آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بنیادی ضروریات کی فراہمی ---فیصلہ آپ کا رائے نا چیز کی!

موجودہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تعمیرات کے شعبہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ اس کے مطابق تعمیرات کے شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے سے ملکی معیشت کا پیہہ تیزی سے گھومے گا اور لوگوں کو بڑے پیمانے پہ روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ جس سے ملکی قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا یوں قومی اخراجات میں اضافے دوسرے صنعتی اور خدمات کی طلب میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ملکی قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔یقینا ملکی قومی پیداوار میں اضافہ ہر معیشت کی خواہش یا ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے مختلف معاشی منصوبہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ وہ ممالک جو صنعتی پیداوار اور قدرتی وسائل کے استعمال کے عروج سے گزر چکے ہیں وہ اپنی معیشت کا پیہہ آگے بڑھانے کے تعمیرات کے شعبہ کا سہارا لے رہے ہیں۔کیا پاکستان بھی اپنی ساری صنعتی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو استعمال کرچکا ہے؟ اگر نہیں تو ان کے استعمال میں کیا رکاوٹ ہے؟ کیا جدید ٹیکنالوجی تک پہنچ اصل مسئلہ ہے؟ یا ارادے کی پختگی کا نہ ہونا؟ کیونکہ ہمیشہ سے یہی پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے جہاں انسانی وسائل (human resources ) کی بھر مار ہے مسئلہ صرف اور صرف ارادے کا ہے کہ کب ان natural resources and human resources کو درست طور پر استعمال کیا جائے تاکہ معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں۔ لیکن جواب آتا ہے کہ اس financial resources نہیں ہیں۔یعنی جب کبھی تعمیری یا درست سمت میں کام کرنے کی بات کی جائے تو فورا "مالی وسائل کی کمیابی" آڑے آجاتی ہے۔ لیکن ویسے "روپیہ چلنے" کا بےحد ذکر ہوتا ہے۔ہمیں اس بات کو مان لینا چاہیے کہ ہم اپنی کاہلی اور غفلت کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی سے بہت دور ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنی صلاحیتوں سے بھی بالکل ناآشنائی ہے۔ ہم ترقی کرنے کے لیے یہ سمجھتے ہیں کہ جو کام آسانی سے ہو جائے یا جو روش ترقی یافتہ ممالک نے اختیار کی کوئی ہے ہم بھی ہو بہو اسی طریقے پر عمل کرلیں گے تو یقینا کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ کاہلی نہیں تو کیا ہے؟ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق معاشی پالیسیاں بناتا ہے لیکن پاکستان میں بغیر زمینی حقائق کو دیکھے ہوئے دوسرے ملکوں کی پالیسیوں من و عن اپنا لیا جاتا ہے۔ (جن کا ذکر کئ دفعہ پچھلے کالموں میں کیا جاچکا ہے ) جس کے نتائج خاطر خواہ نہیں نکلتے تو اگلے کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ دوسرے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں فورا نتیجہ چاہیئے ہوتا ہے۔ جب کہ درست نتائج کے لیے طویل المدت منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے "جلد تختی پہ اپنے نام کی خواہش نہیں بلکہ ملکی مفاد کے لیے صبر" کی ضرورت ہوتی ہے۔چلیں واپس آتے ہیں تعمیراتی صنعت کی طرف، ابھی کراچی سے لے کر خیبر پختوخواہ کے ہر ضلع میں تعمیرات کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے ۔ کراچی میں تو نئی زمینوں کے ساتھ ساتھ کچی آبادیوں میں کنسٹرکشن اتنی تیزی سے جاری ہے کہ" حیرت ہوتی ہے اتنا پیسہ" ان لوگوں کے پاس بھی ہے۔ پتلی پتلی گلیاں ہیں کہ مشکل سے تین لوگ بیک وقت گزر سکیں۔ لیکن چالیس چالیس گز اور ساٹھ ساٹھ گز کے پلاٹس پر پانچ پانچ چھ چھ منزلہ عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں۔ کیا وہاں سارے بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے؟ خدانخواستہ کسی حادثہ کی صورت میں انھیں rescue کیا جاسکتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات تو دور کی بات کوئی ان سوالات پہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ یعنی ہم آنے والے مسائل کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتے لیکن اگر مسئلہ ہو جائے مظلومیت کا پرچار بہت کرتے ہیں ۔اسی طرح اسلام آباد جو اپنی قدرتی ہریالی کی وجہ سے مشہور تھا جنگلات کی کٹائی کے بعد "ہائی ویز سٹی " میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اب اس شہر میں تعمیرات کی بھر مار ہے پہاڑوں اور پہاڑیوں کو کاٹ کاٹ کر housing complexes تعمیر کیے جارہے ہیں۔ جبکہ پرانے تعمیر شدہ علاقوں میں پانی، گیس اور بجلی کی شدید کمی ہے ۔ گھر خریدنے یا کرائے پر لے نے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں بورنگ ہوئی ہوئی ہے، گیس کو سلنڈر لگ سکتا ہے۔ ہر گھر میں جنریٹر لازم ہے۔ جو خرچ برداشت کرسکتے ہیں وہ سولر پینل لگواکر انرجی یعنی بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ اور تقریبا یہی حال ہر شہر اور علاقے کا ہے۔ایسے میں صرف تعمیرات کے شعبہ کو اہمیت دے کر اصل ٹارگٹ حاصل نہ ہوگا۔ balance growth in each sector کے اصول کو اپنا کر خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ وقت گزرنے پر آہ و کار اور مظلومیت کے پرچار کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکے گا۔ فیصلہ آپ کا رائے نا چیز کی!

minhajur.rab@janggroup.com.pk

تازہ ترین