وکلاء کو صبر و قناعت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے، امان کنرانی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وکلاء کو صبر و قناعت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے، امان کنرانی

کوئٹہ(پ ر) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر و سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ مجھے سوشل میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان سے منتخب پاکستان و بلوچستان بار کونسل کے اراکین نے اپنی نمائندہ حیثیت میں ایک ایسے وفاقی وزیر سے ملاقات کرکے اپنے معاملات اس کے سامنے پیش کئے ہیں جس کے کردار پر وکلاء تنظیموں کی طرف سے مجموعی طور پر باالعموم جبکہ عدلیہ کی آزادی کو قدغن لگانے،آئین کی حکمرانی میں روڑے اٹکانے،بلوچستان کےمستقبل میں چیف جسٹس کے حق سے محرومی میں وہ اس وقت عدالت عظمی میں فریق ہیں بلکہ خصوصی طور پرذمہ دار ہیں اس موقع پر وکلاء نمائندوں کی ملاقات بے وقت اور غلط فہمی کو جنم دینے کا باعث ہوگا،ہم اس کے برعکس قومی مفادات،بلوچستان کےمستقبل کے چیف جسٹس پاکستان کے حق کی حفاظت وآئین کی بالادستی،عدلیہ کی آزادی و حُرمت،وقار کے تحفظ میں بلوچستان سے سپریم کورٹ میں واحد جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کردار کے پیچھے کھڑے ہیں جس کی توانا آواز قوم کے اندرحوصلے کو بڑھانے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اس لئے وکلاء کو جلد بازی کی بجائے صبر و قناعت،خودداری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے وقت پر وکلاء مسائل بھی حل ہوں گے قوم کو ایک منصفانہ،آزادانہ ماحول میں یکساں مواقع بھی ملیں گے۔
کوئٹہ سے مزید