چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورت حال تشویشناک ہے، مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، تجویز ہے کہ کشمیر میں ٹرتھ کمیشن بنایا جائے اور سچ کو سامنے لایا جائے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے جتنے پاکستان کے رہے ہیں، ماضی میں تجاویز دی ہیں کہ کیسے انتخابات کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔ پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی پابندی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ چاہتا ہوں وزیراعظم شہباز شریف کامیاب ہوں۔ وزیراعظم کی کامیابی میں وفاقی سطح پر بھی کچھ رکاوٹیں ہیں اور میں ان کو ایک ساتھی کی حیثیت سے تجاویز دوں گا۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کے کشمیری عوام سے متعلق رویہ، بیانات اور تبصرے شرمناک تھے۔ جب آپ اہم عہدہ سنبھالتے ہیں تو اس عہدے کے مطابق لہجہ، گفتگو اور بیان دینا چاہیے، وفاقی وزیر اپنا بیان واپس لے کر کشمیریوں سے معافی مانگیں یا وزارت چھوڑ کر اپنی بات پر قائم رہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی وزیر اور وزیراعظم کا احترام کرتا ہوں میری تنقید جائز ہے اتنی تنقید تو ان کو سننا پڑے گی۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے جو تاثر گیا ہے وہ اچھا نہیں گیا امید ہے وہ اپنے بیان پر غور کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کچھ لحاظ سے کامیابیاں حاصل کی ہیں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے، وزیراعظم نیک نیتی سے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں حکومت ہے۔