آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دوحہ قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کے پانچ ماہ کے تعطل کے بعد روس کی میزبانی میں حال ہی میں ماسکو میں چار پڑوسی ملکوں سمیت امریکا افغان طالبان مذاکرات ہوئے جس میں افغان حکومت کی طرف سے افغان مفاہمی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ شریک ہوئے۔ امریکا سمیت روس، چین اور پاکستان نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں افغان فریقین سے جنگ بندی کرنے اور پائیدار امن کے قیام کیلئے مذاکرات جاری رکھیں۔ 

مشترکہ کوششیں کریں۔ ملک میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کی کوششیں کریں۔ روس کے وزیر خارجہ سرکئی لاروف نے کہا کہ روس افغانستان میں امن کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ دوحہ قطر جیسے بنیاد پرست گروپ اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں۔ افغان مفاہمی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا تمام افغان گروپ مذاکراتی عمل سے فائدہ اٹھائیں۔ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امن سب کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان ٹیم کے سربراہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے کہاکہ افغان طالبان افغانستان میں مستحکم اسلامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔ امریکا افغانستان سے فوجیں نکال لے اور افغان عوام کو ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔

دوحہ قطر میں اکتوبر کے اوّائل میں امریکا اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات میں یہ طے پایا تھاکہ امریکا مئی 2021ء تک امریکی فوجی واپس بلوالے گا۔ افغان طالبان کا پرزور مطالبہ ہے کہ یکم مئی تک امریکی افغانستان سے چلے جائیں۔ دوسرے لفظوں میں طالبان چاہتے ہیں، مقررہ ڈیڈ لائن تک امریکی افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء عمل میں آجائے۔ امریکا نے پہلی بار روس میں افغانستان امن مذاکرات کیلئے اپنا وفد بھیجاہے۔

امریکا اپنے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں ماسکو وفد بھیج کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ افغان امن مذاکرات میں پڑوسی ممالک روس، چین اور پاکستان کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ مئی 2021ء تک امریکی فوجیوں کا انخلاء یکم مئی 2021 تک مکمل کرنے کی حامی سابق صدر ٹرمپ نے بھری تھی۔ اب صدر جوبائیڈن نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس تاریخ کی پابندی کریں گے یا اس میں کوئی تبدیلی کریں گے۔ یا پھر کچھ فوجی کابل میں ڈیڈ لائن کے بعد رہیں گے۔ 

ماسکو کانفرنس میں امریکا نے جس پلان پر بات کی ہے کچھ ایسا ہی خط زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی کو بھی ارسال کیا ہے جس میں امریکا نے تجویز کیا ہے کہ افغانستان میں مشترکہ عبوری حکومت تشکیل دی جائے جو نئے دستور کے تحت افغانستان میں عام انتخابات کا انعقاد کرائے۔ صدر اشرف غنی نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان کے منتخب صدر ہیں اور اپنی مدت پوری کریں گے۔ طالبان کے بعض دھڑے بھی عبوری حکومت کے حق میں نہیں ہیں۔ افغان مفاہمی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ افغان حکومت ہر مسئلے پر بات چیت کے لئے راضی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ، شورش اور پرتشدد واقعات کا خاتمہ ضروری ہے، اس کے بغیر پائیدار امن صرف خراب ہو گا۔

امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ افغان امن مذاکرات کا دوسرا رائونڈ ترکی میں آئندہ ماہ ہو گا اس کے انتظامات کرائے۔ ترکی نے بھی افغان امن مذاکرات کانفرنس کی میزبانی قبول کی ہے۔ دوحہ قطر گزشتہ کانفرنس میں افغان طالبان مذاکرات سے قبل اپنے قیدیوں کی رہائی پر اصرار کرتے رہے تھے تب امریکا نے چھ طالبان قیدی رہا کرائے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دو امریکی اور ایک فرانسیسی فوجی کو قتل کیا ہے۔ وہ قیدی خصوصی طیارے کے ذریعہ دوحہ قطر لائے گئے تب مذاکرات شروع ہوئے ۔ 

اس کانفرنس کے ایجنڈے میں جو نکات رکھے گئے تھے ان میں افغانستان میں خواتین کے حقوق کو یقینی بنایا۔ فائر بندی کی پابندی کرنا، آئین میں ضروری ترامیم کرنا، قیدیوں کو رہا کرنا اور افغانستان کی سرزمین کو بیرونی دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکنا سرفہرست تھے۔ اس کانفرنس میں سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغان طالبان رہنما گلبدین حکمت یار نے شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

مذاکرات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض سنگین دہشت گرد کارروائیوں میں افغان طالبان کے کسی دھڑے کا ہاتھ نہ تھا۔ تاہم ایسی کارروائیوں پر پردہ پڑا ہوا ہے کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے امریکی سیکورٹی کے اہم اداروں کے اعلیٰ افسران نے اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اگر تمام فوجی افغانستان سے نکل جاتے ہیں تو گویا جاری حالات میں ہم افغانستان کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آجائیں گے تو پھر بیس بڑوں میں نو سو نوے ارب سے زائد رقم خرچ کرنے کا کیا مطلب ہوا۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔جبکہ کابل میں بیشتر افغانی اعلیٰ حکام کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان کو امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ مذاکرات کو کسی نہ کسی حیلے بہانے سے طول دے رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ امریک تھک ہار کے چلا جائے۔

امریکی مبصرین جو جنوبی ایشیا کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ افغان طالبان کی دوسری نسل میدان میں آگئی ہے جس کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بزرگوں کا تجربہ موجود ہے وہ مذاکرات کے سرد و گرم اور دائو پیچ سے بھی گہرا شغف رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس طرح شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر اپنے حریف کو تھکاتا ہے اسی طرح افغان طالبان بھی اپنے حریف کو تھکانے میں ہنر سیکھ گئے ہیں۔

ماسکو کی حالیہ افغان امن کانفرنس کے حوالے بیشتر سفارتکاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک اہم کانفرنس ہے اس میں امریکا سمیت روس، چین اور پاکستان بھی شریک ہیں جس سے افغان تمام دھڑوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ افغان طالبان کو حکومت سے بھی مذاکرات کرکے اپنے بنیادی اختلافات کو دور کر لینا چاہئے۔ اہم مسئلہ خواتین کا ہے۔ شدت پسند دھڑے خواتین کے حقوق کو تسلیم نہیں کرنے ان کے نزدیک گھر کی چہار دیواری اور برقع عورت کا سب کچھ ہے۔ 

شدت پسند اور رجعت پسند عناصر کے نزدیک عورت کو تعلیم دینا غیر ضروری ہے۔ معذرت کرنا قطعی غیر ضروری ہے، خواتین کی معاشی آزادی کا تصور بھی عبث ہے۔ اس لئے بیشتر مبصرین اس اہم مسئلے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان کو سنجیدگی سے مذاکرات پر توجہ دینا اور اس عمل کو ثمر آور بنانا چاہئے کیونکہ ایک دم سب کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کی تاریخ جنگ وجدل سےبھری ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے 1979ء میں ایرانی انقلاب نے ایران میں شاہ ایران کےخلاف شدید احتجاجی مظاہروں اور شورش نے اطراف پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اس کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ1977ء میں پاکستان میں فوجی حکومت قائم ہو گی۔1978 میں افغانستان میں کمیونسٹ پارٹی نے صدر دائود کا تختہ اُلٹ کر ترقی پسند رہنما نور محمد تراکئی کو صدر بنا دیا گیا۔ اس انقلاب کو ’’ثور انقلاب ‘‘کہا گیا۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان بین الاقوامی جنگجو گروپس نمودار ہو گئے اور ملک میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ 

جلد ہی نور محمد تراکئی قتل کر دیئے گئے۔ خق اور پرچم پارٹیوں نے دوسرے ترقی پسند رہنما حفیظ اللہ امین کو حکومت سونپ دی۔ مجاہدین کے جتھے خانہ جنگی میں مصروف تھے پورا افغانستان میدان کارزار بن گیا۔ امریکہ، پاکستان، ایران، سعودی عرب، خلیجی ریاستیں اور یورپی ممالک سمیت بعض دیگر مسلم ممالک کے جنگجو رضا کار بھی افغانستان میں لڑ رہے تھے۔ پاکستان کے طالبان کا بھی نمایاں کردار تھا۔ حفیظ اللہ امین بھی کام آگئے۔ بعدازاں سوویت آرمی نے ببرک کارمل کو اقتدار سونپ دیا مگر خانہ جنگی عروج پر پہنچ گئی ہے ، سوویت یونین میں اندرون خانہ بڑی کھچڑی پک رہی تھی۔ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی افسر شاہی کے ہاتھوں بے بس تھی، ملک کی معیشت ابتر ہو چکی تھی۔ 

سوویت یونین میں سیاسی معاشی اور انتظامی بدامنی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ دکانوں کے آگے طویل قطاریں ڈبل روٹی اور پنیر کی خریداری کے لیے کھڑی ہوتی تھیں مگر روٹی، پنیر، آلو، گوشت اور دیگر اشیاء خوردونوش نایاب ہو چکی تھیں 1989ء میں روس میں دوسرا انقلاب برپا ہوا اور ایک درجن سے زائد وسطی ایشیائی اور مشرقی یورپی ریاستیں سوویت یونین سے الگ ہوگئیں۔ سوویت یونین منتشر ہو گیا اور اب روس رہ گیا ہے۔ مگر افغانستان کا جغرافیائی نقشہ ایسا ہی مگر سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر افغانستان شدید بے چینی اور ابتری کا شکار ہے۔ افغان طالبان جن کو دو عشرے قبل امریکہ، یورپی ممالک سمیت سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی حمایت حاصل رہی تھی روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ایک ایک کر کے سب چلے گئے۔ 

طالبان نے نائین الیون کے واقعہ یا سانحہ نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا جس میں القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن ملوث تھے پھر افغانستان پر امریکی بمباری کا سلسلہ شروع ہوا۔ امریکا نے طالبان سے اسامہ کو حوالہ کرنے کو کہا مگر طالبان نے امریکا کو ٹکا سا جواب دیا جس پر امریکا نے وہی کیا جو کرتا رہا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی، سپر پاور کو آخر بھاگنا پڑا وغیرہ، لیکن بعض امریکی اور یورپی سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایک طویل جنگ لڑی اور نو سو ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہوئے، کیا یہ سب امریکا نے ضائع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے امریکا نے اپنے درپردہ سیاسی، معاشی اور عسکری اہداف حاصل کر لئے۔ ویت نام وار کے لئے بھی امریکا کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ مگر غور کریں کہ ویت نام وار نہ ہوتی تو مشرق بعید تقریباً پورا سوشلسٹ بلاک بن جاتا۔ اس وقت روس کے ساتھ چین بھی شریک تھا۔ ویت نام کی جنگ نے جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ کی معیشتوں کو پر لگا دیئے تھے۔ خطے میں سرمایہ دارانہ نظام اور آمرانہ سیاست عام ہوئی اور امریکی اثرات میں اضافہ ہوا۔

افغانستان میں صورتحال ذرا مختلف تھی۔ طالبان کے مختلف دھڑے، مختلف مفادات پھر نسل، زبان ، علاقائی تفریق بھی آڑ ے آتی رہی۔ افغان طالبان میں اب واضح تفریق ہے۔ شمال اور جنوب پشتو، فارسی، ازبک اور تاجک وغیرہ، اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اربوں ڈالر کی امداد بدعنوانی، اقربا پروری اور لوٹ مار کی نذر ہو گئی عوام پہلے غریب تھے اب غریب تر ہیں، مگر امیر مزید امیر ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی خانہ جنگی میں دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ، لاکھوں اپاہج اور ہزاروں لاپتہ ہوگئے۔ چالیس برسوں سے جاری شورشوں، بدامنی، خانہ جنگی نے ملک کو کھنڈر بنا دیا۔ معاشرہ کو تباہ کردیا۔ یہ تماشہ سوشلسٹ انقلاب سے لے کر اسلامی انقلاب اور خلافت تک پر محیط ہے۔

2014ء میں پہلی بار افغانستان میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اس میں بھی سیکڑوں افراد مارے گئے۔ متحارب دھڑوں نے انتخابی عمل اور نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم جیسے تیسے شمال اور جنوب نے مل کر حکومت تشکیل دی جس کے تحت اشرف غنی صدر بن گئے۔ افغانستان میں مختلف قبائل ہیں، ان کے سرداروں کے اپنے اپنے علاقوں میں راج ہے ۔وفاقی حکومت ان کے رحم و کرم پر چلتی ہے۔ بڑے علاقے میں پوست کی کاشت ہوتی ہے۔ اس سے ہیروئن بنائی جاتی ہے اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ افغان وار یا جہاد کے دور میں یہ تکنیک اور میشن مجاہدین کو فراہم کی تھیں اور ایک عالم افغان چرس، افیون اور ہیروئن سے مستفید ہونے لگا۔ اس طرح منشیات اور ہتھیاروں کا ناجائز کاروبار ہر طرف پھیل گیا۔ 

افغان وار کے دور میں ہزاروں افغان پناہ گزین پاکستان آگئے اور یہ علت بھی ان کے ساتھ یہاں در آئی۔ پشاور اور کراچی کے گردونواح میں منشیات اور ناجائز ہتھیاروں کی منڈیاں قائم ہوگئیں۔ امریکی میڈیا نے کراچی میں سہراب گوٹھ کی افغان بستی کو ایشیا کی سب سے بڑی منشیات کی منڈی قرار دیا تھا۔ امریکا کے احتجاج پر کہ یہاں سے اسمگلنگ کے نئے راستے امریکا تک پہنچ رہے ہیں، بادل نخواستہ بستی پر آپریشن ہوا۔ اس کا بدلہ کراچی کے نہتے شہریوں سے علی گڑھ کالونی میں لیا گیا اس دوران کیا کچھ ہوا ان تلخ حقائق سے ایک زمانہ واقف ہے۔ افغان جہاد یا وار نے نہ صرف افغانستان کو شدید ترین نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اور اس کے بھیانک نتائج سامنے آئے۔

جاری حالات میں افغانستان میں بھارت بھی اپنا کام کر رہا ہے بھارتی حکومت افغانستان کی تعمیر نو میں اشرف غنی حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہے کہا جاتا ہے کہ بھارت افغانستان انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں ڈھائی ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ امریکا میں نئے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے کر اب طے کیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں میں امریکا کے علاوہ روس، چین، پاکستان، بھارت اور ایران کو بھی شامل کیا جائے۔ ایک طرح سے جو کچھ پاکستان کہتا رہا اب اس کی بات کو امریکا تسلیم کر رہا ہے۔ پاکستان نے پھر افغانستان میں اس کے لئے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ 

امریکی صدر جوبائیڈن کی خارجہ پالیسی یہی ہے کہ جو علاقائی تنازعات چلے آرہے ہیں ان کو اب حل کر لیا جائے کیونکہ انسانیت کو اب نئے نئے معرکوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کرہ ارض کا قدرتی ماحول، آب و ہوا، موسمی تغیرات، وبائی امراض سمیت جوہری ہتھیاروں کا پھیلائو اور عالمی معیشت میں انحطاط شامل ہیں۔ روس نے افغانستان میں قیام امن کے لئے کانفرنس کی میزبانی قبول کی اب آئندہ ماہ یہ کانفرنس ترکی میں متوقع ہے جس میں امریکہ، روس، چین ، پاکستان، ایران اور بھارت شریک ہوں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ افغان طالبان اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔عالمی صورتحال میں کسی بھی ملک کو کسی بھی مہم جوئی سے اجتناب برتنا چاہئے۔ اب دنیا نئے مہمات کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ 

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی