• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم کمزور لوگ ہیں، جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی ،جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سنتا ہوں تو پھر اپنے ’’تابوں‘‘ کے پاس بھاگتا ہوں۔

میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ، ’’جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔اس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں۔ جیسے میری آپ کی اپنے دوستوں کے ساتھ ہے۔‘‘تو انہوں نے کہا، ’’اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اس کے پاس جاسکتا ہے، اس کے دربار تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اس کے گھر میں داخل ہوسکتا ہے، یہ ناممکن ہے۔‘‘

میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہیے کہ میں اس کے پاس جاسکوں؟ بابا جی نے کہا، ’’اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ ’’اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں‘‘ کیوں کہ اللہ تو کہیں بھی جا سکتا ہے۔ بندے کا جانا مشکل ہے۔‘‘

بابا جی نے کہا ،’’کہ جب تم اس کو بلائو گے تو وہ ضرور آئے گا‘‘۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اسے بلایا ہی نہیں۔ کبھی اس بات کی زحمت ہی نہیں کی میری زندگی ایسے ہی رہی، جیسے بڑی دیر کے بعد کالج کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل جائے بازار میں تو پھر ہم کہتے ہیں کہ بڑا اچھا ہوا آپ مل گئے۔ کبھی آنا، اب وہ کہاں آئے، کیسے آئے، اس بے چارے کو تو پتا ہی نہیں۔‘‘

(اشفاق احمد کی کتاب ’’زوایہ‘‘ سے اقتباس)