آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ18؍ربیع الاوّل1441ھ 16؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
لو لیجئے صدر زرداری کے پیر نے کہہ دیا ہے کہ وہ ایسی گوٹی فٹ کریں گے کہ زرداری مزید دو برس تک صدر رہیں گے۔ صدر سے میرا پانچ سال کا ٹھیکہ تھا کوئی انہیں ایوان صدر سے باہر نہیں کرسکا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پوری قوم بجلی کے بحران کی وجہ سے گھروں سے ساری ساری رات باہر بازاروں اور گلیوں میں رہتی ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر زرداری الیکشن میں سمندر کے قریب نہ جاتے تو پھر سندھ میں کبھی پیپلز پارٹی کی حکومت نہ ہوتی۔ سمندر سے انہیں سیپیاں اور موتی ملیں گے۔ پیر صاحب کے مشورے پر زرداری صاحب کو تو بہت کچھ مل گیا۔ قوم کو کیا ملا۔ صدر صاحب خود تو سمندر کے پاس جا کر بچ گئے اور قوم بے چاری اندھیروں کے سمندر میں ڈوب گئی۔
آج کے پیروں سے بڑی معذرت کے ساتھ عرض کروں کہ آپ بھی امیروں کے پیر ہیں۔ غریبوں کا کوئی پیر نہیں۔ کوئی نوازشریف اور کوئی شہباز شریف کا پیر ہے۔ تو کوئی عمران خان کا پیر ہے۔ کوئی صدر کا پیر ہے۔ اب سنا ہے کہ صدر کے پیر صاحب تردید کرتے پھیرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا آخر ان پیروں کو ملک کے دیگر مسائل سے کوئی دلچسپی کیوں نہیں؟ اسلام کہتا ہے کہ حقوق العباد کی بڑی اہمیت ہے۔ تو پھر یہ پیر صدر، وزراء اور وزیراعظم کے لیے تو دن رات چلے کاٹتے اور پتہ نہیں کیا کیا منتر کرتے رہتے ہیں۔ کوئی پیر لوڈشیڈنگ کیوں نہیں ختم

کراتا۔ کوئی پیر خسرے اور گیسٹرو کی وباء سے عوام کی جان کیوں نہیں چھڑاتا؟ یہ کیسے ہیں جن کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہاں بھئی انہیں بھوکے ننگے عوام آخر کیا دیں گے؟ جو پیرجس قدر امیر اور صاحب اقتدار کا پیر ہوگا۔ اس کو جو کچھ بغیر کہے وہ صاحب اقتدار دے سکتا ہے وہ بھلا بیماریوں، غربت، افلاس کے ستائے عوام کیا دیں گے؟ ان غریبوں کو دیکھ کر تو پیروں کے چہرے ہی اتر جاتے ہیں اور صاحب اقتدار کو دیکھ کر ان کے چہروں پر مسکراہٹیں آجاتی ہیں۔ ایک طرف وہ اولیاء کرام تھے جن کے در پر شہنشاہ ہند کئی کئی روز ان کے حجرے کے باہر بیٹھ کر ان سے ملاقات کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ ایک طرف آج کے پیر ہیں جو خود ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس جانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں اور پھر باہر آکر خود لوگوں کو بتانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ صدر نے بلایا تھا۔ وزیراعظم نے کھانے پر بلایا تھا۔ وزیراعلیٰ تو روز بلاتے ہیں۔ ایک طرف حضرت میاں میر ، حضرت علی ہجویری ، حضرت شاہ جمال ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ، حضرت نظام الدین اولیاء ، حضرت شاہ رکن عالم ، حضرت بہاؤالدین ذکریا  اور حضرت شاہ شمس تبریز  اور بی بی پاک دامناں جیسی صاحب کرامات ہستیاں تھیں جو کسی حکمران سے کبھی مرغوب نہ ہوئے۔
اگر پیر بھی کسی کو صاحب اقتدار بنا سکتے ہیں تو حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ تمام ملکر اپنے اپنے پیروں کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ اس ملک سے بیماری، بھوک، افلاس، لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور برائیوں کو دور کرنے کے لیے چلے کاٹیں۔ پھر تو بات بنتی ہے۔ اقتدار دلانے والے پیروں سے درخواست ہے کہ اس طرح قوم کو گمراہ نہ کریں۔ جس انسان کو اپنی ایک سانس پر اختیار نہیں وہ لوگوں کو پانچ سال کی گارنٹی کی باتیں بنا کر صرف اپنی مارکیٹنگ کررہا ہے۔ اللہ کی نیک ہستیاں اگر دعا بھی کرتی ہیں تو اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتی۔ بلکہ صاحب کرامت لوگ تو دنیا والوں سے چھپتے پھیرتے ہیں۔ ہم کچھ مزید نہیں کہتے ورنہ پیر اور پیروں کے ماننے والے کہیں ناراض نہ ہو جائیں۔ بس اتنا کہیں گے کہ کالا علم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے۔ صرف اتنا یاد رکھیں کہ ایک روز اس دنیا کے اصل اور حقیقی مالک کے سامنے سب علم کرنے والوں کو بھی پیش ہونا ہے۔
آج قارئین کی توجہ اور صاحب اقتدار کی ایک اہم مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن (پاکستان) نے اعلیٰ حکام اور عدالتوں کو آگاہ کیا ہے کہ گھی / آئل کے خالی کنستروں میں دوبارہ گھی /آئل کی پیکنگ جاری ہے۔ جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔جس سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس پر پابندی ہے۔ جبکہ سندھ اور دیگر صوبوں میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ گھی کے کنستروں کے لیے جو چادر باہر سے منگوائی جارہی ہے اس کوبھی چیک کیا جائے۔ استعمال شدہ گھی / آئل کے ڈبوں کا کاروبار وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ کراچی میں یہ کاروبار عروج پر ہے۔ اس ملک میں کئی غیر قانونی، غیر انسانی کاروبار عروج پر ہیں۔ ہسپتالوں سے استعمال شدہ سرنجیں، گلوکوز کی خالی بوتلیں، ڈراپ کی خالی بوتلیں لے جانے والوں سے کسی نے پوچھا ہے کہ یہ کہاں لے کر جارہو؟ اور اس کا استعمال کیا کرو گے؟ کوئی حکومتی اتھارٹی اس بارے میں فکر مند نہیں۔ کسی کو اس سے غرض نہیں۔ ہمارے ملک کے باسی سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے اور گرمیوں میں گرم پانی سے نہاتے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہو جاتی ہے۔ اور پانی گرم کرنے والے حمام کام نہیں کرتے چنانچہ ٹھنڈے پانی سے نہانا پڑتا ہے۔ پھر ایک دلچسپ اشتہار اخبارات میں سوئی گیس والے شائع کرتے ہیں کہ گیس کے ہیٹر کا استعمال نہ کریں۔ یہ آکسیجن کھا جاتا ہے۔ تو بھی واپڈا والوں کو چاہیے کہ وہ بھی گرمیوں میں ایک اشتہار شائع کرائیں جس میں لکھا ہو کہ کمرے میں پنکھے کا استعمال نہ کریں یہ باسی ہوا کو ہی کمرے میں گھوماتا رہتا ہے۔ جو صحت کے لیے مفید نہیں۔ کل کو یہ اشتہار بھی آسکتا ہے کہ گھروں سے باہر نہ آیا کریں سڑکوں پر آلودہ ہوا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ سردیوں میں گیس نہیں، گرمیوں میں بجلی نہیں اور پیر صاحبان جنتر منتر کر کے لوگوں کا اقتدار لمبا کررہے ہیں۔ خود کی سانس پر ایک سیکنڈ کا اختیار نہیں۔ آگے ہی اس ملک کے اخبارات کے صفحات اتوار کو کالا علم کرنے والوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کوئی قانون نہیں جو ان کالا علم کرنے والوں کو پکڑ سکے۔ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو چاہئے کہ وہ ایسے جعلی پیروں اور کالا علم کرنے والوں کے خلاف بھی کوئی قانون سازی کر ہی ڈالیں۔ ماضی میں ولایت اور انڈونیشیا میں کالا علم کرنے والوں کو جلا دیا جاتا تھا۔ جب ہم ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے ہیں تو پھر ہمیں کیا زیب دیتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے پاس جائیں۔ تمام جنترمنتروں کرنے والوں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم پر ایسا جادو کریں کہ وہ خود ہی کشمیر ہمارے حوالے کردے۔ امریکہ ”بہادر“ افغانستان اور ہمارے ملک کی جان چھوڑ دے۔فلسطین والوں کو اپنا ملک مل جائے۔ پھر تو مزہ ہے کہ جادو کرنے والوں نے کمال کردیا۔ خدارا لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔ صرف اس ذات پاک سے مانگیں جو دو جہانوں کا مالک ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہم سب اور تمام جنترمنتر کرنے والوں کی جان بھی ہے۔ زرداری صاحب کو دو سال مل بھی جائیں تو کیا روز قیامت آپ کو ان دو برسوں سے کوئی فائدہ مل جائے گا۔ صرف دعا ہی ہے جو آپ کو ہر عذاب اور آفت سے بچا سکتی ہے۔ غریبوں کی دعائیں لیں۔ کسی پیر و فقیر کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سچی دعا اور بددعا دونوں عرش پر جاتی ہیں اور اس دنیا میں کئی کئی صدیوں سے صرف ان اولیاء کرام کے نام نامی زندہ جاوید ہیں۔ جنہوں نے اسلام کے لیے بے لوث بغیر کسی معاوضے اور لالچ کے کام کیا اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جب تک اللہ کا حکم نہ ہو کوئی گوٹی فٹ نہیں ہوتی اور فٹ ہوئی گوٹیاں بھی باہر گر پڑتی ہیں۔