کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کیساتھ کامیاب مذاکرات کی روشنی میں پارٹی پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔ دوسری جانب چیئرمین قران بورڈ پنجاب کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک ایک ماہ کے اندر پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے معاملے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں علی محمد خان نے کہا کہ ضروری معاملات کی انجام دہی کے بعد اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن بالآخر پابندی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حکومت نے صورت حال پر قابو پایا، ʼ اگر تنازع کو پرامن انداز میں حل نہیں کیا جاتا تو حالات مزید خراب ہوسکتے تھے ʼ۔ وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ حکومت کسی دباؤ میں نہیں آئی اور ریاست کو کوئی بھی شخص اس طرح کے حالات سے دوچار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے کہ معاملے پر پارلیمان میں بحث ہوگی اور فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔علاوہ ازیں چیئرمین قران بورڈ پنجاب کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ تحریک لبیک ایک ماہ کے اندر پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے معاملے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔ حامد رضا نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان کسی قسم کی ڈیڈ لاک پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین میں املاک کو جلانے والوں کی نشاندہی کرنے پر اتفاق رائے موجود ہے، املاک کو جلانے والوں کی شناخت کرکے بے نقاب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ کالعدم تحریک لبیک کی قیادت کریگی۔ ہم نے اس معاہدے میں ثالث کا رول اور گارنٹی بھی دی ہے۔ پارٹی پر پابندی کے حوالے سے ہمیں مکمل میرٹ پر فیصلے کی گارنٹی دی گئی ہے۔ ٹی ایل پی اپنی تمام جنگ آئینی اور قانونی طور پرلڑنا چاہتی ہے۔