغام ہوگا لیکن جس نے بھی یہ پیغام سنا وہ اپنے آنسو نہ روک سکا۔ محمد انور رضا گزشتہ تیس برس سے جاپان میں مقیم تھے ،وہ جاپان میں پاکستانی کمیونٹی کے ہر طبقے میں مقبول تھے، اورایک معروف کاروباری شخصیت تھے، دوستوں کے لئے چوبیس گھنٹے حاضر رہتے ،ان کے ہر دکھ درد میں پیش پیش رہتے ،مساجد کی خدمت میں سب سے پہلے اپنا حصہ پیش کرتے ،کھانا پکانے میں ماہر تھے اور کوشش کرتے کہ دوستوں کو جمع کرکے اپنے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھلائیں، ان کی جاپانی اہلیہ اور تین بچے ان کا کنبہ تھا، محمد انور رضا کی عمر ابھی ساٹھ برس بھی نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہوچکے تھے جس کے بعد ان کی انجیو پلاسٹی ہو چکی تھی اور ان کے دل میں دو والوو ڈالے جاچکے تھے، جس کے بعد وہ کھانے میں کافی احتیاط کیا کرتے اور کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ واک کریں، جاپان میں کورونا کی وبا کے دوران بھی دوستوں سے تعلق نہ توڑا، اکثر اپنے ہم خیال دوستوں کے گروپ سے رابطے میں رہا کرتے تھے۔ میری اکثر کمیونٹی تقریبات میں ان سے ملاقات ہوا کرتی اور میں ہمیشہ ہی سے ان کے پیار اور اخلاص کا گرویدہ تھا، وہ اکثر مجھے اپنے ہاتھ سے بنے کھانے کھلانے کی دعوت دیا کرتے لیکن زندگی نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ گزشتہ چند دنوں سے انھیں اپنی طبیعت کافی خراب محسوس ہو رہی تھی‘ وہ ڈاکٹروں کے پاس جاتے ڈاکٹر انہیں چیک کرتے کچھ دوائیں دے کر واپس بھیج دیتے لیکن محمد انور رضا کی طبیعت کسی طرح ٹھیک نہیں ہو پا رہی تھی انھیں ڈر تھا کہ کہیں کورونا کا حملہ نہ ہوگیا ہو یا پھر دل کی کوئی تکلیف شروع نہ ہوگئی ہو ان خدشات کا ذکر انہوں نے اپنے دوستوں سے بھی کیا جس کے بعد دوستوں کے مشورے کے بعد دوسرے اسپتال میں بھی چیک اَپ کرایا گیا لیکن نہ کورونا نکلا اور نہ ہی دل کی تکلیف لہٰذا ایک بار پھر وہ گھر آگئے لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا ،حقیقت یہ ہے کہ جاپان یا پردیس میں آپ کے دوست ہی آپ کے اہل خانہ ہوتے ہیں‘ جو ہر دکھ درد میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب محمد انور رضا کی طبیعت مزید خراب ہوئی اور ڈاکٹر ان کو ایڈمٹ کرنے پر تیار نہ ہوئے تو ایک قریبی دوست کے مشورے پر انہوں نے ایمبولینس کال کی تاکہ ایمرجنسی کیس کے طور پر انہیں اسپتال میں داخل کیا جاسکے۔ ان کے ایک قریبی دوست کی جانب سے دیا گیا یہ مشورہ کارگر ثابت ہوا اور ایمرجنسی ایمبولینس سروس کے ذریعے جب وہ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹر وں نے انہیں داخل کرلیا ،لیکن پھر بھی ڈاکٹر ان کے مرض کی تشخیص نہ کرسکے لہٰذا انہیں کئی طرح کی ڈرپس لگا کر اگلی صبح ماہر ڈاکٹر کا انتظار کرنے کا کہا گیا۔ اسی دوران محمد انور رضا نے اپنے ہم خیال دوستوں کے نام زندگی کی حقیقت سے روشناس کرانےکے لئے پیغام بھیجا اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ۔بٹ صاحب میں رات کو اسپتال میں داخل ہوگیا ہوں ،حالت بہت خراب ہے مجھے تو لگتا ہے کہ میری تاریخ پیدائش چھبیس فروری 1961ء اور اب چھبیس فروری 2021ء یعنی پورے ساٹھ سال۔۔۔ چند لمحے خاموشی۔۔۔ ابھی نرس سے بات ہوئی ہے اس کا کہنا ہے کہ آپ کو بیماریاں بہت ساری ہیں سمجھ نہیں آرہا کہ علاج کہاں سے شروع کریں ، حلق آپ کا بند ہے، آنکھیں آپ کی اتنی سرخ ہیں کہ لال رنگ بھی شرما جائے، جسمانی تکلیف میں آپ مبتلا ہیں لہٰذا ہم نے آپ کو پانچ یا چھ ڈرپ لگادی ہیں صبح ماہر ڈاکٹر آئیں گے تب تک صبر کریں ،بٹ صاحب ناک،حلق اور زبان بند ہے آج چوبیس دن ہو گئے ہیں کچھ بھی نہیں کھایا، بیماری کا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ کون سی ہے لیکن میں آیت الکرسی پڑھتا رہتا ہوں اس میں بھی کافی تکلیف ہوتی ہے، کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، بہرحال ﷲ تعالیٰ سب سے بہتر جانتا ہے وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے میں نے سب اس پر چھوڑ دیا ہے آپ سب بھائی دعا کریں ،اب سمجھ نہیں آ رہا کیا بات کروں بہت ساری باتیں سوچی تھیں کرنے کو لیکن بھول گیا ،خیر ﷲ حافظ۔ اس پیغام کے بعد اگلا پیغام ڈاکٹروں کی جانب سے تھا کہ آپ کے دوست محمد انور حسین رضا اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، بعد میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کی وفات نہ دل کے مرض کی وجہ سے ہوئی نہ ہی کورونا کی وجہ سے بلکہ ان پر جسم کے اندر خسرہ کا حملہ ہوا تھا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا۔کاش اس مرض کی تشخیص پہلے ہوجاتی۔ ﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ﷲ پاک محمد انور حسین رضا کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین