آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انگلینڈ میں 28 فیصد افراد کو خرابی صحت کے باعث سوشل کیئر کی ضرورت

لندن (پی اے) ایک کیئر چیرٹی کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ انگلینڈ میں ایک چوتھائی سے زیادہ افراد کو صحت خراب ہونے کی وجہ سے سوشل کیئر کی ضرورت ہے۔ سروے میں انکشاف ہوا کہ بہت سے افراد کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بہت ناکافی سپورٹ کی وجہ سے سات میں سے ایک جواب دہندہ کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔ چیرٹی کیئر اینڈ سپورٹ الائنس (سی ایس اے) نے کہا کہ بہت سارے بوڑھے اور معذور افراد کی زندگیاں گھٹ رہی ہیں۔ سی ایس اے کا کہنا ہے کہ حکومت نے سوشل کیئر میں اصلاحات کیلئے عزم کا اظہار کیا ہے اور وہ اس سلسلے میں سال رواں کے آخر میں منصوبے مرتب کرے گی لیکن بوڑھوں اور معذور افراد کو کورونا پینڈامک کے دوران ران روزمرہ کی سرگرمیوں اور یہاں تک کہ میڈیکل اپائنٹمنٹس سے محروم کردیا گیا۔ اس سروے میں سوشل کیئر کے ضرورت مند 4000 افراد اور کیئررز نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج میں پتہ چلا کہ گزشتہ برس 28 فیصد افراد کی صحت خراب ہوگئی تھی۔ سی ایس اے کا کہنا ہے ایک چوتھائی افراد کو روزانہ سپورٹ کی ضرورت ہے اور انہوں نے حکام سے سپورٹ کیلئے درخواست کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سروے میں 14 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس خاطر خواہ سپورٹ نہیں ہے۔ تقریباً 14 فیصد بلامعاوضہ کیئررز نے کہا کہ کیئر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے خود ان کی اپنی صحت خراب ہوگئی ہے۔ سوشل کیئر کی حدود وسیع ہیں۔ اس میں اکثر معمر افراد کے کپڑے دھونے، کھانا کھلانے اور کپڑے پہنانے میں مدد کرنا بھی شامل ہے اور سیکھنے کی صلاحیتوں سے محروم افراد کو روزانہ کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنا بھی سوشل کیئر کے زمرے میں آتا ہے۔ سروے میں 15 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ نظرانداز محسوس کرتے ہیں جبکہ 18 فیصد جواب دہندگان نے کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران ملنے والی کیئر پر خوف محسوس کیا۔ سیکھنے سے معذور افراد میں سے 34 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ خود کو تنہا یا الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ 25 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ مدد نہ ملنے کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پاتے۔ کیئر اینڈ سپورٹ الائنس (سی ایس اے) کی کو چیئروومن اور چیرٹی ڈائریکٹر ایج کیرولین ابراہمز نے کہا کہ ہمارا نیا سروے یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح مورونا وائرس پینڈامک کے دوران سوشل کیئر کی کمی نے بہت سے بوڑھے اور معذور افراد اور ان کیلئے بلا معاوضہ سوشل کیئر کا کام کرنے والے کیئررز کی زندگیوں کو کم کردیا اور ان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کی وجہ سے ایسے وقت میں این ایچ ایس پر دبائو مزید بڑھ گیا جب مشکلات کے دور میں ہمیں زیادہ سے زیادہ ہیلتھ سروسز کی ضرورت ہے۔ ڈپارٹمنٹ فار ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر نے اس شعبے میں دیرپا اصلاحات لانے کیلئے ایک قابل عمل اور پائیدار منصوبے کا وعدہ کیا ہے۔ جولائی میں این ایچ ایس انگلینڈ کے سربراہ نے متنبہ کیا تھا کہ ایک سال کے اندر سوشل کیئر سیکٹر کو مناسب فنڈنگ فراہم کرنے کے منصوبے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی فنانشل سپورٹ میں مالی سپورٹ میں کمی اور معمر آبادی سے منسلک مسائل اور ڈیمانڈ میں اضافے کی وجہ اس سیکٹر کیلئے کئی برسوں سے وسائل کم ہو گئے ہیں۔ سوشل کیئر عام طور پر فری مہیا نہیں کی جاتی لیکن اس سلسلے میں برطانیہ کی قومیں مختلف اپروچ رکھتی ہیں۔ اگر کسی کے پاس 25.250 پونڈ کے اثاثے ہیں تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کچھ یا تمام اخراجات کی ادائیگی کرے گا۔