• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اپوزیشن کا توڑ: عاطف خان کو میدان میں لانے کا فیصلہ

حکمران جماعت کی طرف سے اگر چہ خیبر پختونخو ا میں سینیٹ الیکشن میں کامیابی کے بڑے بڑے دعو ے کئے جارہے ہیں تاہم خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے جنرل نشستوں پراپنی عددی اکثریت سے کم ووٹ حاصل کئے جنرل نشستوں پر تحریک انصاف کے سات اراکین نے اپنے پینل کو ووٹ نہیں دیا حکمران جماعت نے جنرل نشستوں پر امیدواروں کیلئے19،19ارکان اسمبلی پر مشتمل پینل تشکیل دیا تھا تحریک انصاف کے شبلی فراز، محسن عزیز اور لیاقت ترکئی کے پینل میں شامل تمام ارکان اسمبلی نے انہیں ووٹ دیئے اور تینوں امیدواروں نے19 ، 19ووٹ حاصل کئے۔ 

تاہم فیصل سلیم اور ذیشان خانزادہ کا پینل بھی19اور19 ارکان اسمبلی پر مشتمل تھا جس میں فیصل سلیم الرحمان کو 17اور ذیشان خانزادہ کو 14ووٹ پڑے حکمران جماعت کے کئی ارکان نے حکمران جماعت کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دئیے ادونوں امیدواروں کو کم ووٹ پڑے تاہم دونوں امیدوار دوسری ترجیح کے ووٹ ملنے کے باعث شکست سے بچ گئے پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ حکمران جماعت کے نامزد امیدواروں کے حق میں ووٹ استعمال نہ کرنے والے ارکان صوبائی اسمبلی کے بارے میں اعلی سطحی انکوائری کرکے انکے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ 

جس طرح 2018 ء کے سینیٹ الیکشن میں پارٹی امیدواروں کو ووٹ دینے کی بجائے ووٹ بیچنےپر 20 ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی کی گئ تھی ویر اعظم کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں جبکہ سابق سینئر صوبائی وزیر اور حکمران جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی عاطف خان کے اس بیان سے کہ وہ کپتان کے کھلاڑی ہیں اور کپتان انہیں جہاں بھی کھلوانا چاہے وہ کھیلنے کیلئے تیار ہیں۔

عاطف خان جو کہ کچھ عرصہ تک وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان اور گورنر شاہ فرمان کے ساتھ اختلافات کے باعث کنارہ کش رہے لیکن گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ کے موقع پر دیگر ارکان صوبائی اسمبلی اور کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد میں سڑکوں پر رہے خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت میں بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے سابق سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان ٗشہرام خان ترکئی ٗشکیل خان ایڈووکیٹ کو وزارت سے برطرف کیاگیا تھا تاہم بعد میں اختلافات دور ہونے پر شہرام خان ترکئی کو دروبارہ صوبائی وزیر بنادیا گیا پی ٹی آئی کے حلقوں کی طرف سے زور دیا جارہا ہے کہ سابق صوبائی وزیر محمد عاطف خان جو خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت فعال بنانے اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 

انہیں حکمران جماعت کو فعال بنانے اور اپوزیشن کے توڑ کیلئے دوبارہ میدان میں لایا جائے خصوصا اسی صورتحال میں جبکہ سابق صوبائی وزیر محمد عاطف خان کی وزیر اعلی محمود خان اور گورنر شاہ فرمان سے اختلافات کا خاتمہ ہو گیا ہے جبکہ سابق صوبائی وزیر عاطف خان وزیر اعلی محمود خان اور گورنر شاہ فرمان کو قریب لانے اور انکی آپس کی غلط فہمیاں دور کرنے کے سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اہم کردار ادا کیاگیا ہے سینیٹ انتخابات سے قبل سابق صوبائی وزیر اور حکمران جماعت کے متحرک رکن صوبائی اسمبلی محمد عاطف خان کے وزیر اعلی اور گورنر سے اختلافات کا خاتمہ حکمران جماعت کیلئے نیک شگون رہا حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات کے خاتمے کی وجہ سے ہی حکمران جماعت خیبر پختونخوا میں بارہ میں سے سینیٹ کی دس نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ 

تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق کہ محمد عاطف خان کو اختلافات کے خاتمے کے بعد صوبائی کابینہ کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس طرح محمد عاطف خان کپتان کی ٹیم کے فعال کھلاڑی کی حیثیت سے پارٹی کوفعال بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے حکمران جماعت کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کیلئے رابطوں کا سلسلہ تیز کردیاگیا ہے اس سلسلے میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سینیٹ چیئرمین

کے انتخابات میں اے این پی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے خصوصی وفد اتوار کے روز ولی با غ چارسدہ پہنچا تاہم اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان کی علالت کے باعث اے این پی کی طرف سے اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی، مرکزی سیکرٹری جنرل وسابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور صوبائی صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کی گئی۔ 

جبکہ ملاقات میں اے این پی کے بلوچستان سے نومنتخب سینیٹر ارباب عمر فاروق کاسی، صوبائی وزیر بلوچستان زمرک خان اچکزئی اور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شکیل بشیر خان عمرزئی بھی موجود تھے ملاقات میں اے این پی کے رہنمائوں سے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے سلسلے میں حکمران جماعت کے امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں کی طرف سے حکومتی وفد کو بتایا گیا کہ اے این پی پی ڈی ایم کا حصہ ہے تاہم چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے سلسلے میں پارٹی جو بھی فیصلہ کریگی اس پر عمل درآمد کیا جائیگا۔ 

اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صد امیر حیدر خان ہوتی نے حکومتی وفد پر واضح کیا کہ سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے کار کے ذریعے ہی حل کرنا ملک و قوم کی مفاد میں ہے، عوامی نیشنل پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے اور اے این پی میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں،اس بارے بھی پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ملک میں عوام کو حق حکمرانی دلانے اور آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ایوان بالا کے تقدس کی بحالی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ 

اسی طرح پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے بھی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کیلئے رابطوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے علاوہ پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے بھی رابطے تیز کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کیلئے جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق سے رابطہ کیا ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید