• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس، عالمی ادارہ صحت نے منڈیوں میں زندہ جانوروں کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کردیا

راچڈیل(ہارون مرزا)عالمی ادارہ صحت نے مستقبل میں وبائی امراض سے بچائو کیلئے فوڈ منڈیوں میں زندہ جانوروں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور چین کے مشترکہ تحقیقاتی مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین کے شہر ووہان کے بازار میں زندہ اور مردہ جانوروں کی ایک ہی جگہ فروخت وبائی بیماری پھیلنے کا ایک ممکنہ ذریعہ تھی۔، ڈبلیو ایچ او نے اس سے قبل بھی گیلی مارکیٹیں، کھانے کی فراہمی اور ملازمتوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کھلی رکھنے کی سفارش کی تھی مگر صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات کی بھی تنبیہ کی تھی، موجودہ صورتحال اور تحقیقی شواہد کی روشنی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہنگامی اقدامات کے تحت فوڈ منڈیوں میں پکڑے گئے جنگلی جانوروں سمیت زندہ جانوروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جانوروں خاص طور پر جنگلی جانور انسانوں میں ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کا 70 فیصد سے زیادہ کا وسیلہ بنتے ہیں، جن سے مختلف وائرس جنم لے سکتے ہیں، روایتی بازار جہاں زندہ جانور رکھے جاتے ہیں اور جہاں ذبح کیے جاتے ہیں وہاں کارکنوں اور صارفین کو ایک جیسے پیتھوجین کی منتقلی کا خاص خطرہ لاحق ہوتا ہے، ڈبلیو ایچ او نے اپنے ماہرین کے ووہان کے گذشتہ سال کے دورے کے بعد وبائی وبائی بیماری کے ایک ممکنہ ذریعہ کے طور پر فوکس مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں انہوں نے چینیوں کی جانب سے دیئے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بیماری کسی لیب سے بچ جانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے، انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک جانور کووویڈ سے پیدا ہوا تھا،سائنسدان اگر چہ نتائج پر شکوک وشبہات کا شکار ہیں مگر ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ میں کیے گئے خدشات کو یکسر طور پر مستردبھی نہیں کیا جا سکا ۔

تازہ ترین