کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو ڈیٹا سے متعلق جواب کے لیے مہلت دیتے ہوئے حساس ڈیٹا سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیدیا۔ منگل کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا فروخت کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی وزارت اطلاعات نے اپنا جواب جمع کرا دیا۔ وفاقی وزارت اطلاعات نے بتایا کہ قانون سازی کی جا رہی ہے۔ قانون سازی کا ڈرافٹ تقریبا تیار کر لیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔ ابھی تک کوئی نیشنل سائبر پالیسی نہیں۔ سائبر سے متعلق پاکستان میں چار بڑے واقعات ہو چکے۔ کوئی مزید بڑا واقعہ ہوگیا تو قانونی تحفظ ہی نہیں ہوگا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے قانون سازی میں؟ ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔ دو سے تین ماہ میں مکمل قانون سازی کر لیں گے۔ قانونی ڈرافٹ کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ڈیٹا سے متعلق جواب کے لیے مہلت دے دی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو حساس ڈیٹا سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیدیا۔ قبل ازیں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ حساس ڈیٹا فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈیٹا ڈارک ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا۔ حساس ڈیٹا 35 کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ موبائل صارفین کا شناختی کارڈ نمبرز، مکمل ایڈریس فون نمبر و دیگر ڈیٹا شامل۔ متعلقہ حکام کو حساس ڈیٹا فروخت کرنے سے روکا جائے۔