• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حقیقت یہ ہے کہ مستقبل ہر بار انسان کو حیران کرتا آیا ہے۔ اگر شعبہ تعلیم کی بات کریں تو 2020ء سے قبل اسکول کھُلے ہوئے تھے، اساتذہ روایتی فیس-ٹو-فیس تعلیمی ماحول میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے تھے، طلبا وقفہ کے اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھیل اور موج مستی میں مصروف تھے، تاہم 2020ء کے آتے ہی یہ ساری باتیں ماضی کا حصہ بن گئیں اور کورونا وبائی مرض نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ایسے میں دنیا کے نظامِ تعلیم کے لیے ہمارا ویژن کیا ہونا چاہیے اور اسے ہم مستقبل کے لیے کس طرح تیار کرسکتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں ناصرف ان تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا ہے جو ممکنہ طور پر آسکتی ہیں بلکہ ان تبدیلیوں کے لیے بھی تیار ہونے کی ضرورت ہے، جن کی ابھی کوئی توقع نہیں کررہا۔

اسکولوں کے مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ 

اقتصادی تعاون تنظیم (او ای سی ڈی) نے اسکولوں کے مستقبل کے مختلف ممکنہ منظرنامے کھینچے ہیں اور اسی مناسبت سے متبادل تجاویز پیش کی ہیں۔

اسکول کی تعلیم موجودہ شکل میں جاری رہتی ہے۔ رسمی اور باضابطہ (فارمل) نظامِ تعلیم ناصرف جاری رہتا ہے بلکہ اس میں اضافے کا رجحان بھی جاری رہتا ہے۔ بین الاقوامی اشتراک اور ٹیکنالوجی کی جدت کے باعث انفرادی حصولِ تعلیم کی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ رسمی اور باقاعدہ نظامِ تعلیم کے خدوخال اور طریقہ کار برقرار رہتا ہے۔

تعلیم کی آؤٹ سورسنگ

معاشرہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے براہِ راست میدان میں اُتر آتا ہے اور باضابطہ اسکولنگ کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم ایک متنوع، نجی اور لچکدار انتظام کے تحت حاصل کی جاتی ہے۔

اسکول بطور تربیتی مرکز

اسکول اپنی موجودہ ساخت میں برقرار رہتے ہیں لیکن تنوع اور نئے تجربات کرنا ایک روایت بن چکی ہے۔ اسکولوں کی دیواریں ختم ہوجاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اسکولوں کا کمیونٹیز کے ساتھ رابطہ بڑھ جاتا ہے اور سیکھنے، شہری اشتراک اور سماجی اختراع کے نت نئے طریقے سامنے آتے ہیں۔

چلتے پھرتے تعلیم کا حصول

ہر وقت اور ہر جگہ تعلیم کا حصول ممکن ہے۔ باضابطہ اور غیر رسمی تعلیمی نظام کے درمیان فرق ختم ہوجاتا ہے کیونکہ معاشرہ مشین کی طاقت کے استعمال کی طرف جاچکا ہے۔

نئی سوچ تخلیق کرنا

بنیادی سوال یہ ہے: اسکول کی تعلیم کا موجودہ نظام کس حد تک تعلیم کے مستقبل کے لیے ہمارے ویژن کے حصول میں معاون یا رکاوٹ ثابت ہورہا ہے؟ کیا موجودہ نظام تعلیم کی تزئین ِ نو اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوگی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اہداف کے حصول کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کرنے کی بجائے صرف کھڑکیوں اور دروازوں کو تبدیل کردیا جائے؟ کیا نظامِ تعلیم میں لوگوں، جگہ، وقت اور ٹیکنالوجی کو منظم رکھنے کے لیے ایک مکمل طور پر نئی سوچ کی ضرورت ہے؟

موجودہ تعلیمی نظام کو جاری رکھنے اور اس میں جدت پیدا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نظامِ تعلیم میں یکساں معیارات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسے صرف موجودہ تعلیمی نظام کے تحت استعمال کیا جاتا ہے، جس کا مقصد روایتی نصاب کی ترسیل ہوتا ہے، اسے نظامِ تعلیم میں انقلاب برپا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا۔تعلیم کے مستقبل کے ان تمام منظرناموں کے تعلیم کی گورننس اور مستقبل کی افرادی قوت کو تربیت فراہم کرنے پر اثرات مرتب ہوں گے۔ کئی ممالک میں اسکولنگ سسٹم نئے شراکت داروں ، مرکز سے مقامی گورننس کی طرف اور تیزی سے بین الاقوامیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ہم تعلیم کے مستقبل کے لیے لاتعداد ممکنہ منظرنامے کھینچ سکتے ہیں۔ درحقیقت، تعلیم کا مستقبل ان میں سے کئی خصوصیات کا امتزاج بھی ہوسکتا ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کی ہئیت مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود، ممکنہ منظرناموں پر بحث کے ذریعے ہم کچھ نتائج پر ضرور پہنچ سکتے ہیں، جن سے سیکھتے ہوئے ہم خود کو اپنے آج اور اپنے مستقبل کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔

تعلیم کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے تصور، تخیل اور جذبہ درکار ہے۔ ہمیں یہ نہیں کرنا کہ چونکہ ہمیں ایسا مستقبل پسند ہے، اس لیے اس کی خواہش کریں اور صرف اسی کے لیے تیاری کریں۔ ایک ایسی دنیا، جہاں توقع کی جارہی ہے کہ کورونا وبائی مرض اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث موسموں کی سختی،سماجی بے چینی اور سیاسی پولرائزیشن مزید بڑھے گی، ہم کسی بھی غیرمتوقع صورتِ حال کے لیے خود کو تیار نہ رکھنے کی استعداد نہیں رکھتے۔

یہ مایوسی کی گونج نہیں ہے بلکہ یہ کچھ کرگزرنے کے لیے وقت کی بروقت آواز ہے۔ ہم اپنی پوری زندگی کے دوران سیکھنے اور آگے بڑھنے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہمیں تعلیم کو عوامی بہبود کے ایک اہم ترین ذریعے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، چاہے مستقبل میں اس کا حصول کسی بھی صورت میں ممکن ہو۔