آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لمبی عمر کیلئے کن غذاؤں کا استعمال کیا جائے؟

طبی ماہرین کی جانب سے صحت مند زندگی اور لمبی عمر کے حصول کے لیے دن کی غذا میں دو حصے پھل اور 3 حصے سبزیوں کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشنز فلیگ شپ جرنل سرکولیشن میں شائع کی جانے والی طبی تحقیق کے مطابق لمبی عمر اور صحت مند زندگی کا راز پھلوں اور کچی سبزیوں میں چھپا ہے۔

 حال ہی میں 2 ملین بالغ افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر غذا میں دو حصے پھل اور 3 حصے سبزیوں کا استعمال کرنے سے متعدد خطرناک بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے جن میں شوگر، دل کا عارضہ، کولیسٹرول لیول، بلڈ پریشر لیول اور کینسر جیسی جان لیوا بیماریاں سرفہر ست ہیں جبکہ عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔

تحقیق کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بالغ افراد میں سبزیاں اور پھل کھانے کی عادت ہی نہیں پائی جاتی، تحقیق میں شامل 2 ملین میں سے صرف 10 فیصد بالغ افراد ہی روزانہ کی بنیاد پر پھلوں اورسبزیوں کا مطلوبہ مقدار کا استعمال کر رہے تھے۔

30 برسوں پر مشتمل، 19 ملکوں کے 2 ملین رضاکاروں پر کی جانے والی مختلف تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد روزانہ کی بنیاد پر پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرتے ہیں ان کی صحت دوسرے افراد  کے مقابلے میں بہتر تھی جبکہ مطلوبہ مقدار سے زائد پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرنے والے افراد میں یہ نتائج سود مند ثابت نہیں ہو رہے تھے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق جو رضاکار روزانہ کی بنیاد پر غذا میں دو حصے پھل اور 3 حصے سبزیوں کا استعمال کر رہے تھے اُن میں 13 فیصد اچانک اموات، 12 فیصد ہارٹ اٹیک اور فالج اٹیک، 10 فیصد کینسر، 35 فیصد پھیپھڑوں کی بیماریوں کے سبب اموات کے خدشات میں کمی سامنے آئی تھی۔


تحقیق کے دوران رضاکاروں کو استعمال کرانے والی سبزیوں میں ہرے پتے والی سبزیاں پالک، بند گوبھی، میتھی اور وٹامن سی سے بھرپور دیگر سبزیاں جبکہ پھلوں میں سٹریس فروٹ جیسے کہ لیموں، مالٹے، بیریز اور گاجر کا استعمال کرایا گیا تھا۔

 ماہرین کے مطابق ہر پھل اور سبزی انسانی صحت پر یکساں مثبت اثرات نہیں رکھتی ہے، جن پھلوں  اور سبزیوں میں کاربوہائیڈریٹس اور اسٹارچ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے ان سے بھی پرہیز کرنا لازمی ہے۔

صحت سے مزید