آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وبا کی تیسری لہر کی عفریت نے بدستورصوبائی دارلحکومت پشاور سمیت پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں ایک پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں اس کے وار جاری ہے اور کیسز کی تعداد میںکمی کی بجائے مسلسل اضافہ ریکارڈ کیاجارہاہے،وہاںوزیر اعلیٰ ہائوس خیبرپختونخوا بھی اس سے محفوظ نہیں رہا ،جہاں آخری اطلاعات آنے تک وزیر اعلیٰ ہائوس کے نصف درجن سے زائد ملازمین اس وائر س کا شکار ہوچکے ہیں مگرا س کے باوجود اس وبا کا پھیلائو روکنے کے لئے حکومتی احکامات پرعمل درآمد کے حوالے سےعوام نے انتہائی غیرسنجیدہ رویہ اپنا رکھا ہے۔

فیس ماسک استعمال کرتی نظر آتی ہے نہ ہی سماجی فاصلہ رکھنے کے احکامات پر عمل کررہے ہیں،تو دوسری طرف لانگ مارچ اور پارلیمنٹ سے استعفوں کے ایشوز پر سنگین اختلاف کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے سے حکمرانوں کے بعد مہنگائی اوربے روزگاری کے مارے عوام کی اپوزیش جماعتوں سے بھی وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں، تاہم ان اختلافات کے باوجود پی ڈی ایم کو دوبارہ متحر ک کرنے اور حکمرانوں کے خلاف کسی نئے معرکےکی تیاری کے لئے پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ن اور جے یو آئی پھر سے سرگرم ہو گئ ہیں اور پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتوں کےساتھ رابطوں کا آغاز کیا ہے ،اگر صوبے میں کورونا وبا کے اعداد وشمار پرنظر ڈالی جائے تو خیبرپختونخوا میں کورونا سے مزید35افراد جان سے گئے، محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں کورونا سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 2417ہوگئی ہے۔ 

جبکہ صوبے میں کورونا کے 1007 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیںجس کے بعد صوبے میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 90ہزار 262ہوگئی، اسی طرح صوبے میںاب تک کورونا کے484 مریض صحت یاب بھی ہوئے،جس کےبعد صحت یاب افراد کی تعداد 77ہزار 650وگئی ہے۔صوبائی حکومت نے کورونا پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر این سی او سی کے سفارشات کی روشنی میں اس وقت صوبے میں جزوی لاک ڈائون سمیت کئی ایس اوپیز کا نفاذ کیا ہے اور دفعہ 144کا نفا ذ بھی کیا جس کے بعد ہفتے میں دو دن یعنی ہفتہ اور اتوار کو کاروبا ر بند کرنے کے علاوہ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کیا گیا ہے،ہوٹلزاور ریسٹورانٹس سے صر ف ٹیک اوے کی سروس کی اجازت ہے ،تعلیمی اداروں اور شادی ہالوں کو بند کرکے ان ڈور اور آئوٹ ڈور تقاریب پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ شہریوں کے لئے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے مگر بازاروں اورٹرانسپورٹ کے علاوہ ہوٹلوں اور ریسٹورانٹس میں کورونا ایس اوپیز عمل درآمد نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔

اگرچہ کورونا ایس اوپیز کے خلاف ورزیوں کے خلاف مقامی انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران درجنوں شادی ہالزاور نجی تعلیمی ادراے سیل کرکے ان کی انتظامیہ کوگرفتار کیا جاچکا ہے،اسی طرح کئی دوکانداروں او رٹرانسپورٹ مالکان سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی پاداش میں ان سے لاکھو ں روپے کے جرمانے وصول کرنے کے علاوہ انہیں جیل بھی بھیجا جاچکا ہے مگر اس کے باوجود شہری بلاخوف خطر نہ صرف فیس ماسک کا استعمال نہیں کرتے بلکہ سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے پشاور سمیت صوبے کے کئی اضلاع میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، جس نے صورت حال کو مذید گھمبیر بنادیا ہے اور حکومت کو سمجھ نہیں کہ کیا کریں اگر زیادہ سختی سے کام لیاجاتا ہے تو لوگوں کا معاشی مسلہ مذید سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے کہ موجودہ صورت حال میں عوام اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں ،ایک طرف کورونا ایس او پیز کے تحت اجتماعات پر پابندی عائد ہے تو دوسری طرف صوبے بھر کی نرسنگ سٹاف نے تین روز تک اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل احتجاجی دھرنا دیا جس کی وجہ سے جہاں ہسپتالوں میں داخل مریضو ں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا دوسری طرف حکومت نے کورونا کے باعث ہسپتالوں میں او پی ڈی پر پابندی عائد کرکے عوام کو مذید مشکلات سے دوچارکیا گیا،احتجاج کرنے والی نرسز طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آرہی ہیں انہیں ان کے لئے سروس سٹرکچر کا اعلان کیا جائے مگر حکومت نے مسلسل حیلے بہانوں سے کام لیتی رہی جس نے صوبے بھر کی نرسز کو احتجاج پر مجبور کیا۔

اس کے علاوہ نرسز کو یہ بھی شکایت رہی کہ کورونا وبا کے خلاف فرنٹ لائن ورکرز ہونے کے باوجود انہیں کورونا سے بچائو کے لئے دوران ڈیوٹی مناسب سیفٹی کٹس فراہم نہیں کی جارہی ہیں جس سے ہرانہیں کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے، چونکہ نرسز تقریباًتمام مطالبات جائز تھے اس لئے حکومت نے انہیں حل کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے جس کےبعدانہوں نے تین روز دھرنا ختم کردیا ہے اب حکومت کو فرض ہے کہ ہسپتالوں کی ہمہ وقت مریضوں کی خدمت میں حاضر نرسنگ سٹاف کے جائز مطالبات کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے تاکہ وہ دوبار احتجاج کا راستہ اختیارکرنے پر مجبور نہ ہو،تاہم ایک طرف نرسز نے اپنا احتجاج ختم کیا تو دوسری طرف حکومت کے خلاف پھر سے احتجاج کی تیاریوں کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم جو استعفوں کے معاملے پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے، میں جان ڈالنے کے لئے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی پھر متحر ک ہوگئی ہیں اور مختلف اپوزیشن جماعتوں ے سیاسی رابطے شروع کئے ہیں۔ 

واضح رہے کہ مہنگائی ،بے روزگاری اور حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسوں کے مارے عوام نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔لیکن عوام کو اس سلسلے میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں اتفاق نہ ہونے سے ایسی دراڑیں پڑ گئی ہیں کہ اب ان کا اکٹھے ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔عوامی مسائل جوں کے توں ہیں، مہنگائی، بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ وفاق کے ذمے بجلی کے بقایا جات کی مد میں خیبر پختونخوا کے اربوں روپے کے واجبات تا حال ادا نہیں کیے گئے۔ جس کی وجہ سے گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کوئی کمی نہ آسکی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید