40سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ذیابیطس سے محفوظ رکھنے کیلئے آن لائن مہم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

40سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ذیابیطس سے محفوظ رکھنے کیلئے آن لائن مہم

لندن (پی اے) این ایچ ایس کی جانب سے40سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کوذیابیطس ٹائپ ٹو سے محفوظ رکھنے کیلئے مدد کی فراہمی کیلئے آن لائن مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت ذیابیطس سے بچائو کیلئے طرز زندگی میں تبدیلی لانے اور صحت مندانہ عادتیں اپنانے کے حوالے سے سپورٹ کی پیشکش کی جائے گی، لاکھوں افراد تک رسائی کیلئے اس مہم کیلئے فیس بک کا پلیٹ فارم استعمال کیا جائے گا۔ اس حوالے سے تیار کئے گئے اشتہارات میں اس عمر کے سفید فام افراد کو ذیابیطس کے خطرات زیادہ ہونے کے بارے میں آگہی کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس مہم کے دوران لوگوں کو زیادہ صحت مند آپ این ایچ ایس ذیابیطس سے بچائو پروگرام میں شمولیت کی ترغیب دی جائے گی۔ این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے پہلے ہی لاکھوں افراد استفادہ کرچکے ہیں اور فی الوقت این ایچ ایس کے طویل المیعاد پلان کے تحت ہر سال 200,000 مقامات دستیاب ہوتے ہیں۔اس پروگرام کے تحت ہیلتھ سروس اگلے 3 ہفتوں کے دوران فیس بک کے اسپانسرڈ پروگرام کی پوری سیریز پوسٹ کرے گا جو استعمال کرنے والے ذیابیطس کے بارے میں سوال وجواب کے بعد ایک کلک کے ذریعے کھول سکیں گے۔ اگر اس میں شرکت کرنے والوں کا سکور بہت زیادہ یا متناسب ہوگا انھیں فاصلاتی طور پر یا آن لائن سپورٹ کیلئے لوکل سروس کو ریفر کیا جاسکے گا، یہ مہم اس ریسرچ رپورٹ کے بعد شروع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے مریض کورونا کاشکا ر ہوجائیں تو ان کی اموات کی شرح کورونا کے عام مریضوں کے مقابلے میں دگنی ہوتی ہے۔ یہ مہم گزشتہ سال اگست میں سیاہ فام اور جنوبی ایشیائی کمیونٹیز کیلئے جو کہ 25 سال کی عمر ہی سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے سے دوچارہوتے ہیں چلائی گئی آگہی مہم کی کامیابی کے بعد شروع کی گئی ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ میں ذیابیطس اورموٹاپے سے متعلق نیشنل کلینکل ڈائریکٹر پروفیسر جوناتھن ولبھ جی کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح شواہد موجودہیں کہ موٹاپا اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ سے ہم میں سے بہت سوں کو کورونا کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خاص طورپر 40 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کوباقاعدگی سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لئے انھیں باقاعدگی سے اپنا ٹیسٹ کرانا چاہئے تاکہ صحیح رہنمائی اور سپورٹ حاصل ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ اب جبکہ معمولات زندگی بحال ہورہے ہیں صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں ہوسکتا اور مزید لوگوں کو ایسا کرنے میں مدد دینا چاہتے ہیں۔ پبلک ہیلتھ سے متعلق وزیر جو چرچل نے کہا ہے کہ ہم ایک صحت مند قوم کے متمنی ہیں اور موٹاپا صحت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے اور کورونا کی وجہ سے فوری طور پر اس حوالے سے قدم اٹھانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے، خاص طورپر 40 سال عمر کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس سے کیونکر بچا جا سکتا ہے۔ خود کو لاحق خطرات چیک کرنے اور اس کیلئے کچھ کرنے کایہ بہترین وقت ہے، حکومت لوگوں کو صحت مندانہ وزن برقرر رکھنے میں مدد دینے کیلئے 100 ملین پونڈ فراہم کرنے کااعلان کرچکی ہے۔ مل جل کر کام کر کے ہم صحت مندانہ وزن کی حکمت عملی کے اہداف حاصل کرسکتے ہیں او ر 2030 تک موٹاپے کے شکار متوقع بچوں کی تعداد میں 50 فیصد تک کمی کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید